پاکستانی تھنک ٹینک
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعہ 24 / فروری / 2017
- 5062
یہ جاننا مشکل ہوگا کہ ہمارے ملک میں سوچ بچار کرنے والوں کی کیا اہمیت اور افادیت ہے۔ لکیر کے فقیر ہمارے ملک میں خوب دھوم مچاتے ہیں اور آؤ بھگت کے اہل ٹھہرتے ہیں۔ صحیح معنوں میں سوچ بچار کرنے والے لوگوں کو ان چیزوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ مگر باقی دنیا ان سوچ بچار کرنے والوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے اور ان کی تحقیق اور ان کے کام کو انتہائی قدر اور اہمیت دی جاتی ہے۔
اخبارات اور دیگر رسائل سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں ان جہاں دیدہ لوگوں کو "تھنک ٹینک" کہ نام سے جانا جاتا ہے۔ ان لوگوں کا کام وقت سے پہلے وقت میں پوشیدہ معاملات کو جانچنا اور اربابِ اختیار کو آگاہی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں ترقی کی بنیادی وجہ یہی لوگ ہیں اور یہی لوگ ترقی اور پسماندگی کا فرق ہیں۔ جنہوں نے ان افراد کو اہمیت دی اور ان کے دیئے ہوئے مشوروں پر عمل کیا وہ آج دنیا کے اہم امور چلا رہے ہیں۔ یہ لوگ درحقیقت حکومت اور حکومتی اداروں کو راستہ دکھانے والے ہوتے ہیں۔ یہ "تھنک ٹینک" اپنی وسیع النظری کی بدولت ملک کو پیش آنے والے مسائل سے آگاہ کرتے ہیں اور ان سے کس طرح نمٹا جا سکتا ہے اس پر اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ یہ وسائل کی دریافت میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ لوگ مشکلات سے نمٹنے کی تدبیریں تلاش کرتے ہیں اور اپنے حکمرانوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان لوگوں میں غدار بھی ہوسکتے جو ملک کو تباہی اور بربادی سے بچانے کی بجائے اس میں دھکیل دیں۔ اس کا امکان بہت کم ہوتا یے۔ یہ اپنی حیثیت اور اختیارات کی بدولت ایسی مقام پر ہوتے ہیں کہ کوئی ان پر انگلی بھی نہیں اٹھا سکتا۔
ہر ملک اپنے "تھنک ٹینک" کی بدولت مستقبل کی پیشرفت مرتب کرتے ہیں اور انہیں اہمیت دیتے ہیں۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں "تھنک ٹینک" معلوم نہیں کیا سوچتے ہیں۔ یہاں خوشامدیوں کی دال جلدی گلتی ہے تو تھنک ٹینک بطور خوشامدی جانے جاتے ہیں۔ جبھی تو کرپشن میں ہم پاکستانی آگے سے آگے نکلتے جا رہے ہیں اور ان فہرستوں میں نوے فیصد وہ لوگ ہوں گے جو اس ملک کی باگ ڈور چلانے میں مصروف ہیں۔ ہمارے تھنک ٹینک بنیادی طور پر امن کہ پیامبر ہیں۔ جو کسی سانحہ اور حادثے سے اس وقت تک آگاہی فراہم نہیں کرتے جب تک وہ وقوع پذیر نہ ہو جائے۔ پاکستانی تھنک ٹینک حادثات سے نمٹنے کی سہولیات پر زور کیوں نہیں دیتے، یہ کیوں سرکاری اداروں کو کارآمد بنانے میں مددگار ثابت نہیں ہوت۔، میرٹ کا قتلِ عام رکے گا تو شاید ماہرین ہماری درست رہنمائی کر سکیں۔
دنیا میں پاکستان وہ واحد ملک ہوگا جہاں کے لوگ بغیر کسی وجہ کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنے جانی اور مالی نقصان اٹھائے جا رہے ہیں۔ پاکستان نے دنیا میں ہونے والی دہشت گردی کی ہمیشہ بھرپور مذمت کی ہے مگر دہشت گردی ہمارا پیچھا چھوڑنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ ہمیں ہمیشہ دوسروں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستانی تھنک ٹینک کا فرض ہے کہ وہ مفادات پر نظر رکھنے کی بجائے، حقیقی مسائل پر غور کریں اور اداروں، اربابِ اختیار اور سب سے بڑھ کر عوام کی درست رہنمائی کریں۔ تاکہ ملک و قوم موجودہ مشکلات سے نجات حاصل کرسکیں۔
تاہم اہل دانش کا یہ اجتماع اسی صورت میں قومی مقاصد کے لئے کام کرسکتا ہے جب حکومت اور ادارے بھی ان لوگوں کی افادیت کو تسلیم کریں گے اور ملک میں غور و فکر کرنے والے لوگوں اور ماہرین کو عزت و احترام فراہم کریں۔