سی پیک کے ثمرات سب کے لئے
- تحریر چوہدری ذوالقرنین ہندل
- سوموار 27 / فروری / 2017
- 10564
سی پیک اکنامک کوریڈور کا معاہدہ پاکستان اور چین کے اشتراک سے 2015میں طے ہوا۔ جس میں اقتصادی راہداری کے روٹ اور گوادر سمیت بہت سے منصوبے شامل ہیں۔ اس منصوبے پر کام جاری و ساری ہے جو چند سالوں میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ سی پیک اکنامک کوریڈور صرف ایک راہداری کا نام نہیں۔ بظاہر نام سے یہ ایک راہداری ہی لگتا ہے لیکن اس منصوبے کے تحت پاکستان میں توانائی سمیت بہت سے پراجیکٹس پر کام کیا جائے گا۔
ان میں بجلی وگیس سر فہرست ہیں۔ سی پیک منصوبہ کے تحت چین، پاکستان میں مختلف پراجیکٹس پر 46 ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ جس میں سے 35 ارب ڈالر توانائی اور دیگر صوبائی منصوبوں کے لئے صرف ہوں گے۔ باقی 10 ارب ڈالر پاکستان اپنے افراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لئے مختلف مقامات پر استعمال کرسکے گا۔ 46 ارب ڈالر کی رقم براہ راست پاکستانی حکومت کو نہیں دی جائے گی بلکہ چین خود اپنی زیرنگرانی یہ رقم مختلف پراجیکٹس پر خرچ کر رہا ہے۔ فقط کچھ چھوٹے پراجیکٹس و مقامات پر ہی پاکستانی حکومت کی رقوم تک رسائی ہے۔ زیادہ تر بڑے پراجیکٹس کی نگرانی چین خود ہی کر رہا ہے۔ اسی بنا پر اس راہداری منصوبے میں کرپشن کے مواقع بہت کم ہیں۔ جہاں تک صوبوں کی بات ہے تو سب صوبوں کو ان کے حصے اور مواقع کے مطابق راہداری میں شامل کیا گیا ہے ۔تاہم صوبائی حکومتیں اپنی پھرتی کی بنا پر کچھ وافر کام بھی لے سکتی ہیں۔اس پھرتی میں پنجاب کا نام سر فہرست ہے۔ سندھ بھی کوششوں میں مصروف ہے ۔یہ بتانے کا مقصد ہے کہ وفاقی حکمران پارٹی جس کی زیادہ اکثریت پنجاب سے ہے، کسی ناانصافی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
سی پیک کے ثمرات سب کے لئے ہیں۔ چین اس راہداری پر صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے ہی کام کر رہا ہے۔ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ راہداری منصوبے کے ثمرات تمام صوبوں تک پہنچیں گے۔ جن پر کام جاری و ساری ہے۔ سی پیک کے ثمرات سے سب سے زیادہ مستفید بلوچستان اور خیبر پختونخواہ ہوں گے۔ صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک بھی اس کے ثمرات پہنچیں گے۔ سی پیک کے ذریعے ملک کے مختلف علاقوں میں ہائیڈرل پاور پراجیکٹس، کوئلے سے بجلی بنانے کے پلانٹس، ہوا سے بجلی بنانے والے ونڈ ٹربائینز اور سورج سے بجلی بنانے والے سولر پاور پلانٹس لگائے جائیں گے۔ ان میں سے چند پر کام بھی جاری ہے۔ میرے خیال سے تمام صوبائی حکومتوں کوسی پیک سے پوری طرح سے مستفید ہونے کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور چین کو توانائی کے بہترین مواقع سے آگاہ کرنا چاہئے تاکہ ایسے منصوبوں پر عملدرآمد ہو سکے۔
پاکستان اس راہداری کے ذریعہ بلوچستان اور دور دراز کے علاقوں میں بجلی گیس اور سڑکوں کے جال بھی بچھا رہا ہے۔ انٹرنیٹ کی سہولت کے لئے فائبر آپٹکس کے جال بھی اسی منصوبہ کے ذریعہ بچھائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے بہتر ہوتے انفراسٹرکچر کو دیکھ کر ہی دوسرے ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ سی پیک منصوبے کے تحت گوادر اور اس کے قریبی علاقہ میں پاکستانی دفاع کو مزید مضبوط اور بہتر بنانے کے لئے بھی بھاری رقم استعمال کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ بحری مشقیں بھی دفاع کو بہتر بنانے کے لئے کی گئیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سی پیک کی شکل میں بیج بویا جا رہا ہے جو مکمل ہو کر پاکستان کے لئے میٹھا پھل ہی ثابت ہوگا۔ بلاشبہ اس کی تکمیل سے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔ روز گار کے مواقع بڑھیں گے۔ فوری طور سے لاکھوں پاکستانی مزدور بھی سی پیک سے مستفید ہو رہے ہیں۔
جہاں پاکستان اس سے مستفید ہوگا وہیں دوسرے ممالک تک بھی اس کے ثمرات پہنچیں گے۔ چین کو ایک آسان اور شارٹ کٹ راستہ مل جائے گا وہ آسانی سے دوسرے ممالک تک رسائی حاصل کرسکے گا۔ برآمدات اور درآمدات میں باآسانی اضافہ کر سکے گا۔ اس منصوبے سے روس، افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا کے ممالک قازکستان، ازبکستان وغیرہ اورمغرب حتی کہ بھارت بھی مستفید ہوگا۔ ان سب کے لئے یہ آسان تجارتی راستہ ہوگا۔ لیکن بھارت کو ہرگز گوارا نہیں کہ وہ پاکستان کو خطے میں ایک اقتصادی مرکز کی حیثیت میں دیکھ سکے۔ اسی لئے وہ سی پیک کو نقصان پہنچانے کے لئے سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ پاکستان بھارت کو بھی اس منصوبے میں شرکت کی دعوت دے چکا ہے۔ لیکن بھارت شامل ہونے کی بجائے افغانستان کے راستے پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔
بھارت اس منصوبے میں شامل ہوکر خطے میں اپنی اقتصادی پوزیشن کو بہتر کرسکتا ہے۔ اپنی برآمدات و درآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ لیکن مسلسل بھارت منصوبے کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے، جو کسی روز اسے اپنے نقصان کی شکل میں چکانا پڑے گا۔ اب افغانستان جو براہ راست سی پیک کا حصہ ہے اسے بھارت کا سہارا چھوڑ کر خود کو مستحکم کرنا چاہئے۔ کیونکہ یہی ایک موقع ہے کہ افغانستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ برصغیر ایشیا کا یہ خطہ سی پیک کی تکمیل سے بہت سے ثمرات سمیٹے گا اور اس کا سہرا پاکستان کے سر ہے۔
پاکستان کو اپنی اندرونی معاملات فوری حل کرنے چاہئیں تاکہ سی پیک کی کامیابی پر توجہ مرکوز رہے۔ اور بیرون ممالک اپنی سرمایہ کاری پاکستان میں کرنے سے گریز نہ کریں۔ بلکہ کھلے دل سے سرمایہ کاری کریں۔ اگر سی پیک پر کام پوری توجہ اور محنت سے کیا جائے تو سی پیک پراجیکٹ پر لگنے والی سرمایہ کاری مزید بڑھ سکتی ہے۔ دوسرے ممالک بھی اس پر سرمایہ کاری کرسکتے ہیں کیوں کہ اس میں ہی سب کے لئے فوائد و ثمرات ہیں۔ واقعی یہ خطے کے لئے گیم چینجر ہے دنیا اس سے آگاہ ہے۔ اور جو آگاہ نہیں انہیں بھی چند سالوں میں علم ہو جائے گا۔