دشمن کی نامعلوم طاقت
- تحریر شیخ خالد زاہد
- اتوار 19 / فروری / 2017
- 4358
گزشتہ پانچ دنوں میں وطنِ عزیز کی پاک سرزمین کو دہشت گردوں نے خون سے لال کردیا ہے۔ دہشت گردوں نے ملک کے تینوں صوبوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کو کھلا چیلنج دیا ہے۔ دہشت گردوں نے پہلے صوبہ پنجاب میں زندہ دلانِ لاہور کو سوگ میں مبتلا کیا۔ ابھی اس حملہ کی گھتی نہیں سلجھ سکی تھی کہ خیبر پختون خواہ دلخراش چیخوں سے گونج اٹھا۔ ان چیخوں کی خراشوں سے ابھی لہو رس ہی رہا تھا کہ سندھ کے شہر اور صوفی حضرت لال شہباز قلندر کے حوالے سے جانا جانے والے شہر سہون شریف کو دہشت گردوں نے خون سے لال کر دیا۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک ان دھماکوں میں جاں بحق ہونےوالوںکی تعداد 150 کے لگ بھگ ہے۔ اس سے تین گنا زیادہ تعداد زخمی ہیں۔
موجودہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کو دیکھ کر تو لگتا ہی نہیں کہ کوئی "ضربِ عضب" نامی آپریشن ہوا ہے یا پھر بھارتی جاسوس پکڑے گئے ہیں اور بلوچستان میں پڑوسیوں کی سرگرمیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ دہشت گردوں کی ان ہیبت ناک کاروائیوں کی صورت میں ہمیں یہ آگاہی دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم آپ کی معلوم کی حد سے آگے ہیں۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمارے پڑوسی ملک کے جاسوس کو پکڑتے ہیں ان سے معلومات بھی لیتے ہیں مگر یہ معلومات دہشت گردی کی روک تھام میں کمی نہیں لاتیں۔ ان دھماکوں نے عوام کےلئے بڑی مشکل کھڑی کر دی ہے۔
ان دھماکوں سے ہمارے سیکورٹی اداروں کی صلاحیت اور انتظامیہ کی کارکردگی کا پول بھی کھل کر سامنے آگیا ہے۔ پنجاب اور کے پی کے میں ہونے والے دھماکوں میں زخمیوں کو فوری طبی امداد کی سہولیات میسر ہونے کے باعث ان زندگیاں محفوظ ہوگئیں۔ ان زندگیوں کو محفوظ بنانے میں ان صوبوں کی حکومتوں کا بھی کردار ہے۔ دوسری طرف سہون شریف میں ہونے والی اموات کی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جنہیں بروقت طبی امداد میسر نہیں آئی۔ اس کی ذمہ داری دبئی کی قیادت میں چلنے والی ہمارے ملک کی سب سے پرانی سیاسی جماعت کے سر جاتی ہے جو سالہا سال سے صوبہ سندھ کی خدمت پر معمور ہیں۔ لیکن دلی دکھ کے ساتھ لکھنے پر مجبور ہوں کہ انہوں نے اپنے محلات تو قلعے بنا رکھے ہیں مگر ان کو ووٹ دینے والے اپنی زندگیاں اس لئے ہار گئے کہ ان کے ہسپتالوں اور طبی اداروں کا پیسہ ان محلات کی تزئن اور آرائش میں صرف ہوگیا۔ اس علاقے اور پورے سندھ میں شاید ہی کوئی ایسا ادارہ موجود ہو، جہاں ایسی کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
اللہ ہمارے ملک پر اور ہم تمام پاکستانیوں پر اپنی خصوصی رحمت نازل فرمائے (آمین) مگر کیا ہم پر یہ واضح نہیں کر دیا گیا ہے کہ "اس قوم کی حالت نہیں بدلتی جسے اپنی حالت بدلنے کی خود فکر نا ہو"۔ یعنی فیصلہ قوم نے ہی کرنا ہے۔ آخر ایسا کیا ہو گیا کہ ایک دم سے ہمارے پڑوسی ملک سے بھیجے ہوئے دہشت گردوں کا حوصلہ بڑھ گیا۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا جب ہمارے ملک میں عسکری قیادت کی تبدیلی ہوئی ہے۔ اس عسکری قیادت کی تبدیلی کو ابھی ڈھائی ماہ کا عرصہ ہوا ہوگا۔ لگتا یہ ہے کہ دشمن نے ہماری نئی عسکری قیادت کا امتحان لینا شروع کردیا ہے۔
ہم سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے کل رات ہونے والے واقعہ کا علم ہونے کہ بعد صرف اتنا ہی لکھ سکے "یا اللہ ہم پر رحم فرمائیں" ہمارے دوستوں اور احباب نے "آمین" لکھنا شروع کردیا۔ سوال یہ ہے کہ آمین کہہ دینا یا ہمارا بس دعا کر لینا کافی نہیں ہے۔ ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ باہمی سیاسی چپقلش سے بھی صورت حال مشکل اور پیچیدہ ہورہی ہے۔ ہمیں بھی یہ لکھنا بہت اچھا لگتا ہے کہ "قوم دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے متحد ہے، قوم کے حوصلے بلند ہیں اور قوم ہر قسم کی قربانی دینے کےلئے تیار ہے" مگر یہ سوچ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ قوم ہی قربانی کےلئے کیوں، قرض اتارو ملک سنوارو سے لے کر آج تک قوم ہی کیون قربانی کا بکرا بنی ہوئی ہے۔ ہماری یہ سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین، ہمارے معزز اسمبلیوں کے ممبران ساری پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ان کی حفاظت پر لگے رہتے ہیں اور قربانی دینے کےلئے قوم متحد ہے اور قوم ہی قربان ہورہی ہے۔
دشمن کی سازشیں بے نقاب ہوتی جا رہی ہیں مگر اربابِ اختیار معلوم نہیں کن معاملات میں مگن ہیں۔ معیشت معیشت کا راگ الاپا جاتا ہے۔ سارے ملک کی نگاہیں عدالتوں میں چلنے والے مقدمہ پر لگی ہیں۔ اور پاکستانیوں کو ایک بار پھر خودکش حملہ آوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ ہمیں کون معلوم کی حد سے آگے لے کر جائے گا۔ کون دشمن کی کارروائی سے پیشتر اس کے وحشیانہ عزائم خاک میں ملائے گا۔ اپنی صفوں میں اتحاد اور بھائی چارہ قائم کرلو اور دشمن کے دانت اپنے حوصلے اور ہمت سے کھٹے کردو۔ اللہ رب العزت ان حادثات میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کی مغفرت کرے اور خصوصی طور پر ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے (آمین)۔