دہشتگردی سی پیک اور دشمن
- تحریر چوہدری ذوالقرنین ہندل
- اتوار 19 / فروری / 2017
- 4616
گزشتہ پانچ دنوں میں دہشتگردی کے نو واقعات نے پورے پاکستان کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔ ہر طرف سوگواری ہے۔ افسوس کی کیفیت پورے ملک پر چھائی ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور، کوئٹہ ، پشاور ، مہمندایجنسی، ڈیرہ اسماعیل، آواران اور سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر دہشتگردی کے واقعات پیش آئے۔ جو انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہیں۔
دہشتگردی کے ان واقعات میں ایک سو تیس سے زائد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے جہاں پورے پاکستان کو حیران و پریشان کیا ہے وہیں ہمارے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کی صلاحیت پر بھی سوالیہ نشاکھڑا کیا ہے۔ آخر ہمارے سیکورٹی و انٹیلی جنس ادارے اتنے کمزور اور لاعلم کیوں۔ اگر علم تھا تو کوئی عملدرآمد اور روک تھام کیوں نہیں کی گئی۔ ماضی میں بھی متعدد بار دہشتگردی کے واقعات ہونے تک ہمارے حکمران اور ادارے سوئے رہے۔ جب تک کوئی بڑی دہشتگردی نہ ہو جائے کوئی حرکت سامنے نہیں آتی۔ آخر کیوں۔ آخر ہم دشمنوں کے مقاصد جاننے کے باوجود ہر وقت دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے چوکنا کیوں نہیں ہوتے۔ اگر چوکنا ہیں تو یہ واقعات کیسے اور کیوں۔
یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا جواب کوئی بھی نہیں دیتا۔ جن کے سگے جان سے بھی پیارے دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں ان کی دلی کیفیت سے ہم ہرگز واقف نہیں ہو سکتے۔ معصوم چہرے، غم زدہ آنکھیں اور ساکت زبان ہمارے اداروں سے، حکمرانوں سے سوال کر رہی ہیں کہ آخر ہم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے۔ ہمار قصور کیا ہے۔ کیوں ہمارے باغوں کی کلیوں پھولوں اور پھلوں کو چھلنی کیا جاتا ہے۔ ان سوالوں کے جواب بھی کسی کے پاس نہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایک چیز واضح ہو جاتی ہے کہ ملک دشمن سی پیک کی ناکامی کے لئے مسلسل متعدد کوششوں میں مصروف ہیں۔ دشمن ہماری نظریں کشمیر اور سی پیک سے ہٹا کر افراتفری پھیلانا چاہتا ہے۔ کبھی آزاد کشمیر کے بارڈر پر الجھایا جاتا ہے۔ کبھی افغانستان کے راستہ الجھایا جاتا ہے۔ کبھی سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعوے کئے جاتے ہیں۔ کبھی ہمارے جاسوس کبوتر پکڑے جاتے ہیں۔ کبھی ہمیں تنہا کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں۔ دشمن مسلسل افراتفری پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ دہشتگردی کے واقعات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ گزشتہ دنوں پاکستان اور دوسرے ممالک کی مشترکہ بحری مشقیں اور پی ایس ایل جس میں غیر ملکی کھلاڑی بھی شامل ہیں جاری تھے۔ عین اس وقت دہشتگردی کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن پاکستان کو دنیا کے سامنے غیر محفوظ اور دہشتگرد ملک قرار دینا چاہتا ہے۔ سی پیک جو کہ بہت سے ممالک کے لئے بڑی معاشی ترقی کی اہمیت کا حامل ہے۔ جس کی بدولت دنیا اپنی نظریں پاکستان پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔ ایسے میں دشمن کا جھنجلاہٹ کا شکار ہے۔ اسی لئے پاکستان میں سی پیک کی ناکامی کے لئے جتن کرنا ہی دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی اصل وجہ ہے۔ دشمن نے دہشتگردی کا یہ وقت اس لئے چنا کیوں کہ بحری مشقوں اور پی ایس ایل میں موجود فوجیوں اور کھلاڑیوں تک اس کی گونج پہنچے اور غیر محفوظ پاکستان کا تاثر قائم ہو۔
فوجی اور کھلاڑی کسی بھی ملک کے ملکی سفیر سا درجہ رکھتے ہیں۔ افسوس کہ ادارے دشمن کی چالاکیوں کا علم رکھتے ہوئے بھی چوکنا نہیں تھے۔ ہمارے ادارے اور حکمران اپنے کاموں میں مگن تھے۔ کوئی حکومت گرا رہا تھا، کوئی حکومت بچا رہا تھا۔ پاک فوج کی توجہ بھارت بارڈر پر لگی ہوئی تھی۔ افسوس کہ دشمن پھر اپنی چالاکیوں میں کامیاب رہا۔ یہ دشمن وہی انتہا پسند بھارت ہے جس کا اپنا گھر بکھرنے کے درپے ہے اور وہ دوسروں پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بھارت پاکستان کو تنہا کرنا چاہتا ہے اور بیک وقت پاکستان کو کئی مشکلات میں الجھائے ہوئے ہے۔ جن میں افغانستان بارڈر کی صورت حال اور دہشتگردی سرفہرست ہیں۔
افغانستان کے ساتھ برے تعلقات پاکستان کی ماضی میں ناکام پالیسیوں کی بدولت ہیں۔ پاکستان میں امن اتنی دیر تک ممکن نہیں جب تک افغانستان پاکستان کے ساتھ مخلص اور پر امن نہ ہوجائے۔ ہمیں اپنے اندرونی معاملات کو فوری نمٹا کر خود کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشتگردی کے واقعات ہمارے اداروں پر سوالیہ نشان ہیں ۔ہمارے اداروں کو ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے نہ کہ افراتفری کے عالم میں بے گناہوں کو پکڑ کر مزید بدامنی پھیلائی جائے۔ ہمیں قوم میں مثبت سوچ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔ ثابت قدمی کے ساتھ ہم داخلی طور پر مضبوط ہوجائیں تو دشمن خود ہی بکھر جائیں گے اور پاکستان سی پیک کی تکمیل سے ایک بڑا اقتصادی و معاشی ملک بن کر ابھرے گا۔
دہشتگردی دشمن کا آخری ہتھکنڈا ہے۔ پاکستان کو دشمن کی کاروائیوں کا واضح جواب دینے کے ساتھ مثبت سوچ ثابت قدمی اور نئی واضح خارجہ پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ایک نئے نظریے کے ساتھ پاکستان موجودہ چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے سی پیک کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔