تخلیق کاروں کی تقریب
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 18 / فروری / 2017
- 4849
15فروری کو تخلیق کاروں کی ایک شان دار تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ اس سے صرف ایک دن قبل تخریب کاروں نے لاہور کو اپنی تخریب کاری کا نشانہ بنایا۔ ایسا سماج جہاں تخریب کاروں کی یہ کوشش ہو کہ وہ تخریب کے ذریعے، تخلیق اور تعمیر کو روک کر اپنی رجعتی اور تخریبی سوچ کو مسلط کرلیں گے، ایسے میں تخلیق کاروں کی یہ تقریب اس پاکستان کا ہراول دستہ ہے جو سماج کو علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ محمد علی جناح کی فکروفلسفے کے مطابق ایک فلاحی سماج میں بدلنا چاہتے ہیں۔
دہشت گردوں نے 14فروری کو شاہراہِ قائداعظم پر دھماکہ کیا، یعنی قائداعظم کی شاہراہ پر۔ ظالم دہشت گرد اسلامی دنیا کی سب سے طاقتور ریاست کو گرانا چاہتے ہیں جس کی بنیاد اسلامی دنیا کے عظیم قائد محمد علی جناحؒ نے رکھی۔ وہ پاکستان کو ’’شاہراہِ قائداعظم‘‘ سے ہٹانے کے لیے تخریب کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ معمولی سے چند گروہ اکثریت کو بارود سے زیر کرنا چاہتے ہیں۔ ایک جدید فکر کو تخریب سے مٹانا چاہتے ہیں، جوکہ ممکن ہی نہیں۔ اسی لیے اسی لاہور میں دوسرے روز تخلیق کاروں کی ایک شان دار تقریب منعقد ہوئی۔ جو قلم، فکر، دلیل، مکالمے، ادب انسانیت اورسماجیت سے پاکستان کو ’’شاہراہِ قائداعظم‘‘ پر چلنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ تخلیق کاروں کی اس تقریب کا اہتمام معروف ادبی جریدے ’’تخلیق‘‘ کے بانی اظہر جاوید کے بیٹے سونان اظہر جاوید نے کیا تھا۔
اظہر جاوید نے چار دہائیوں قبل تخلیق کا جو بیڑا اٹھایا، وہ اسے تاعمر نبھاتے رہے۔ تخلیق کاروں کا جریدہ ’’تخلیق‘‘ پاکستان کے ادب اور تخلیق کاروں کا معروف جریدہ ہے۔ ادب، فکر اور دلیل کا جریدہ۔ اُن کی پانچویں برسی کے موقع پر سونان اظہر نے ایک ریستوران میں جن تخلیق کاروں کا اکٹھا کیا، وہ اُس پاکستان کے علمبردار ہیں جو پاکستان کو فکر اقبالؒ اور شاہراہِ قائداعظمؒ پر چلانے کے لیے ہراول دستے کا کام کررہے ہیں، جن میں عابد حسن منٹو، سلمیٰ اعوان، الطاف حسن قریشی، اسلم گورداسپوری، افتخار مجاز، شہباز انور، عمرانہ مشتاق، نوید چودھری، ڈاکٹر کنول فیروز، ڈاکٹر اختر شمار، طفیل اختر، بشریٰ رحمن، ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا، صوفیہ بیدار، ناصر بشیر، حسین مجروح، مسز عابد حسن منٹو، ڈاکٹر مبارک علی، معروف گلوکار شوکت علی سمیت لاتعداد تخلیق کار شامل تھے۔
راقم سمیت تمام تخلیق کاروں نے جہاں اظہر جاوید مرحوم کی ادبی خدمات اور اُن کے جریدے ’’تخلیق ‘‘ کی خدمات Contribution کا ذکر کیا۔ وہاں تقریب میں شامل درجنوں تخلیق کاروں نے اپنے خیالات کے ذریعے درحقیقت تخریب کاروں کے سامنے اپنے علمی، فکری، ادبی اور نظریاتی قلم کو بلند رکھنے کا عہد کیا۔ شاباش سونان اظہر، شاباش۔ یہ تقریب اس پاکستان کی نمائندہ ہے جو حقیقی پاکستان ہے جو قلم، علم اور فکر کے ذریعے سماج میں تخلیق کاری کرتے ہیں، جو لوگوں کا گلا کاٹتے ہیں نہ ہی جنت کے حصول کے لیے پاکستان کو جہنم بنانے پر تلے ہوئے ہیں بلکہ یہ تخلیق کار اِس جہان کو بھی جنت بنانے کے لیے امن اور علم وادب کے ذریعے سرگرمِ عمل ہیں۔ تقریب میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے چار، پانچ اور چھ بلکہ سات دہائیاں جہد مسلسل کرتے ہوئے اس عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ کتنے بہادر ہیں یہ لوگ جو لوگوں کو دہشت زدہ نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو فکروعمل اور سماجی رتبے کے حوالے سے طاقتور بنانا چاہتے ہیں۔
اظہر جاوید مرحوم میری چڑھتی جوانی میں میرے دوست بنے۔ میں ایک سیاسی ایکٹوسٹ تھا اور وہ مکمل طور پر ادبی شخصیت۔ دوستی میں چلتے چلتے معلوم ہوا کہ وہ میرے والد محمد یعقوب گوئندی کے بھی دوست ہیں۔ اسی طرح کنول فیروز بھی۔ اظہر جاوید اور کنول فیروز، لاہور کی ایک بے مثال ادبی جوڑی تھی۔ اظہر جاوید اور کنول فیروز کا ایک سین میں پوری عمر نہیں بھولوں گا کہ جب میں اور میری شریک حیات ریما نے والد صاحب کو سرپرائز دینے کے لیے اپنے ہاں ایک ڈنر کا اہتمام کیا۔ والد صاحب، والدہ اور میرے بھائی اعجاز گوئندی سارا دن پوچھتے رہے کہ آج تم نے کون سے مہمان ڈنر پر بلائے ہیں۔ جب رات کو کنول فیروز کے ویسپا پر اظہر جاوید ہمارے ہاں گیٹ پرپہنچے تو والد صاحب حیران رہ گئے۔ یہ اظہر جاوید کے اس جہانِ فانی سے رخصت ہونے سے دو سال قبل کا واقعہ ہے۔
کنول فیروز ایک درویش صفت دانشور ہیں۔ اُن کا ویسپا اس پاکستان کا نمائندہ تھا جو اب موٹر سائیکل سواروں کے غول میں معدوم ہوچکا ہے۔ اُن دونوں کا ویسپا پر بیٹھ کر آنا مجھے اس پاکستان کی طرف لے گیا جو امن اور تخلیق کاروں کا پاکستان تھا جسے تخریب کار زیر کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ کیا لمحات تھے! دو یار اظہر جاوید اور کنول فیروز ویسپا سے اترے اور اپنے بچپن کے دوست یعقوب گوئندی سے بغلگیر ہوگئے۔ خوشی تخلیق کرنا اور خوشی تقسیم کرنا، قدرت نے شاید مجھے جبلت میں عطا کی ہے، یعنی دوستوں میں خوشی تقسیم کرنا۔ واہ کیا لمحات تھے۔ اور پھر تینوں دوستوں نے اپنی کہانیاں شروع کیں جن میں تینوں دوستوں کے ایک اور دوست کی کہانی مجھے کسی افسانوی داستان کی طرح یاد ہے۔
ایک بحری جہاز دارا کی تباہی کی کہانی جس میں ان تینوں کا ایک دوست بھی سوار تھا۔ بحری جہاز دارا کی تباہی کی کہانی میں نے اپنے گھر میں اپنے والد صاحب سے سن رکھی تھی۔ جہاز جو 1961 میں گہرے سمندروں میں جل اٹھا۔ اس میں بچ جانے والے خوش نصیبوں میں ان تینوں کا ایک دوست بھی سوار تھا۔ اور پھر وہ روز کہ میں نے اباجی کے دوست کو اپنے ہاں ڈنر پر مدعو ہوتے دیکھا۔ ہم بہن بھائی اس سمندری جہاز میں بچ جانے والے شخص کو دیکھ کر یوں محسوس کررہے تھے کہ جیسے ہم کسی فلم کا سین دیکھ رہے ہوں۔ اظہر جاوید مرحوم جس قدر بچپن میں اباجی کے دوست تھے ، اس سے زیادہ میری ان سے دوستی ہوگئی۔ یہ دوستی اسّی کی دہائی سے آغاز ہوئی اور اُن کی آخری سانسوں تک برقرار رہی۔ جہاں وہ جریدہ تخلیق باقاعدگی سے نکالتے تھے، وہیں وہ شہر میں ادبی وسیاسی تقریبات بھی برپا کرتے تھے۔ میں اُن کی تقریبات میں شامل ہوتا اور وہ میری منعقد کی گئی تقریبات میں۔ دو تخلیق کاروں کی دوستی۔ تب پاکستان میں ایک ایسے شخص کی حکمرانی تھی جس کو آج پاکستان میں تخریب کاروں کا مرشد کہا جاتا ہے، جس نے امریکہ کے کہنے پر اس خطے میں تخریب کو تبدیلی کا Instrument سمجھا۔
سونان جاوید اظہر نے اپنے مرحوم والد کے اس ادبی سفر کو بھی جاری رکھا ہے اور فکری اور تخلیقی سفر کو بھی۔ وہ جریدے ’’تخلیق‘‘ کو باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں اور ’’تخلیق کاروں‘‘ کے اکٹھ بھی کرتے ہیں۔ وہ شاہراہِ قائداعظم کو تخلیق کاروں کی شاہراہ سمجھنے پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان تخریب کاروں کے مقابلے میں جو شاہراہ قائداعظم کو تخریب کاری کا نشانہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔