دہشت گردوں کے حملے اور ہماری اجتماعی کوتاہیاں
- تحریر منور علی شاہد
- منگل 21 / فروری / 2017
- 5244
دہشت گردی کا خاتمہ آج ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے اور ایک خواب ہے۔ لیکن بدقسمتی سے سالہاسال کی مشقت کے باوجود اس پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ یہ درست ہے کہ گزشتہ سالوں کی نسبت اب بہت کمی واقعی ہوئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ دہشت گردی ختم ہوگئی ہے یا یہ کہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے ۔ سانحہ کوئٹہ جس میں بلوچستان کی وکلا برادری کی فرنٹ لائن قیادت مکمل طور پر شہید ہو گئی تھی، کے بعد سے سہون شریف کے خودکش حملوں تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ دھماکوں میں کمی یا وقفہ ان دہشت گرد تنظیموں کی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ حالیہ دھماکوں سے انہوں نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے سہولت کاروں اور نیٹ ورک کے ساتھ جوں کے توں موجود ہیں اور جب جی چاہا اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرسکتے ہیں۔
پاکستان میں خودکش حملوں کی حالیہ لہر کے بعد افغانستان کے بارڈر کے اندر تک احرار گروپ کے ٹھکانوں پر حملوں سے ایک طرف دنیا کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ اب مزید خاموش نہیں رہا جائے گا اور دوسری طرف پاکستانی عوام کے غم و غصے کو کم کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے لاہور اور سہون شریف مزار پر خودکش حملوں نے پاکستان کی سول و عسکری قیادت کو ایک بار پھر چیلنج دیا ہے اور ان کو اپنی موجودگی کا بتایا ہے۔ سیاسی اور عسکری اور سول قیادت کی طرف سے متعدد بار بیانات میں دہشت گردوں کی کمر توڑنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن سب کچھ اس وقت دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے جب دہشت گرد اپنے حملوں سے ٹارگٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ سالہاسال کی دہشت گردی میں عسکری و سول اداروں کے بہترین صلاحیتوں والے اہلکار شہید چکے ہیں لیکن حکومتی پالیسی گومگو والی کیفیت سے باہر نہ نکل سکی۔ اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے اس کو دیکھنے اور دور کرنے کی ضرورت ہے۔ بد قسمتی سے ہماری سیاست میں داخلہ و خارجہ پالیسیاں بھی مذہبی نقطہ نگاہ سے بنائی جاتی ہیں جس کی قیمت آج ادا کی جا رہی ہے۔
اب تک کے حالات و واقعات سے یہی پتہ چلا ہے کہ مذہبی جماعتوں کے ساتھ وابستگی اور ان کے لئے نرم گوشہ رکھنے کا فائدہ دہشت گرد اور سہولت کار اٹھا رہے ہیں اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے اداروں کی کارروائیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہر قسم کی مصلحتیں پس پشت ڈال کر ان سب کی پکڑ دھکڑ شروع کی جائے جو کسی بھی رنگ میں دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس ضمن میں دینی مدارس کو قانون کے دائرے میں لانا ہوگا۔ مولویوں کا یہ پرانا وطیرہ ہے کہ جب بھی مدارس کو قانون کے دائرے میں لانے کے لئے کچھ کارروائی کی جاتی ہے تو ان کا اسلام خطرے میں پڑجاتا ہے اور خواہ مخواہ واویلا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ڈرامے بازی بند کرانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات خوش آئیند ہے کہ رینجرز کو13800 دینی مدارس کی بھی چھان بین کے لئے کہا گیا ہے۔ اگر کراچی اور سندھ میں یونیورسٹیوں میں چھاپے مارے جاسکتے ہیں تو کہیں بھی کارروائی ممکن ہونی چاہیئے۔ مذہبی جماعتیں جو رواداری، بھائی چارے مساوات کا درس دیتی ہیں اور عدم تششدد کے فلسفے کو مانتی ہیں وہ ملکی سیاست سے دور رہتی ہیں۔ لیکن سیاست میں ملوث دینی جماعتوں کے تانے بانے دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں۔ یہ سب اداروں کے علم میں ہے۔ پنجاب، خیبر پختونخواہ کے بعد اب سندھ میں دینی مدارس کا جال بچھایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں کی ہندو کمیونٹی بدترین مسائل کا شکار ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں دینی مدارس کا کیا جواز ہے جب کہ وہ تبلیغ پر سرے سے ہی ایمان و یقین نہیں رکھتیں بلکہ جبر اور تلوار کی تبلیغ کا پرچار کرتی ہیں۔ پاکستان کو ایک فلاحی جمہوری ریاست بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ ایک دینی مدرسہ۔
پاکستانی عوام کے سیاسی شعور کو خراج تحسین پیش کرنا ضروری ہے کہ انہوں نے مذہبی جماعتوں کو ووٹ سے ہمیشہ مسترد کیا لیکن سیاسی قائدین نے اپنے حلف سے ناانصافی کرتے ہوئے ان سب کو سیاسی بیساکھیاں مہیا کیں۔ حالانکہ ان قائدین نے ملک و قوم کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا ہوتا ہے جس کی پاسداری کرنا ان کی آئینی ذمہ داری ہے۔ ان حالات میں اس امر کا موازنہ کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان ایک مربوط اور موثر پالیسی اختیار کرے کہ اندرون ملک خود کش حملوں کو روک کر نہ صرف عوام و سرکاری اہلکاروں کو محفوظ کیا جائے بلکہ خوف و ہراس کی اس فضا کو بھی ختم کیا جائے، جس میں پاکستانی قوم سانس لے رہی ہے۔
حالیہ خودکش حملوں کی لہر سے ایک بار پھر اس بات کو شدت سے محسوس کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ موثر انٹلیجنس نظام کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ بارڈرز پر جتنی مرضی کاروائیاں کر لی جائیں لیکن ان کوششوں کا نتیجہ اس وقت تک نہیں نکل سکتا جب تک اندرونی نگرانی کا نظام بہت فعال اور مذہب کی بنیاد سے بالا نہ ہو ۔ اب تک کے حالیہ یکے بعد دیگرے خودکش حملے پاکستان مخالفین کی کامیاب اور تبدیل شدہ حکمت عملی اور اور حکومت کی اندرونی کمزورانٹیلی جنس اور اداروں کے مابین کمزور باہمی تعلق کا شاخسانہ ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ادارے اس بات پر یقین اور اتفاق قائم کر لیں کہ بلا امتیاز سیاسی و مذہبی اقدامات آج کی اولین ضرورت ہیں۔ اور اس کے لئے سب سے پہلے سہولت کاروں پر ہاتھ ڈالنا ہوگا۔ ان کو پکڑنا ہوگا تاکہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم پورے نہ ہو سکیں۔
لاہور میں مال روڈ پر ہونے والے خود کش حملہ سے پہلے سہولت کار اور دہشت گرد سٹیٹ بنک کے سامنے چار گھنٹے تک گھومتے رہے جس کا انکشاف اداروں کو سی سی ٹی وی کی فوٹیج سے ہوا ہے۔ اگر چیکنگ اور نگرانی کا موثر سسٹم ہوتا تو سی سی ٹی وی پر موجود اہلکار ان کی نشاندہی کرکے ان کو پکڑوا سکتے تھے لیکن اس واقع سے ثابت ہوا کہ کیمرے محض ریکارڈنگ کرتے ہیں لیکن ان کے ذریعے نگرانی کا کوئی سسٹم موجود نہیں۔ جس کی وجہ سے حملے کامیاب ہوتے ہیں ۔لاہور حملے کا سہولت کار2010 سے لنڈے بازار میں مقیم تھا اور کبھی نہ پکڑا گیا لیکن حملہ کے چند دنوں بعد ہی وہ پکڑا گیا۔ یہ بات انتہائی وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان بھر میں دہشت گردی کے تانے بانے پنجاب کے جنوبی شہروں سے جڑے ہوئے ہیں اور اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ماضی میں میں بھی متعدد بار پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سیاسی و مذہبی دباؤ پر موخرکی جاتی رہی ہے۔
حال ہی میں ایک مقدمے کے دوران سپریم کورٹ نے اپنی ایک رولنگ میں بھی اس طرف واضع اشارہ دیا تھا کہ اگر کوئٹہ سانحہ پر کمیشن کی رپورٹ پر اعتراضات کا سلسلہ جاری رہا تو پنجاب میں موجود دہشت گرد تنظیموں بارے بھی پوچھا جا سکتا ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے کہ اب محکمہ پولیس اور داخلہ کی از سر نو سکروٹنی کرکے انہیں قومی ادارے بنایاجائے۔ جو مذہب اور سیاست سے پاک ہوں۔ عدلیہ، پولیس، داخلہ اور مالیاتی اداروں میں سیاسی و مذہبی بنیادوں پر بھرتی اور ہر قسم کی پوسٹنگ و تقرری پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے۔ ان اداروں میں سیاسی قائدین و ممبر پارلیمنٹ کی مداخلت غیر قانونی قرار دی جائے۔ پنجاب کے ایک وزیر داخلہ بھی ایک خودکش حملہ کے نتیجہ میں شہید ہو چکے ہیں۔ جس سے دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک اور ان کے ہاتھوں کی لمبائی کا اندازہ ہوتا ہے ماضی میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور وفاقی وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی، ایسے ہی مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو مستقبل میں کوئی اہم ترین شخصیت بھی ایسی ہی کسی کارروائی کا شکار ہو سکتی ہے۔