دہشت گردی کا کاروبار
- تحریر سرور غزالی
- جمعرات 23 / فروری / 2017
- 6137
پیسہ کمانا مردوں کا شیوہ ہے۔ پیسہ کمانا جسے نہ آیا وہ مرد نہیں ہے۔ پہلے جب انسان شکار پر ہی گزارا کرتا تھا تو بھی شکار کرکے لانا مردانگی کے زمرے میں شامل تھا۔ بعد کے زمانے میں گرچہ لفظ کمانا معیوب بھی سمجھا جاتا رہا ہے۔ کمانا دراصل انسانی فضلہ کو صاف کرنے کو بھی کہتے تھے۔ اور کہا جاتا تھا کہ کیا آج جمعدار کما گیا ہے۔
لفظ کمانے کو ہمیں بچپن سے ہی کراہیت کے فعل سے منسوب کرکے سکھایا گیا کہ کمانا تو جمعدار کا کام ہے۔ اور اسی لیے روپیہ پیسہ کو ہاتھ لگانے کے بعد ہمیں ہاتھ دھونے کی سختی سے پابندی کرنا ہوتی تھی۔ یوں کمانے کو اور اس سے حاصل ہونے والے رقم کو تھوڑے فاصلے سے دیکھنا اور محتاط طریقے سے استعمال کرنا شرفاء کی وجہ پہچان تھی۔
مگر جیسے زمانے کی ہر چیز بدل چکی ہے اقدار و تہذیب نئی انگڑائی لینے لگی ہے تو کمانے کا حسن بھی دوبالا ہوگیا ہے۔ خود کمانا اب صرف مذکر نہیں بلکہ ایک حسین دوشیزہ بن گئی ہے۔ لیکن اب بھی پیسہ کمانا مردانگی اور ہمت کا کام ہے اور حوصلہ افزائی کے لیے اگرچہ خواتین بھی آگے آگئی ہیں بلکہ خود بھی شامل ہوگئی ہیں۔ اور اب مردوں کا روایتی شکاری کا تصور بھی ماند پڑ گیا ہے۔ ان سب کے ساتھ روپیہ پیسہ کمانے میں جائز ناجائز کی سرحد تیزی سے گر رہی ہے۔ اب اگر دو اور دو چار ہی گنے جائیں تو بھلا منافع کیا ہوا اور منافع کے بغیر تو سودا گھاٹے کا ہی ہؤا نا۔ اسی لیے کمانا جو کہ اب بزنس کہلاتا ہے اس میں دو اور دو پانچ ہی چلتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ سر میں صرف سودا ہی سمایا ہو تو یہ بھی ناقابل علاج ہے۔
کامیاب بزنس کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ روپیہ کی تین اٹھنی بن رہی ہے۔ یہ بات درست تو ہے مگر اب تو روپے میں اتنا دم خم ہی رہا ہے کہ بس تین اٹھنی بن جائے ورنہ اصلی بزنس تو ڈالروں میں ہوتا ہے ایک کے دس۔ یعنی ایک ڈرون بھیج کر دس اسٹنگرز کا سودا کریں۔ اب تجارت کے اصول اور ہیں۔ چھوٹی چھوٹی کرپشن پکڑی جاتی ہے۔ ٹیکس نادہدگان کو سزا دے کر حکومتیں خود اسلحہ بیج بیج کر ٹیکس کے نظام کو سہارا دیتی ہیں۔ آج ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ آئی ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے بغیر داعش کا خاتمہ ممکن نہیں۔ یہ سن کر تو بہتوں کا ایمان متزلزل ہوگیا ہوگا۔ مگر نہیں دہشتگردی ایک بہت بڑی تجارت ہے ۔ اور جیسا نظر آتا ہے ویسا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا ایمان سے کہیں زیادہ ایقان سے تعلق ہے۔
حکرانوں کو قلندر بابا اولیاء درویشوں سے اسی لیے پریشانی رہی ہے کہ وہ بزنس کے بنیادی اصولوں طمع، حرص اور اصراف کی مخالفت پر کمر بستہ رہتے تھے۔ انسانوں کا جمع غفیر ان کے پاس لگا ہوتا تھا اور دولت کی کمی ان کے درباروں میں ڈیرہ ڈالے رہتی۔ بزنس کے اصول چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے کی بجائے دمڑی نہ ملے بے شک چمڑی کی عزت نفس مجروح نہ ہو کہ اصول پر کاربند یہ پیر فقیر اور قلندر اپنی دنیا میں مست رہتے تھے۔ اور ان کے درباروں کی رونق شاہ وقت کے لیے کھلا چیلنج ہوا کرتا تھا ۔ اور آج بھی ہے۔ یزید نے دولت و حکومت دونوں حاصل کیں۔ مگر تاریخ اسے یزید ہی کے نام سے یاد رکھے گی۔