ذوالقرنین کی تلاش

انسانی فطرت کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ انسان کی جبلت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ دیگر لوگ اس کی قدرومنزلت اور اہمیت کا اعتراف کریں اگرچہ اس بات میں ابہام ہی ہو کہ وہ شخص واقعی قابل ستائش ہے بھی یا نہیں۔ انسانوں کی ایک واضح اکثریت اپنی اسی فطرت کے باعث خود پسندی اور اپنی بے جا تعریفیں کرنے اور سننے کی خواہش جیسی بیماریوں میں مبتلا نظر آتی ہے۔

اگرچہ دنیا کے تمام ہی قبرستان اس بات کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں کہ جو لوگ زندگی بھر اپنی قدرومنزلت جتاتے رہے تھے اور جن کے خیال میں ان کے بنا کاروبار زندگی کا چلتے رہنا ممکن نہ تھا، ان تمام لوگوں کے ان قبرستانوں میں ابدی نیند سو جانے کے باوجود بھی کاروبار زندگی پر کوئی فرق نہ پڑا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی گزرے ہیں کہ جن کی زندگی انسانی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے اور ایسے ہی ایک انسان جناب ذوالقرنین ہیں۔

طلوع اسلام کے وقت اہل مکہ بت پرست تھے لہٰذا نبوت اور کتاب جیسی باتوں سے ناآشنا تھے۔ گویا ان کا ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ آخر یہ کیسے پتہ چلایا جائے کہ حضور اکرم  کی جانب سے کیا جانے والا نبوت کا دعویٰ سچا ہے یا یہ کوئی بے بنیاد دعویٰ ہے۔ یہود کیونکہ نبوت اورکتاب جیسے معاملات سے آگاہ تھے لہٰذا اہل مکہ نے اس معاملے میں یہود سے رہنمائی چاہی۔ یہود نے اہل مکہ کو تین سوالات دیئے اور کہا کہ اگر ان تین سوالات کے بارگاہ رسالت  سے درست جوابات مل جائیں تو سمجھ لیں کہ نبوت کا دعویٰ سچا ہے۔ ان تین سوالات میں سے ایک سوال ذوالقرنین کے بارے میں تھا۔ گویا یہی واقعہ قرآن کریم میں ذوالقرنین کے بارے میں موجود سورۃ الکھف کی آیات کا شان نزول بنا۔

قرآن کریم میں موجود ذوالقرنین کے مطابق آیات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ذوالقرنین ایک عادل حکمران تھا جس نے مشرق اور مغرب کا سفر کیا اور پھر شمال کی طرف کا سفر کیا۔ شمال کی جانب سفر میں اسے ایک ایسی قوم ملی جو کہ یاجوج ماجوج کے فساد سے تنگ تھی لہٰذا اس قوم نے ذوالقرنین سے گزارش کی کہ اگر ذوالقرنین اس قوم اور یاجوج ماجوج کے درمیان ایک دیوار بنا کر اس قوم کو گویا یاجوج ماجوج کے شر سے بچا لے تو وہ اس کے عوض جزیہ دینے کو تیار ہیں۔

ذوالقرنین نے اس قوم کی گزارش کو جزیہ کی شرط کے بنا ہی قبول کیا اور اس قوم سے افرادی قوت، لوہا اور تانبا طلب کیا اور پھر اس قوم اور یاجوج ماجوج کے درمیان لوہے اور تانبے کو آگ کی مدد سے پگھلا کر ایک آہنی دیوار بنا دی کہ یاجوج ماجوج وہ دیوار عبور نہ کر سکیں اور یہ قوم ان کے شر سے محفوظ رہے۔

تاریخی اعتبار سے ذوالقرنین کی ہستی کو دیکھا جائے تو کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سکندر اعظم ذوالقرنین تھا لیکن قرآن کریم میں موجود آیات سے سکندر اعظم کے حالات زندگی مماثلت نہیں رکھتے۔ لہٰذا اکثر لوگوں کی رائے میں ایران کے بادشاہ سائرس درحقیقت ذوالقرنین تھے۔ سائرس نے چونکہ مادہ اور پارس کی قدیم سلطنتوں کو ملا کر ایران کی بنیاد رکھی تھی لہٰذا اس نے اپنے تاج پر دو سینگ بنوا لئے تھے جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتے تھے کہ ذوالقرنین (سائرس) نے ان دو قدیم علاقوں کو یکجا کرکے ایک نئی سلطنت کی بنیاد ڈالی ہے اور وہی ان دونوں علاقوں کا حکمران ہے ۔ کیونکہ ذوالقرنین کا لغوی مطلب ’’دو سینگوں ولاا‘‘ یا ’’دو زمانوں والا‘‘ ہے لہٰذا اسی وجہ سے اکثر علماء سائرس کو ہی ذوالقرنین مانتے ہیں۔ یہ وہی سائرس ہے کہ شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے دور میں جس کی قائم کردہ سلطنت کا ڈھائی ہزار سالہ جشن منایا گیا۔ یہ جشن 12-16 اکتوبر 1971 کو منایا گیا اور اس طرح رضا شاہ پہلوی نے 1971 میں ایران کی شہنشاہیت کو ڈھائی ہزار سال قدیم مملکت قرار دیا۔

ذوالقرنین کی شخصیت کا حتمی تعین کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آخر یہود کو ذوالقرنین سے کیا دلچسپی تھی۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ذوالقرنین کے بارے میں سوال یہود کی جانب سے کیا گیا تھا اور اہل مکہ کےلئے نبوت کے دعویٰ کے سچا ہونے کا پیمانہ یہ تھا کہ یہود کے علم کے مطابق ذوالقرنین کی شخصیت کے بارے میں جواب دیا جائے۔ گویا ایران کے حکمران سائرس کے ذوالقرنین ہونے کے خیال کو اسی صورت میں تقویت مل سکتی ہے کہ جب یہود کی طرف سے سائرس کے کردار کو مثبت طور پر سراہا جائے۔

مختصراً قصہ یہ ہے کہ 58 قبل مسیح میں بابل کے حکمران نبوخونذر(بخت نصر) ارض مقدس (یروشلم) پر حملہ آور ہوا اور اس نے حضرت سلیمان  کی جانب سے تعمیر کی جانیوالی عبادت گاہ (ہیکل سلیمانی) کو گرا دیا اور یہود کو جبری طور پر ارض مقدس سے جلاوطن کر کے بابل لے گیا اور وہاں انہیں اسیر بنا لیا اس اسیری کو یہود بابل کی اسیری کہتے ہیں۔

بخت نصر کا حملہ یہود کےلئے کم از کم چھ اعتبار سے تباہ کن ثابت ہوا۔ اول یہ کہ ہیکل سلیمانی مسمار کر دیا گیا۔ دوم یہ کہ ہیکل سلیمانی میں موجود تابوت سکینہ کا اس حملے کے بعد کوئی سراغ نہ مل سکا۔ سوم یہ کہ اس حملے کے نتیجہ میں ان کی سلطنت ختم کر دی گئی۔ چہارم یہ کہ بڑی تعداد میں یہود قتل کر دیئے گئے۔ پنجم یہ کہ یہود ارض مقدس سے جلاوطن کر دیئے گئے اور ششم یہ کہ وہ اسیر بنا لیے گئے۔

اس حملے کے تقریباً 49 سال بعد 540 قبل مسیح میں ایران کے حکمران سائرس نے بابل پر حملہ کرکے اسے فتح کر لیا اور حکم صادر کیا کہ تمام جلاوطن افراد اپنے علاقوں میں جا کر آباد ہو سکتے ہیں اور اپنی عبادت گاہیں دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں اور یوں یہود کی جلاوطنی اور اسیری ختم ہوگئی اور انہوں نے ایک مرتبہ پھر ارض مقدس میں آباد ہونے کے بعد ہیکل کی ازسرنو بنیاد رکھی۔ گویا یہود کی جلاوطنی اور بابل کی اسیری کا خاتمہ سائرس کی جیت کا مرہون منت تھا۔ یہی وجہ ہے بائبل کے عہد نامہ قدیم میں 23 بار سائرس کا نام درج ہے اور متعدد بار بنا نام لئے سائرس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

درحقیقت یہی وہ وجہ ہے جو سائرس کے ذوالقرنین ہونے کے خیال کو تقویت بخشتی ہے۔ بہرحال اس سلسلے میں مزید تحقیق کی اب بھی گنجائش موجود ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن، بائبل، بابل کی تاریخ اور ایرانی تاریخ کا مزید مطالعہ کیا جائے تاکہ حتمی طور پر یہ بات ثابت کی جا سکے کہ آیا سائرس ہی ذوالقرنین تھا یا نہیں۔