کالعدم جماعت الاحرار کی دہشتگردیاں

مہمند ایجنسی میں اگست 2014 میں دہشتگردوں کی تنظیم  کالعدم تحریک طالبان  پاکستان  (ٹی ٹی پی) سے علیدہ  ہوکر’’جماعت الاحرار الہند” کے نام سے ایک  نئی دہشتگرد تنظیم وجود میں آئی۔ بعد میں اس  دہشتگرد تنظیم کو ’’ جماعت الاحرار‘‘ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ اس تنظیم کی قیادت مولوی محمد عمر قاسمی کررہا تھا جو کہ لشکر جھنگوی العالمی کا سربراہ بھی بتایا جاتا تھا۔ مولوی عمر قاسمی سپاہ صحابہ پاکستان کی رکنیت کے بعدمنظر عام پر آیا تھا اور اسے عمر خالدخراسانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جماعت الاحرار پاک افغان سرحدی علاقوں میں سرگرم ایک شدت پسند تنظیم ہے۔ اس تنظیم کے کارکن  خیبر ایجنسی، مہمند ایجنسی اور افغانستان میں پاکستانی سرحد کے ساتھ پائے جانے والے علاقوں میں موجود ہیں،  جبکہ اس جماعت کے سہولت کار اور انٹیلی جنس نیٹ ورک پورے پاکستان کے اندر پھیلا ہوا ہے۔

دہشتگرد تنظیم جماعت الاحرار کی ویب سائٹ پہ جاکر یہ پتہ چلتا ہے کہ اس تنظیم کے روابط ایک طرف تو داعش کے نام سے سرگرم  دہشتگردوں سے ہیں جبکہ تحریک طالبان افغانستان و تحریک طالبان پاکستان کے دیگر دھڑوں سے بھی اس کے تعلقات اور باہمی تعاون کا سراغ ملتا ہے۔ کالعدم اہلسنت والجماعت اور سپاہ صحابہ پاکستان کے ڈیتھ اسکواڈ لشکر جھنگوی سے بھی اس کے تعلقات بہت مضبوط نظر آتے ہیں۔ جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے مارچ 2015 میں داعش خراسان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کے امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ جماعت الاحرار کو شاہد اللہ شاہد کی ہلاکت پہ شدید دکھ ہے۔ اور ان کی تنظیم تحریک طالبان افغانستان اور اسلامک سٹیٹ خراسان کے درمیان ننگرہار افغانستان میں جاری خانہ جنگی کو بند کرانے اور مختلف جہادی دھڑوں کے درمیان اختلافات ختم کرانے کی کوشش کررہی ہے۔ جماعت الاحرار کی جانب سے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی سے بیعت کا اعلان بھی سامنے آیا تھا۔ کراچی  میں سی آئی ڈی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ القاعدہ برصغیر ہند کے نام سے کراچی میں سرگرم گروہ کے رابطے بھی جماعت الاحرار کے ساتھ پائے گئے ہيں۔

دہشتگرد تنظیم جماعت الاحرار نے اب تک زیادہ تر کاروائیاں پاکستان کے اندر کی ہیں اور اس جماعت نے پاکستان کے چاروں صوبوں اورقبائلی ایجنسیوں میں دہشتگردی کی وارداتیں کرنے کا اعتراف کیا ہے۔  یہ تنظیم عام شہریوں کے علاوہ مذہبی اقلیتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاک فوج کے جوانوں کو  دہشتگرد حملوں کا نشانہ بناتے  ہیں۔ اس تنظیم نے ہی 13 فروری  2017 کی  شام کو لاہور میں پنجاب اسمبلی کے قریب مال روڈ پر چیئرنگ کراس کے مقام ایک خود کش حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس سانحہ میں 7 پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد جاں بحق اور84 سے زیادہ لوگ زخمی  ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال 27 مارچ 2016 کو بھی  تنظیم جماعت الاحرار نے عیسائیوں کے تہوار ایسٹر کے موقع پر گلشن اقبال پارک کے دروازے پر ایک خودکش حملہ کروایا جس میں 74 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ان میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ 100 سے زیادہ زخمی بھی تھے۔ اس  کے  علاوہ وارسک کالونی، مردان کچہری، کوئٹہ سول ہسپتال، لاہور میں بڈھ بیر کیمپ، کراچی میں فوجی گاڑیوں اورلاہور میں واہگہ باڈرپر ہونے والی دہشت گرد حملوں اورپشاور میں تین  فوجی اہلکاروں کو قتل کرنے کی  زمہ داری بھی  اسی دہشتگرد تنظیم جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔

لاہور کی حالیہ  دہشتگردی کے بعد  جماعت الاحرار نے ایک ویڈیو پیغام  میں مسلح حملوں کی ایک نئی لہر کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ملک میں دہشت گردی کے ایک نئے سلسلے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ جماعت الاحرار کے دہشتگردوں نے اپنے اس آپریشن کو لال مسجد کے غازی عبدالرشید سے موسوم کیا ہے۔  اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کی ان نئی عسکری کارروائیوں کا ہدف پاکستانی فوج، پارلیمنٹ، عدلیہ، پولیس اور حکومتی خفیہ اداروں کے علاوہ کئی دیگر سرکاری اور غیر سرکاری ادارے بھی ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق جماعت الاحرار کے نئے ویڈیو پیغام سے ملک میں دہشتگردی کی ایک نئی لہر کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ تاہم لال مسجد کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’جماعت الاحرار کا لال مسجد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ بھارتی ایجنسی ’را‘ کے لیے کام کرتی ہے اور بے گناہ پاکستانیوں کو ہلاک کرتی ہے ۔ غازی عبدالرشید کے ساتھ نام سے نسبت کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں‘‘۔

پیر 13 فروری کو لاہور میں ہونے والی دہشتگردی کے بعد تووزیراعظم نوازشریف نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ لاہورمیں ناقص سکیورٹی کی وجہ سے دہشتگرد اپنے ارادوں  میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کہہ تو رہے ہیں  کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رہیں گی۔ جبکہ جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ دہشت گردوں، ان کے آقاؤں، منصوبہ سازوں اور ان کی مالی معاونت کرنے والوں کو ملک بھر سے ڈھونڈ نکالا جائے گا اور ان کا احتساب کیا جائے گا۔ یکم جنوری 2016 کو پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پوری قوم کو یقین دلایا تھا کہ ’’2016 دہشت گردی کا آخری سال ہوگا‘‘۔ راحیل شریف کی اس یقین دہانی کے بعد 9 جنوری 2016 کووزیراعظم نواز شریف کا کہنا  تھا کہ دہشت گردی ختم ہوگئی ہےصرف دُم باقی رہ گئی ہے۔

پاکستانی سیکورٹی فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیز دہشتگردوں اور ان کی تنظیموں کے خلاف آپریشن کرنے میں مصروف ہیں۔ اکثر پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر ، وفاقی حکومت کے ترجمان ادارے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پریس کانفرنسز میں عوام کو بتایا جاتا ہے کہ ہم نے ’’دہشت گردوں کی کمر توڑی دی ہے‘‘۔ لیکن ایسے ہر اعلان کے کچھ عرصے بعد ہی دہشتگرد ایک بڑی دہشتگردی میں کامیاب ہوجاتے ہیں  اور ان سرکاری اداروں کےدعوؤں  پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔  سوال کیا جاتا ہے کہ ’’کیا واقعی دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے‘‘۔ مشکلات کا شکارپاکستانی عوام کا کہنا ہے کہ ہر دہشتگردی کے بعد جس گھر سے بھی جنازہ اٹھتا ہے اس گھر کی مکینوں کی کمر تو لازمی ٹوٹتی ہے۔

افسوس اس کالم کے ختم ہونے سے پہلے  ہی دہشتگردی کی ایک اور خبر آگئی ہے کہ سہون شریف میں جب لال شہباز قلندر کے مزار پر دھمال ہورہا تھا ، اس میں  ایک خود کش  دھماکہ ہوا ہے۔ کافی تعداد میں لوگوں کے مرنے  اور زخمی  ہونے کی اطلاعات ہیں۔