یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، مذہبی معاملہ نہیں!

ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ برس برطانیہ میں سامی مخالف حملے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ نسلی منافرت کے واقعات (جن میں قتل کی دھمکیوں سے لے کر جسمانی حملے شامل ہیں) میں 30 فیصد اضافہ کے بعد ان کی تعداد 600 تک پہنچ گئی ہے۔ برطانیہ میں یہودیوں کو حفاظت کے معاملے پر مشورہ دینے والے کمیونٹی سیکورٹی ٹرسٹ کے مارک گارڈنر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 25 برس (جب سے ایسے واقعات کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے) کے دوران یہ بدترین اعدادوشمار ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تناؤ کا الزام برطانوی یہودیوں کو دیا جاتا ہے اور بعض اوقات ان پر حملے کئے جاتے ہیں جب کہ اس حوالے سے ان پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔

ادھر بین الاقوامی یہودی کانگریس (WJC) نے ایک رپورٹ جاری کی ہے ’’یورپ میں اسلام کا فروغ‘‘ کے نام سے جاری اس سروے رپورٹ میں یہودی کانگریس نے لکھا ہے کہ 2077 تک یورپ میں مسلمانوں کے احوال و کوائف میں غیر معمولی آبادیاتی انقلاب رونما ہوگا۔ اس سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آج کل یورپ اور امریکہ میں مذہب اسلام کو زبردست فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ حالیہ عرصہ میں یورپ کے مسلمان قابل لحاظ حد تک سیاسی طاقت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اگر مستحکم سیاسی نمائندگی کا یہی حال رہا تو 2020 میں یورپ کی عام آبادی میں ان کی شرح تناسب 10 فیصد ہوجائے گی۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ میرے ملک ہالینڈ کی  آبادی میں مسلمانوں کی شرح تناسب ابھی سے 10 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

یورپ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے یہودی عالمی کانگریس دو وجوہ کی بنا پر تشویش میں مبتلا ہے۔ پہلی وجہ سیاسی ہے جو ایک طرف یورپی ممالک میں ’’یہودی کالونیوں‘‘ اور ان کے سیاسی نظریات و اثرات کی اہمیت اور پوزیشن سے تعلق رکھتی ہے۔ تو دوسری طرف ان یورپی ممالک کے موقف سے تعلق رکھتی ہے جہاں آنے والے دنوں میں ’’عرب صیہونی کشمکش‘‘ پر مسلمانوں کے موقف اور ان کے وزن میں گراں قدر اضافہ کی وجہ سے اثر پڑے گا۔ رپورٹ کے مطابق یہودی کالونیوں اور ان کے سیاسی اثرات پر انتخابات میں منفی اثر کا پڑنا فطری ہے کہ دن بدن وہاں مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سے ان کا سیاسی وزن بھی بڑھ رہا ہے۔ یہاں تک کہ یورپی ممالک میں حکومتیں اور سیاسی جماعتیں اسلام سے بڑھتی ہوئی لوگوں کی دلچسپی کو تسلیم کرتے ہوئے علاقائی مسائل میں سیاسی موقف کے یقین کے ساتھ اس کا لحاظ کرنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ میں برطانیہ کے گزشتہ انتخابات کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں اسرائیلی موقف رکھنے والے امیدواروں کے خلاف ہزاروں پمفلٹ اور کتابچے تقسیم کئے گئے اور امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو ملنے والی اقتصادی اور فوجی امداد کو نشانہ بنایا گیا اور اسرائیل کی ناروا، ظالمانہ، صیہونی حکمت عملی کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرب اور غیر عرب  مسلمانوں نے مارکس اینڈ سپنسر جیسے ڈیپارٹمنٹل اسٹوروں کا بائیکاٹ کرنے کےلئے اپیل کی۔ اور بتایا کہ ان کے منافع کے ایک حصے سے اسرائیل کی مدد کی جاتی ہے جس سے اسرائیل کے مظالم اور بڑھ جائیں گے۔ اور فلسطینیوں پر اس کے جوروستم کا شکنجہ مزید کس دیا جائے گا۔

یہودی عالمی کانگریس کی تشویش کی دوسری وجہ ’’امن و سلامتی کو لاحق ہونے والا خطرہ‘‘ ہے کہ یورپی ممالک میں اسلام کا فروغ یہودیت کیلئے خطرہ اور سکیورٹی کیلئے رسک ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے مسلم انتہاپسند حلقوں کی غالب اکثریت یہود مخالف سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی فلسطین میں اسرائیل اپنی کارروائیوں میں تیزی لاتا ہے مغربی یورپ میں یہودیوں کے خلاف رونما ہونے والے واقعات و حادثات کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہو جاتا ہے(واضح رہے کہ یہ رپورٹ حالیہ غزہ پر بمباری سے قبل مرتب کی گئی ہے) اور اکثر مزاحمتی واقعات میں یہودیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اسرائیلی تجزیہ نگاروں و سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں مسلم برادری کے سیاسی وزن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور امریکہ و برطانیہ کے انتخابات میں اس کا انتخابی موقف اس بات کا متقاضی ہے کہ یہودی تنظیمیں اور ادارے خواب غفلت سے جاگیں اور اس رجحان کے تدارک کی تیاری کریں۔ یہودی و اسرائیلی تجزیہ نگاروں نے اس بات پر زور دے کر کہا ہے کہ یورپ میں یہودیوں کی تعداد میں کمی اور مسلمانوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کے باعث یورپ کے یہودی تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ انہیں خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ یورپ میں ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات یہودی باشندوں پر ضرور مرتب ہوں گے۔ مسلمانوں کا یہ انتباہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ وہ ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ منظم، منصوبہ بند اور موثر شکل میں سامنے آئیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ صیہونی لیڈروں نے ایک نیا نعرہ بلند کیا ہے کہ دنیا بھرکے یہودیوں کو فلسطین میں لا کر بسایا جائے۔

صیہونی نظریہ آج کے دور میں صرف یہودی قومیت اور یہودی سامراجیت ہی کی اجارہ داری کا نظریہ نہیں ہے بلکہ نسل پرستی اور سوشلسٹ دشمنی پر بھی مبنی ہے۔ 5 جولائی 1950 کو اسرائیل نے یہ قانون بنایا کہ دنیا بھر کے یہودی اسرائیلی شہریت لے سکتے ہیں۔ صیہونی دانشوروں اور مفکروں نے یہ عجیب و غریب منطق بھی پیش کی کہ وہ یہودیوں کے علاوہ فلسطین میں رہنے والے باقی عربوں کو وہاں کا شہری تسلیم نہیں کرتے۔ اس نرالی منطق کے مطابق اقلیت میں یہودی تو فلسطینی قرار پائے اور اکثریت عربوں کو ’’مہاجر‘‘ بنا دیا گیا چونکہ یہ فیصلہ یکم اپریل 1951 میں کیا گیا اس لئے یہ کوئی پہلی اپریل کا روایتی مذاق نہیں تھا بلکہ اسرائیل کا ایک سنجیدہ اقدام تھ۔ا اس دن سے اسرائیلی حکومت نے عرب دشمنی کا کھل کر اظہار کیا اور عرب علاقوں پر اپنا حق جتانے کی پروپیگنڈا مہم تیز کر دی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت معرض وجود میں آتے ہی عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ کسی بھی حوالے سے دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہودی اس ریاست کو صرف یہودیوں کے لئے مخصوص کرنا چاہتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے کہ نازی یہودیوں کو بے دخل کر کے جرمنی کو صرف نازیوں کی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ صیہونیت اس بات کا دعویٰ بھی کرتی ہے کہ دنیا بھر کے یہودی اسرائیل کے قدیم باشندے ہیں اور یہودی قوم ایک مشترکہ جذبے، مسلسل جدوجہد، ایک مذہب اور ایک مخصوص تاریخ کی مالک ہے۔ صیہونی مفکر ہر مذہبی نسل پرستانہ عقیدے کی طرح یہودیت کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ یہودی خدا کی پسندیدہ نسل اور قوم ہے۔ کیا واقعی ایسا ہےَ؟ یہ قابل غور موضوع ہے:

بلند بانگ ہیں دعوے یہ پارسائی کے
فرشتے سارے ہیں کوئی تو یاں بشر ٹھہرے