دارالفساد میں آپریشن ردالفساد

(پاکستان جو کبھی امن کا گہوارا تھا، آج لوگ اسے دارالفساد کہہ رہے ہیں، جبکہ پاک فوج نے ایک نیا آپریشن شروع کیا ہے جس کو ’’آپریشن ردالفساد‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔  ذیل کا مضمون دارالفساد اور’’آپریشن ردالفساد‘‘ کے تناظر میں لکھا گیا ہے)

جنرل (ر) راحیل شریف 29 نومبر 2013 سے29 نومبر 2016 تک ایک متحرک فوجی سربراہ رہے ہیں۔ انہوں  نے ریٹائر منٹ کے وقت پاک فوج کی کمان جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے کی۔ راحیل شریف نے جس وقت پاکستانی آرمی کی کمانڈ سنبھالی تو ملک میں دہشتگردی عروج پر تھی  اورملک کی مذہبی جماعتیں،  پاکستان تحریک انصاف اور خود پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت   کی یہ خواہش تھی کہ تحریک  طالبان پاکستان سے امن مذاکرات کیے جائیں۔ تاہم مذاکرات کے باوجود 29 جنوری سے آٹھ جون 2014 تک دہشتگردی کے 20 واقعات میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 195 افراد جاں بحق ہوئے۔

اتوارآٹھ جون 2014 کی درمیانی شب کو کراچی کےجناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طالبان دہشت گردوں کی جانب سے حملہ ہوا۔ ریکارڈ کے مطابق آٹھ جون 2014 تک ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں 52ہزار409 افراد نشانہ بنے جبکہ سیکورٹی فورسز کے 5ہزار775 اہلکارشہید ہوئے۔ 396 خود کش حملے ہوئے جس میں 6ہزار21 افراد جاں بحق اور12ہزار558 افراد ذخمی ہوئے۔  4 ہزار932 بم دھماکے ہوئے، جبکہ اہم فوجی تنصیبات، جن پر حملے کیے گئے ان میں جی ایچ کیو، منہاس ایئر بیس، مہران نیول بیس اور پاکستان آرڈیننس فیکٹری شامل ہیں۔ 15 جون 2014 کو افواج پاکستان نے طالبان دہشت گردوں کے خلاف از خود ایک بھرپور آپریشن کا آغاز کیا۔ ’العضب ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی تلوار کا نام ہے، اسی مناسبت سے پاک فوج نے آپریشن کا نام "ضرب عضب" رکھا، جس کا مطلب "ضرب کاری" یعنی دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ۔ پوری قوم نے اس مبارک نام پر پاک فوج کو مبارکباد دی اور اس کی کامیابی کی دعا کی۔

ملکی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘  شروع ہونے کے بعد جنرل  راحیل شریف نے دہشت گردوں کے خلاف سخت موقف اخیتار کیا۔ 4 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلی فاٹا کی دوسری بڑی ایجنسی شمالی وزیرستان میدان جنگ بنی۔  پربہترین جنگی حکمت عملی سے زمینی کاروائیوں کے ساتھ فضائی حملے بھی کیے گئے۔ 20 اگست 2014 تک  دہشتگردوں کے بنیادی ٹھکانوں سے ان کو مار بھگایا گیا۔ سانحہ پشاور کے بعد پوری قوم ایک نئے عزم کے ساتھ دہشتگردی کے خاتمے کا ارادہ کرچکی تھی۔ ایک طرف آپریشن ضرب عضب میں تیزی آئی تو دوسری جانب شہری علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں میں امن کے دشمنوں کو ٹھکانے لگانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ آپریشن ضرب عضب کے ساتھ آپریشن ’خیبر ون‘ اور ’خیبر ٹو‘ بھی کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ آپریشن ضرب عضب کے آخری مرحلے میں 18 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع شوال گھنے جنگلات پر مشتمل ایک دشوار گزار علاقہ تھا اور عسکریت پسندوں نے یہاں پناہ گاہیں قائم کرنے کے علاوہ اس علاقے کو سرحد کے آر پار نقل و حرکت کا ایک اہم راستہ بنا رکھا تھا۔ یہ علاقہ دو قبائلی ایجنسیوں شمالی و جنوبی وزیرستان کے سنگھم پر  واقع ہے۔ اس علاقے سے دہشتگردوں کا مکمل صفایا مئی 2106 میں کردیا  گیا تھا۔

جون 2016 میں ’شوال آپریشن‘ کے نگران بریگیڈیئر شبیر ناریجو نے صحافیوں کو بتایا کہ فروری میں شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کا آخری مرحلہ شروع کیا گیا تھا اور اب مکمل طور پر شوال کے علاقے کو عسکریت پسندوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول فوج نے 100 سے 120 مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک اور 80 کے لگ بھگ شدت پسندوں کو زخمی کیا جب کہ اس دوران فوج کے ایک کیپٹن سمیت چھ اہلکار جان کی بازی ہار گئے اور اسپیشل فورسز کے ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت 26 اہلکار زخمی ہوئے۔ آپریشن ضرب عضب میں اب تک دہشت گردوں کے 900 سے زائد ٹھکانوں سمیت ان کا انفراسٹرکچر تباہ کردیا گیا، جبکہ تقریبا 4 ہزار دہشتگرد مارے گئے۔ انٹیلی جنس کی بنیاد پرملک بھرمیں 10 ہزار سے زائد کارروائیوں میں 200 سے زائد خطرناک دہشتگرد مارے گئے اور18 ہزارسے زائد کو گرفتار کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اپریل 2016 تک شوال میں 640 مربع کلومیٹر کے علاقے میں 252 دہشتگرد مارے گئے جبکہ 160 زخمی ہوئے۔ اس محاذ پر 8 سیکورٹی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا، 39 زخمی ہوئے۔

یکم جنوری 2016 کو پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پوری قوم کو اپنے طور پریہ خوشخبری سنائی تھی کہ ’’اُن کو پورا یقین ہے 2016 دہشت گردی کا آخری اور یکجہتی کا سال ہوگا‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کی حمایت سے دہشتگردوں، مجرموں اور کرپشن کا گٹھ جوڑ توڑدیں گے۔ راحیل شریف کے اس بیان کے آٹھ دن بعد پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نےنو جنوری 2016 کوگوادر میں ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے فرمایا تھا کہ دہشت گردی ختم ہوگئی ہے، صرف دُم باقی رہ گئی ہے۔ بھاگتا چور جاتے جاتے کچھ نہ کچھ تو کرتا ہے۔ دہشتگردوں کے متعلق ایک اور بات یہ بھی کہی گئی کہ ہم نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے، لیکن افسوس  ابھی تک نہ تو وزیر اعظم کا چور بھاگا ہے اور نہ ہی  دہشتگردوں کی کمر ٹوٹی ہے۔ کیونکہ  بھاگتے ہوئے  ٹوٹی کمر والے چور (دہشتگرد) نے  27مارچ 2016 کو لاہور کے اقبال پارک  میں کرسچن برادری کو نشانہ بنایا، 75 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔  آٹھ اگست 2016 کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں داعش کی حامی شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار نے خود کش حملہ کیا، جس میں 71 افراد ہلاک جبکہ 112 سے زائد زخمی ہوئے۔ صرف دو دن بعد 11 اگست 2016 کو فیڈرل شریعت کورٹ کے جج ظہور شاہوانی کے قافلے کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا جس میں 14 افراد زخمی ہوگئے۔ چوبیس اکتوبرکی رات کوئٹہ کےسریاب روڈ پر واقع پولیس تربیتی مرکز میں تین مسلح دہشت گردوں نے حملہ کرکے 61 اہلکاروں کو شہید اور100 سے زیادہ کو زخمی کردیا۔  جاں بحق اور زخمیوں میں زیادہ تر زیر تربیت  پولیس اہلکار تھے۔ بارہ نومبر 2016 کو خضدار کے علاقے میں درگاہ شاہ نورانی کے سالانہ میلہ میں ایک خود کش حملہ آور نے وہاں ہونے والے دھمال کے دوران اپنے آپ کو  دھماکے سےاڑا ڈالا ۔ 52 یا اس سے زیادہ لوگ جاں بحق ہوئے اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

انیس جنوری 2017 کووفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے سینیٹ میں تحریری طور پر پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق 2013 سے2017 کے دوران دہشت گردی کے مجموعی طور پر 5321 واقعات پیش آئے جن میں 4613 افراد ہلاک جبکہ 12188 زخمی ہوئے۔ 2016 میں دہشت گردی کے 785 واقعات میں 804 افراد ہلاک ہوئے۔ انتیس نومبر 2016 کو جنرل راحیل شریف ریٹائر ہوئے تو ملک میں  بڑے پیمانے پردہشتگردی ہورہی تھی۔  اگرچہ دہشتگردوں کے خلاف   آپریشن ضرب عضب کے ذریعے کافی کامیابیاں بھی ملیں لیکن جنرل راحیل شریف کا یہ دعوی کہ سال 2016 میں پاکستان سے دہشتگردی ختم ہوجائے گی، ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ لیکن یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہوگا کہ آپریشن ’ضرب عضب‘ ایک  کامیاب آپریشن رہا ہے۔ سال 2014 میں دہشتگردی کے باعث عام لوگوں کی ہلاکتوں میں 40 فیصد تک کمی آئی تھی جبکہ سال 2015 میں 65 فیصد اورسال 2016 میں 74 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی ذمہ داری وفاقی وزارت داخلہ اور صوبائی حکومتوں کی  ہے جو انہوں نےپوری نہیں کی اور نہ کررہے ہیں۔
(جاری ہے)