حادثے تو ہوتے رہتے ہیں
- تحریر عبدالرحمان شیخ
- جمعہ 17 / فروری / 2017
- 4712
سانحہ ، حادثہ ، واقعہ ، دھماکہ اور ان ک علاوہ قربانی کے الفاظ بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں. لاہور مال روڈ اور لعل شہباز قلندر کے مزار کے دھماکے یقیناً ایک افسوس ناک خبر ہے. لیکن اب اس کا افسوس کب تک منایا جائے گا۔ جب جب ایک ماں کو دھماکے میں شہید ہو جانے والا بیٹا یاد آئے گا، جب ایک بہن کو اس کا بھائی، ایک بیوی کو خاوند اور بچوں کو اپنا باپ یاد آئے گا. جب کبھی زندگی باپ کے بنا مشکل لگے گی، جب کبھی اسکول کی فیس ادا نہ ہوگی، جب کبھی عید کی نماز کے بعد باپ کو عید نہ مل سکے گا ، جب بہن کی شادی پر باپ نہ ہوگا اور خاص طور پر تب جب دنیا میں بنا مقصد کے کوئی محبّت کرنے والا نہ ہوگا ۔۔۔۔ اس کا افسوس تب تک منایا جائے گا.
تب کسی حکمران کا نیشنل ایکشن پلان فضول لگے گا، وزراء کی مذمتیں بے مقصد ہوں گی، یہاں تک کہ کھانا کھانا بھی محال ہوگا. لیکن افسوس کہوں یا شامت، ایک وزیر صاحب نے بہترین الفاظ کہے الله ان کی اور ان کے خاندان کی حفاظت فرمائے۔ وزیر صاحب کہتے ہیںِ حادثے تو ہوتے رہتے ہیں. کیا یہ حادثہ نہیں تھا کے عوام نے آپ کو اپنا حکمران چن لیا اور یہ حادثہ بارہا ہوا. مستقبل میں بھی شاید یہ حادثہ ضرور ہو.
کہیں کوئی چینل سب سے پہلے خبر پہنچانے کی دوڑ میں بازی لے گیا۔ کسی نے تیرہ شہید بتائے، کسی نے 16 اور کسی نے اس میں اچانک اضافہ کی خبر دے کر دوسرے چینلز کو مات دینے کی کوشش کی۔. کسی کا رپورٹر حادثے کے عین قریب تھا۔ کسی کا نمائیندہ خبر دیتے ہوئے زخمی ہو گیا تھا۔ بعض رپورٹر بہت دور تھے. لیکن خبر تو سب کے پاس تھی. اب اتنے بڑے حادثے کے بعد حکومت اور ذمہ داران کن سوچوں میں مبتلا ہوئے وه بھی قابل ستائش تھیں۔ ان میں ایک اہم مسئلہ یہ تھا کہ کوئی ویلنٹاین ڈے نہ منائے۔ تمام پولیس کو اس کی روک تھام کے لئے لگایا جائے۔ جو باقی بچ جائے وه انہی وزراء کے ساتھ ان کی حفاظت کرے کیوں کہ حادثے تو ہوتے رہتے ہیں.
اس کے علاوہ لاہور کے عوام سے رائے لی جائے کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں کروایا جائے یا نہ کروایا جائے۔ اب جس لاہور شہر کے وسط میں بم دھماکہ ہوا اور ان کے پیارے خدا کو پیارے ہو گئے، وه لوگ ضرور پاکستان سپر لیگ کے بارے میں رائے دیں گے کیوں کہ حادثے تو ہوتے رہتے ہیں.
خدا آپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو.