دنیا کا زمانہ اور ہمارا پاناما
- تحریر مختار چوہدری
- جمعہ 17 / فروری / 2017
- 5073
ایک ٹی وی چینل پر پرجوش پریس کانفرنس چل رہی ہے جس میں دانیال عزیز پر جوش انداز میں خطاب فرما رہے ہیں۔ وہ عمران خان کے لتے لینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی عدالت عظمی کو قانون بھی سکھا رہے ہیں۔ ان سے کچھ دیر پہلے ایک محترمہ جن کا نام مریم اورنگزیب ہے، بھی طبع آزمائی فرما چکی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان دونوں کے بعد طلال چوہدری بھی جلوہ افروز ہوں۔ یقین ہے کہ پاکستان کے انتہائی شہرت یافتہ سیاسی شخصیت اور کرکٹ کی تاریخ کے بے تاج بادشاہ عمران خان بھی ان لوگوں سے بھی زیادہ زوردار پریس کانفرنس کریں گے اور عدالت کو یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ وزیراعظم کو سزا دے کر اقتدار سے الگ کرنے کے سوا عدالت کے پاس کوئی اور راستہ ہی نہیں ہے۔
لیجیے ابھی ابھی ایک اور صاحب اچانک نمودار ہو گئے ہیں اور ان کا نام فواد چوہدری ہے اور یہ صاحب 3 سال میں 3 جماعتیں بھی پڑھ چکے ہیں اور اب یہ پاکستان اور پاکستان کی اعلی عدالت کو پڑھا رہے ہیں۔ ظاہر ہے ان سے زیادہ علم کس کے پاس ہوگا کیوں کہ یہ پچھلے چند سالوں میں پرویز مشرف، پی پی پی اور پی ٹی آئی کو بہت کچھ پڑھا چکے ہیں۔ اول الذکر تینوں شخصیات مملکت خداداد پاکستان کے وفاقی وزرا ہیں اور شاید ان پر پاکستان اور پاکستانی عوام کے مسائل حل کرنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہے۔ ان کو اسی مقصد کے لیے یہ منصب تفویض ہوئے ہیں۔ لیکن یہ اپنی ساری توانائیاں ایک ایسے مقدمے میں صرف کر رہے ہیں جو نہ تو ان کا مقدمہ ہے، جس میں یہ لوگ مدعا علیہ ہیں نہ مدعی اور نہ اس معاملہ میں وکیل ہیں تو پھر یہ کیا ہے۔ کوئی ہے جو مجھ ناسمجھ کو دنیا کے کسی ملک کی کوئی ایسی مثال نکال دے جہاں ایسا ہوتا ہو۔ یہ پاناما لیکس کیا صرف پاکستان کے متعلق ہی تھیں۔ کیا ان لیکس میں بیسیوں ممالک کی شخصیات کے نام نہیں آئے تھے۔ کیا کسی اور ملک میں بھی ایسا تماشا برپا ہے۔ نہیں۔ تو پھر ہماری ہی قسمت کیوں پھوٹی ہے۔ ہماری حکومت کی ترجیحات کیا ہیں۔ ہماری عدالتوں کا کام صرف ریمارکس تک ہی محدود رہ گیا ہے یا پھر نظریہ ضرورت ابھی تک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ (یاد رہے کہ میں سیاسی موضوعات پر نہیں لکھتا اور نہ اس پر لکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ میرے وطن میں اور بھی کئی غم ہیں سیاست کے سوا) لیکن آئے روز کی اس بک بک سے تنگ آچکا تھا اور اپنا دوسرا آدھا لکھا ہوا کالم چھوڑ کر اس پر لکھنے بیٹھ گیا ہوں۔
آپ خود اندازہ لگا لیں کہ دنیا کہاں پہنچ چکی اور ہم پاناما میں پھنسے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ ناسا کی مریخ پر موجود ایک گاڑی روزانہ کی بنیاد پر اس دور دراز سیارے سے تصویریں بھیج رہی ہے اور یہ سلسلہ ابھی مزید 10 سال تک جاری رہے گا۔ یہ سب زمین کے علاوہ دوسرے سیاروں پر زندگی کے آثار ڈھونڈنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں نت نئے تجربات اور ایجادات کرنے میں مصروف ہے اور آئے دن حیرت انگیز ایجادات متعارف کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری طرف ہم ہیں۔ جن کی 21 ویں صدی کے پہلے اور دوسرے عشرے کی تاریخ لکھنے والا مورخ شاید یہ لکھے گاِ " پرویز مشرف کا ریفرنڈم ، وردی میں صدر، این آر او اور 2007 کی ایمرجنسی۔ پھر پی پی پی کے دور کی ججز بحالی، این آر او کا مقدمہ، سویزرلینڈ کے اکاؤنٹ، رینٹل پاورز اور میموگیٹ وغیرہ یا پھر مفاہمت کی سیاست، اس کے بعد 2013 کے دھاندلی زدہ انتخابات، دہشت گردوں سے مذاکرات اور مذاکرات کرنے والی کمیٹیوں کے لیے ہیلی کاپٹر، نندی پور پاور پلانٹ، جنگلہ بس، دھرنا اور پاناما لیکس وغیرہ وغیرہ“
یہ ہے ہماری 21 ویں صدی کی تاریخ ۔ نہ ملک میں رواداری کی طرف دھیان، نہ مزدوروں کی مزدوری اور ان کی حالت پر بحث، نہ عورتوں کے حقوق کا تحفظ، نہ ٹریفک کی ترتیب، نہ اپنے فرسودہ، گھٹیا، ناہموار اور تربیت سے خالی تعلیمی نظام کی خبر، نہ عوام کی بگڑتی جسمانی اور ذہنی صحت کی فکر، نہ اپنے بدعنوان اور جوں کی چال چلتے انصاف پر اظہار خیال، نہ کھیلوں کے اجڑے اور ناپید میدانوں پر نظر، نہ عوام کے اندر سرایت کر جانے والی برائیوں کا کوئی اعتراف۔ ہمارے لیڈر اور اشرافیہ کو اپنے پاسپورٹ کی گرتی ہوئی اہمیت سے کوئی سروکار اور نہ عالمی برادری میں گرتی ہوئی ساکھ کی پرواہ، پوری دنیا میں پاکستانی ارزاں ہیں۔ ہمارے میڈیا کے ایشوز کیا ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کی سوچ کیا ہے۔ ہماری عدالتوں کے جج صاحبان کا نظریہ کیا ہے۔ ہماری بیوروکریسی کس کے لیے کام کرتی ہے۔ ہمارے وزراء ملک کے وزراء ہیں یا میاں خاندان کے معاشی مینجر ہیں۔ یہ پاناما کا تماشا کیا ہے۔
پہلے سپریم کورٹ نے اس کی سماعت سے معذرت کی، پھر دھرنے کی بات ہوئی پھر پکڑ دھکڑ اور مار کٹائی ہوئی۔ پھر عدالت لگ گئی اور کمیشن بنانے کے چرچے ہوئے پھر ریٹائر ہوتے چیف جسٹس صاحب نے امید دلائی اور آخر میں یہ مژدہ سنا کر ریٹائر ہورہے ہیں۔ نئے سال سے نئے چیف جسٹس نے میں ایک نیا بینچ قائم کیا۔ اب اس مقدمہ کی 21 سماعتیں ہو چکی ہیں۔ اس عدالتی بینچ کے ساتھ احاطہ عدالت کے باہر بھی کئی عدالتیں قائم ہیں اور ہر سماعت کے بعد اپنا میدان سجاتی ہیں۔ مختصر مگر پر جوش دلائل کے بعد اپنا اپنا فیصلہ بھی سنا جاتے ہیں۔ آج باہر کی عدالت میں مریم اورنگزیب اپنے وزیراعظم کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ تاثر دے رہیں تھیں کہ وزیراعظم صاحب بہت اچھے اچھے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں لہذا ان کو بدعنوانی کے مقدمات میں بری کیا جاتا ہے۔ کیا کسی اور سوسائٹی یا ملک میں بھی ایسا تماشا ہو رہا ہے۔ ایک ملک آئس لینڈ کے وزیراعظم کا نام پاناما لیکس میں آیا اور اس کے عوام نے گھیراؤ کیا اور استعفی کا مطالبہ تو چند دن میں وزیراعظم نے استعفی دیا اور اس کے بعد روٹین کی تحقیقات شروع ہو گئی۔ پھر کسی کو پتہ نہیں بس ادارے اپنا کام کریں گے۔
دوسرے ملک ناروے کے درجنوں افراد کا نام بھی پاناما لیکس میں شامل تھا اور ناروے کے متعلقہ ادارے ایکوکرائم (اکنامکس کرائم کو کنٹرول کرنے والا ادارہ) نے سوموار کے دن ایک وارننگ جاری کی کہ جن لوگوں کے نام پاناما لیکس میں آئے ہیں وہ سب خود بخود ہمارے پاس پیش ہو جاؤ اور اپنے تمام کھاتوں کے حسابات چیک کروا کر خود کو کلیئر کروا لو۔ جمعرات تک یعنی صرف 4 دن میں لگ بھگ سب پیش ہونے کے لئے تیار تھے اس کے بعد نہ میڈیا کا کھیل بنا اور نہ اپوزیشن کا ایشو۔ اسی طرح باقی بھی جن ممالک کے لوگوں کے نام تھے انہوں نے متعلقہ اداروں اور فورمز پر اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ یہ صرف ہمارا ملک ہے جس میں اس طرح شغل درکار ہوتا ہے۔ تاکہ عوام کو الجھا کر اصل معاملات پر پردہ ڈالا جا سکے۔
پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو آج تک یہ سراغ نہیں لگایا جا سکا کہ اس ملک کو چلا کون رہا ہے، کس نے اپنا کام کیا ہے اور کس کس نے دوسروں کے معاملات میں ٹانگیں اڑائی ہیں، کس کس نے اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لئے ملک اور عوام کا استحصال کیا ہے اور کون اپنے مفاد میں غیروں کا آلہ کار بنا رہا ہے۔ ملک 2 ٹکڑے ہو گیا لیکن ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور آج تک نہ کوئی عدالت کسی بڑے اور قومی اہمیت کے مقدمے کا فیصلہ مبنی بر انصاف کر سکی اور نہ ہی کسی کمیشن کی کوئی رپورٹ سامنے آسکی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں کی تاریخ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن مسائل کا ہمیں آج سامنا ہے ان پر دنیا کے کئی علاقوں میں آج سے سینکڑوں سال پہلے سوچا گیا تھا اور ایسے مسائل سے چھٹکارا بھی حاصل کیا گیا۔
یونان کی ریاست سپاٹا 500 قبل مسیح اس کی بہترین مثال ہے۔ کیا ہم پاکستانی آج بھی اس قابل نہیں کہ اپنے حقیقی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ یا پھر ہم نے سارے مسائل کی باگ ڈور اللہ کے سپرد کردی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے علاقوں میں مسائل پر بات چیت کی ہے اور ان کے حل کے لیے کوششیں کی ہیں۔ ترقی کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے اور آگے بڑھنے کے لئیے قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ صرف باتوں سے اور دوسروں پر تنقید کرنے سے کوئی مسلہ حل نہیں ہو سکتا ۔