کٹہرا اپنا اپنا
- تحریر سید شاہد عباس
- جمعرات 23 / فروری / 2017
- 5340
پانامہ کیس کی سماعت مکمل ہوئی۔ نیا بینچ بنا اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت بھی شروع ہو گئی۔ انصاف ہوتا نظر بھی آ رہا ہے۔ جو سب چھپائے بیٹھے تھے انہیں سب سامنے لانے پہ مجبور کر دیا گیا ہے۔ اور جو بنا دلائل کے خطابت کے زعم میں سزا دلوانے کے چکر میں تھے ان سے بھی کہہ دیا گیا ہے کہ بھئی انصاف کے تقاضوں کے مطابق دلائل دیں نہ کہ اپنی خطابت کی مہارت آزمائیں۔
نعرے کہیں دور رہ گئے ہیں اور فیصلہ عدل کے ایوانوں میں پہنچ گیا ہے۔ اور لگتا ہے فیصلہ ہوگا۔ سب کو جس انداز سے سنا جا رہا ہے اس سے کم از کم یہ تاثر تو مضبوط ہو چکا ہے کہ انصاف کا ترازو سب کو حقائق و شواہد کے مطابق تولنے کو تیار ہے۔ اور شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے کہ کچھ اندازہ نہیں کہ فیصلہ کس کے حق میں آئے گا اور کس کے خلاف۔ مگر لرزہ ہر طرف طاری ہے کہ منصف روزانہ کان کھول کر سنتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ آپ یہ توقع نہ رکھیں کہ ہم بنا دیکھے، سنے، جانچے فیصلہ کر دیں گے۔ یا ہم سب کچھ سامنے پا کر بھی فیصلہ نہیں دیں گے۔ خوشگوار حیرت ہوئی کہ اس دفعہ فریقین ہی یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ اعلیٰ عدالت جو بھی فیصلہ دے گی ہم قبول کریں گے۔ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ پاکستان میں انصاف کی راہداریوں میں سچائی کا غلبہ ہے۔ جس پہ سب کو یقین ہے۔
تمام مثبت اشاریوں کے باوجود افسوس ناک صورت حال سامنے ہے کہ ایوانِ عدل میں منصفین کے سامنے دلائل، حقائق رکھنے کے بعد جب راہداری سے خواتین و حضرات باہر تشریف لاتے ہیں تو اپنے تئیں خود فیصلے صادر کرتے نظر آتے ہیں۔ اکثر سنتے آئے تھے کہ جو معاملہ عدالت میں پہنچ جائے اس پہ نہ تو رائے دی جانی چاہیے نہ اُسے عوامی مقامات پہ بحث میں الجھایا جائے کہ اب یہ معاملہ انصاف کے ترازو کے پلڑوں میں ہے۔ مگر قانون بنانے والے خود اس امر کو ایک طرف رکھ کر سماعت کے فوراً بعد ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا اپنی قابلیت سمجھا شروع ہو گئے ہیں۔ نہ جانے عقل بھنگ پی کر سو چکی ہے جو وہ جنجھوڑ نہیں پا رہی کہ حضور خدارا اعلیٰ عدالت کو اپنا فیصلہ سنانے دیں۔ پھر چاہے آپ بیچ چوراہے اپنے فیصلے صادر کریں یا پھر الفاظ کو بنا لباس سامنے لائیں۔ اور حد تو یہ ہے کہ جس پر الزام ہے، وہ پورا خاندان خاموشی کی عملی تصویر بنا بیٹھا ہے اور ہرکارے نہ جانے کیوں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن رہے ہیں۔
ایک دوسرے کی عزتیں نیلام کرنے کی بجائے اگر عوامی نمائندے اس تمام معاملے کو انصاف کے تقاضوں کی تکمیل تک پس پشت ڈال کر خاموشی اختیار کرلیں تو شاید پاکستان میں بسنے والا ہر ذی شعوراس کو اپنے اوپر احسان سمجھے گا۔ بنا تیاری ، بنا ثبوت، بنا جواز، بنا دستاویزات جب جب بھی منصفین نے عوامی نمائندوں کی کلاس لی تب تب ہی انہوں نے اپنا غصہ عوام پر اتارا اور عوام کی سماعتوں کا وہ امتحان لیا کہ کان کے پردے بھی دہائی دے رہے ہیں۔ عقل شاید اتنی اندھی ہو چکی ہے کہ ایوان انصاف کے باہر ملائے گئے ہر طرح کے قلابے کسی کام کے نہیں اور فیصلے پر کسی بھی طرح سے اثر انداز نہیں ہو پائیں گے۔ سوائے دونوں فریقین کی جگ ہنسائی کے۔ لگ یہی رہا ہے کہ عوام کو اب اپنی مدد آپ کے تحت روئی کا بندوبست کرنا پڑے گا کہ جیسے ہی ہر روز سماعت اختتام کو پہنچے یا تو اپنے ٹی وی سیٹ کی آواز بند کر دیں یا اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لیں۔ کیوں کہ جس طرح کے بخیے مرد و زن اکھیڑتے نظر آتے ہیں کچھ بعید نہیں کہ ایک نئی سیاسی ڈکشنری بنانی پڑے جس کے سر ورق پر جلی حروف میں لکھا جائے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر پاکستانیوں کا پڑھنا منع ہے۔ حیرانی تو اس بات پہ ہوتی ہے کہ الزام لگانے والے اور الزام کا جواب دینے والے دونوں حضرات اس تمام معاملے سے پہلوتہی برتتے نظر آتے ہیں۔ نہ جانے زعم کیا ہے کہ فیصلے سے پہلے فیصلہ صادر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں شاید کوئی اچھا لفظ استعمال کرنا ممنوع بن چکا ہے۔ اور یہ خیال اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ جب تک کسی کی پگڑی سر بازار اتاری نہیں جائے گی تب تک آپ اچھے سیاستدان شمار نہیں کیے جائیں گے۔
بہرحال پاکستانی دنیا کی واحد قوم ہیں جو اُمید کے سہارے زندہ ہے۔ اُمید ہے کہ پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ عنقریب ہو جائے گا۔ اُمید قوی ہے کہ صحت تک رسائی ایک عام پاکستانی کی بھی جلد ہو جائے گی۔ یہ بھی اُمید روشن ہے کہ تعلیم پہ ہر پاکستانی کا یکساں حق ہوگا۔ یہ اُمید تو بہت ہی زیادہ مضبوط ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کے حکمران اپنا تن من دھن پاکستان کی فلاح پہ لگا دیں گے۔ تن اور من تو وہ لگا ہی رہے ہیں صرف ایک دھن ہی تو نہیں لگا رہے مگر ہم پاکستانی کسی بھی طرح سے مطمئن ہونے کا نام نہیں لیتے۔ اتنی محنت تو ہمارے سیاستدان کر رہے ہیں وہ بھی بھولے عوام کے لیے ۔ روز سماعت کے بعد پریس کانفرنس کا انعقاد جس طرح سے فریقین کر رہے ہیں کیا اس سے کوئی شک رہ جاتا ہے کہ انہیں عوام کی بھلائی کی کتنی پرواہ ہے۔ بھلا اب وہ اپنے مخالفین کی عزتیں بھی نہ اچھالیں تو اور کیا کریں۔
قصہ بس دھن کا ہے۔ مقصود بس نشست اقتدار ہے۔ جن کے پاس اقتدار ہے وہ اسے مضبوط کرنے لیے الفاظ کی ایلفی ڈال رہے ہیں۔ اور جن کے پاس فی الوقت اقتدار نہیں ہے وہ ہاتھ میں لفظوں کا ہتھوڑا لیے کرسی کو توڑنے کی فکر میں ہیں۔ حاصل فکر بس اقتدار ہے۔ اسی لیے جیسے ہی کروفر زدہ نمائندے عدالت سے باہر آتے ہیں تو فوراً اپنا الگ الگ کٹہرا سجا لیتے ہیں۔ انصاف کا ترازو ہلنے میں تو کچھ وقت باقی ہے مگر نام نہاد عوامی نمائندے اپنی اپنی عدالت اور اپنا اپنا کٹہرا قائم کرکے کم از کم دل کے پھپھولے تو پھوڑ ہی لیتے ہیں۔