پتھریلی دیواریں نہیں، فلم کے پل بنایئے!

چند دن ہوئے اداکار ندیم کا ایک انٹرویو میری نظر سے گزرا جس میں وہ کہتا ہے ’’... اب اگر انڈیا کی ہر نئی فلم یہاں (پاکستان) آ جاتی ہے اور بلاجھجک ہر گھر میں دیکھی اور پسند کی جاتی ہے تو ایسے ہی ہماری فلمیں ادھر (بھارت) کیوں نہیں جا سکتیں۔ اور پھر کیوں نہ ہم ان کے ساتھ مل کر فلمیں بنائیں اور ان کی مارکیٹ سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ ٹھیک ہے ہمارے مقابلے میں ان کے کام میں تھوڑا ستھراپن ہے اس کی بڑی وجہ میرے نزدیک انڈیا میں تعلیم کا عام ہونا ہے۔ ہمارے ہاں بھی تعلیم ہے تو سہی لیکن اتنی نہیں جتنی ایک فلم میکر میں ہونی چاہیے۔ اور فلم میکنگ ہے کام پڑھے لکھوں کا کیونکہ یہ ایک باقاعدہ آرٹ ہے اور اس میں جب تک آپ کا مختلف چیزوں کے بارے میں مطالعہ، مشاہدہ اور مقابلہ نہ ہو اس وقت تک پرفیکٹ فلم بنانا ہر کسی کے بس کا کام نہیں۔“

آگے چل کر میرا یہ دیرینہ دوست ایک سوال کے جواب میں کہتا ہے ’’یہ ایک اچھا طریقہ ہے اس سے ہماری فلمی صنعت کو فنانشل طور پر بھی سہارا ملے گا اس کے علاوہ جو لوگ ہمیں دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں ان کو دوسرے ملک (بھارت) سے نئے چہرے دیکھنے کو ملیں گے اور لوکیشن بھی نئی نئی دیکھنے کو ملیں گی۔ کیونکہ یہاں کے عوام مری اور سوات کی وادیاں دیکھ دیکھ کر بور ہو چکے ہیں“۔ آرٹ فلم کے بارے میں ندیم کا نقطہ نظر ہے ’’آرٹ فلم کےلئے تک ہمارے ملک میں ماحول نہیں بنا اور نہ ہی اس آرٹ کو سراہنے کےلئے ابھی تک ہم نے اپنے عوام کو ذہنی طور پر تیارکیا ہے۔ ہم نے تو ابھی تک اپنے عوام کو صاف ستھری اچھی کمرشل فلم بنا کر نہیں دی، آرٹ فلم کی بات تو قطعی دوسری ہے‘‘۔

ندیم کے یہ نقطہ ہائے نظر بے حد حقیقت پسندانہ ہیں۔ دونوں ملکوں یعنی پاکستان اور بھارت کے فلم میکرز کو آگے آنا چاہیے اور اس تنازعہ کے ماحول میں اداکاروں، ہدایتکاروں، فلمسازوں اور شاعروں و ادیبوں کا فرض ہے کہ دونوں ملکوں میں دوستی کی داغ بیل ڈالیں۔ فلم ایک ایسا میڈیم ہے جس کے ذریعے دوستی کی فضا نہ صرف قائم بلکہ مضبوط کی جا سکتی ہے۔ کتاب کی اہمیت اپنی جگہ ہے تاہم اگر کتابوں کا انسانی زندگی اور عوامی رویہ پر کوئی فوری اور دیرپا دائمی اثر ہوتا تو اسلام کو امن و سلامتی کا مذہب اور قرآن کو ضابطہ حیات سمجھنے والے مسلمان اپنے ہی بھائی بندوں کا خون نہ بہا رہے ہوتے۔ ان کی جنگ و جدل سے 131 مسلم ملک صفحہ ہستی سے نہ مٹ گئے ہوتے۔

آج فلم میڈیم کے معنی بدل گئے ہیں، بدل رہے ہیں یا بدل دیئے گئے ہیں، نتیجتاً پاکستان فلم میکرز کے سامنے بھٹکنے جیسی کیفیت آ گئی ہے جو فلم کو ایک اصلاح، تعمیر و ترقی، صحت مند تفریح اور بے سہارا و کمزور افراد کی آواز بلند کرنے کا ذریعہ جان اور مان کر اس شعبہ میں آئے تھے۔ اور آج تک مانتے چلے آ رہے ہیں مگر یہ نوآموز تو اور بھی تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں جو فلم کے میدان میں کچھ نیا کرنے آئے تھے مگر کر کچھ اور رہے ہیں۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں تقسیم ہند کے وقت ہندوستان فلم انڈسٹری کا بہترین ٹیلنٹ پاکستان چلا آیا تھا، جس میں شوکت حسین رضوی، ضیا سرحدی، خورشید انور، اجمل اسماعیل، علاؤ الدین، فضلی برادران، ماسٹر غلام حیدر، فیروز نظامی، چارلی، شاہ نواز، نجم الحسن، لالہ یعقوب، ظہور، شبنم، نینا، گیتا نظامی، نور جہاں، ممتاز، شانتی وغیرہ شامل تھے۔ مگر پاکستان جسے ہم مملکت خداداد کہتے ہیں میں ان تمام کا جادو محض اس لئے سر چڑھ کر نہ بول سکا کہ حکومت وقت نے فلم انڈسٹری کی بے جا سرپرستی شروع کر دی۔ جب حکومت اپنے اقتدار کا سنگھاسن بچانے کے لئے دشمنیاں پال لے تو فائدے کی بجائے نقصانات کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ پاکستان کی حکومت نے بھارت دشمنی میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی لگا دی۔ حکومت کے اس غیر ضروری اقدام سے مقابلے کا رجحان ختم ہو گیا۔ میں نے اس دور میں لکھا تھا کہ آپ تو بھارت پر پابندی کی بات کرتے ہیں، فلمیں تو ہم اسرائیل کی بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہ تو آپ جانتے ہی ہیں جہاں مقابلے کےلئے کوئی فریق ہنکارہ نہ بھرے وہاں اچھے اچھوں کی صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ اس زمانے میں پاکستانی فلموں کا مقابلہ بھارتی فلموں سے تھا کہ دونوں ملکوں کی ثقافت اور زبان مشترکہ ہے اور آج میری پیڑھی کے لوگ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ جن دنوں پاکستان میں بھارتی فلمیں ریلیز ہوتی تھیں ان دنوں ہماری فلموں کا معیار قدرے بلند تھا۔ پھر جب حکومت پاکستان نے ’’دشمن‘‘ ملک بھارت کی فلموں پر پابندی لگا دی تو پاکستانی فلمی صنعت میں صحت مندانہ مقابلہ ختم ہو گیا اور پاکستانی فلمساز و ہدایتکار غیر معیار اور لچر فلمیں بنا کر مطمئن ہو گئے۔ عوام بے چارے انہی پر اکتفا کرنے لگے کہ ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ ہی نہ تھا۔ جب بری بری فلمیں بننے لگیں تو اچھی فلمیں بنانے کےلئے کون دردسر مول لے۔ جب عوام بری فلموں سے ہی مطمئن ہو جائیں تواچھی فلمیں بنانے کی طرف کسی کا دھیان کیوں جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی فلم انڈسٹری ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ تاریخ نے انڈسٹری سے بدترین انتقام لیا ہے۔

اس ضمن میں جب فلم انڈسٹری شدید بحران کا شکارہورہی تھی میرے کچھ فلمی دوست جن میں ریاض شاہد، علی سفیان آفاقی، حسن طارق، شباب کیرانوی، آغا طالش، علاؤ الدین، سدھیر، کیمرہ مین نبی احمد، کامران مرزا اور فاضل، ایڈیٹر رحمت علی وغیرہ کا خیال تھا کہ اگر بھارتی فلموں کی نمائش شروع ہو گئی تو پاکستانی فلم انڈسٹری بحران کا شکار ہو جائے گی۔ اب اس کا کیا علاج کہ بھارتی فلموں کی نمائش کے بغیر بھی پاکستانی فلم صنعت ٹھپ ہو گئی ہے۔ فلم کا کمرشلی کامیاب یا ناکام ہونا ایک مختلف بحث طلب موضوع ہے اچھی فلم ہر مارکیٹ میں اپنی جگہ بناتی ہے۔ کیا بھارت میں بری فلمیں ناکام نہیں ہوتیں۔ کیا ہالی ووڈ کی ہر فلم کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیتی ہے۔ اگر فلم اچھی ہے تو اسے دنیا کے ہر کونے میں سرپرستی ملے گی۔ ہاں البتہ مملکت خداداد کشور حسین ملک شادباد کی بات وکھری ہے۔ جہاں عورت، گدھا اور کتا سامنے آئے تو نماز ٹوٹ جاتی ہو وہاں اچھی فلم کیسے بن سکتی ہے:

حد ادب کی بات تھی حد ادب میں رہ گئی
اس نے کہا کہ میں چلا میں نے کہا کہ جایئے