گجرات کے گدھے اور یوپی الیکشن
ہندوستان کے الیکشن میں اگر ہنگامہ اور تفریح نہ ہو تو عوام ایسے الیکشن کو بے اثر اور وقت کی بربادی کا سامان سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امیدوار سے لے کر لیڈر، عوام، پولیس ، سرکاری افسر اور فلمی دنیا کے لوگ اس موقع پر طرح طرح کی باتوں اور حرکتوں سے میڈیا کی زینت بننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
ہندوستانی الیکشن میں ایسی باتیں عام ہیں اور اسے عوام کو گمراہ کرنے کا ایک عمدہ طریقہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن عوام کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ان باتوں کو محض تفریح ہی سمجھتا ہے اور الیکشن کے دن وہ اپنا قیمتی ووٹ اسی امیدوارکو دیتا ہے جس پر اس کا اعتماد ہوتا ہے اور اس سے کافی امید بنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ عوام منشور کو بھی مد نظر رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔
پچھلے چند مہینوں سے ہندوستان کے کئی صوبوں میں الیکشن کی مہم اور ووٹنگ ہورہی ہے۔ ان صوبوں میں پنجاب، اتر پردیش، اتر کھنڈ، منی پور اور گوا شامل ہیں۔ لیکن زیادہ تر لوگوں کی نگاہ یوپی الیکشن پرلگی ہوئی ہے۔ یوپی میں الیکشن کی مہم اور ووٹنگ کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی سے لے کر مہان نیتا لالو یادو کے علاوہ کئی معروف لیڈر اپنی اپنی پارٹی کے لئے دن رات بھاشن دے رہے ہیں۔ تو کئی لیڈر اوٹ پٹانگ باتوں سے عوام کو جھانسا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
برطانیہ میں بھی ایشیائی لوگوں کے لئے یوپی کا الیکشن جہاں اہمیت کا حامل بنا ہوا ہے تو وہیں پنجاب سے آکر بسے ہوئے لوگوں کے لئے پنجاب کے الیکشن پر بھی گہری نظر لگی ہوئی ہے۔ پنجاب کو ہندوستان کا ایک خوشحال صوبہ کہا جا تا ہے۔ لیکن پچھلے کچھ برسوں میں پنجاب کے حوالے سے جو خبریں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں، اس سے برطانیہ میں بسے ہوئے سکھوں میں بے چینی اور مایوسی پائی جا رہی ہے۔ اکثر ٹیلی ویژن اور فلموں میں پنجاب کے حوالے سے جب کوئی فلم یا ڈوکومینٹری دکھائی جاتی ہے تو اس میں وہاں کے ہرے بھرے کھیت ، صحت مند نوجوان، حسین عورتیں ، ثقافت، لذیز کھانے، بھنگڑا اور طاقتور سپاہی کو ضرور دکھایا جاتا ہے۔ لیکن ان باتوں کے علاوہ پچھلے کئی برسوں سے ایک مسئلہ پنجاب کی ثقافت اور لوگوں پر کالے بادل جیسے منڈلا رہا ہے۔ جس پر ہر عام و خاص اب یہی سوال پوچھ رہا ہے کہ آخر پنجاب سے اس بلا کو کیسے ختم کیا جائے ۔ اس بلا کا نام نشیلی منشیات ہے جس سے زیادہ تر نوجوان اس کے عادی ہوتے جارہے ہیں اور اس کی وجہ سے کئی خاندان تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
ہندوستان کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ اتر پردیش ہے۔عام طور پر اتر پردیش کو ’یو پی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جہاں کی آبادی لگ بھگ 20.4کروڑہے۔ اگر اتر پردیش کو تھوڑی دیر کے لئے ہم ہندوستان سے الگ کر دیں تو یہ چین، ہندوستان، امریکہ اور انڈونیشیا کے بعد دنیا کا پانچواں سب سے بڑا آبادی والا ملک ہوگا۔ اس صوبے سے اسّی ایم پی کو ہندوستانی پارلیمنٹ کے لئے چنا جاتا ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ یوپی میں جس پارٹی کی جیت ہوتی ہے وہی ملک میں حکومت چلاتی ہے۔ یوپی سے کئی لیڈر ہندوستان کے وزیر اعظم بنے ہیں جن میں جواہر لعل نہرو کا نام کافی اہم ہے جن کا تعلق یوپی کے شہر الہ آباد سے تھا۔ وہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم بنے تھے۔
ہندوستانی وزیر اعظم نے 2014کے عام چناؤ میں اتر پردیش کے وارانسی شہر کو اپنا انتخابی حلقہ چناتھا۔ جبکہ نریندر مودی کا تعلق صوبہ گجرات سے ہے اور وہ وہاں کے وزیر اعلیٰ تھے۔ لیکن اُن دنوں ملک میں مودی لہر اور ان کی باتوں سے لوگ اتنا متاثر تھے کہ ان کا ہندوستان کے کسی بھی شہر سے الیکشن جیتنا طے تھا۔ نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے عام چناؤ میں پورے یوپی میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 282 سیٹوں میں سے 71سیٹ صرف یو پی سے جیتیں تھیں۔
اس وقت یو پی کے صوبائی الیکشن میں سہ طرفہ مقابلہ ہورہا ہے۔ مرکزی حکومت پر قابض بھارتیہ جنتا پارٹی، صوبائی پارٹی بہو جن سماج اور یوپی پر حکومت کرنے والی سماج وادی پارٹی جو کانگریس کے ساتھ مل کر الیکشن لڑ رہی ہیں۔ 1990سے سماج وادی اور بہوجن سماج وادی پارٹیوں نے یوپی میں اپنا غلبہ قائم رکھا ہے اوریہ دو سب سے بڑی پارٹیاں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو حکومت بنانے میں دشواریاں پیدا کرتی ہیں۔
لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کو عام چناؤ میں زبردست کامیابی کے باوجود اس بار یوپی کے الیکشن میں کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پارٹی وزیر اعلیٰ کے امید وار کے نام کا اعلان کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پورا الیکشن وزیر اعظم نریندر مودی کے بل بوتے پر لڑا جارہا ہے۔ نریندر مودی حسبِ معمول اپنے منفرد انداز اور گفتگو کے ذریعہ لوگوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک موقع دینے کی مانگ کر رہے ہیں ۔ ان کی پارٹی کے کئی لیڈروں نے الیکشن کی ریلیوں میں کچھ ایسی متنازعہ باتیں کہہ دی ہیں جس سے الیکشن کمیشن نے نوٹس بھی جاری کیا ہے۔
سماجوادی پارٹی کی قیادت 43؍سالہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کر رہے ہیں۔ 2012 کے الیکشن میں انہوں نے اپنی پارٹی کو شاندار کامیابی دلائی تھی۔ لیکن اکھلیش یادو پچھلے کچھ مہینوں سے خبروں کی سرخیوں میں رہے تھے۔ انہوں نے کھلے عام اپنے پتا کے خلاف باتیں کی تھیں۔ ان کے پتا ملائم سنگھ یادونے انہیں پارٹی سے برخاست بھی کیا تھا لیکن چند دنوں کے بعد انہیں دوبارہ پارٹی میں واپس لے لیا گیا۔ ابھی یہ سارے ڈرامے ہو ہی رہے تھے کہ اکھلیش یادو نے کانگریس سے ہاتھ ملا کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ جس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں کو ایک زبردست دھچکا لگا ۔
بہوجن سماج پارٹی یو پی کی ایک اور طاقتور پارٹی مانی جاتی ہے۔ اس کی قیادت چار دفعہ وزیر اعلیٰ رنے والیں مایا وتی کررہی ہیں جو دلت ذات سے تعلق رکھتی ہیں۔ 2012کے الیکشن میں ڈھیر سارے ہاتھی کے مجسموں بنانے کی وجہ سے انہیں شکست ہوئی تھی ۔ جس کی وجہ سے انہیں بھاری تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم مایا وتی نے اس بار ایسی غلطی نہ دہرانے کا وعدہ کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگر ن کی پارٹی الیکشن جیتی تو وہ لاکھوں غریبوں کے لئے فنڈ کا صحیح استعمال کریں گی۔ لیکن ان تمام وعدوں اور الزامات کے باوجود اس بار بھی یوپی کے الیکشن میں جانوروں کا ذکر اہم ہے۔ خاص کر گدھے کے ذکر نے سبھی کو خوب لبھایاہے۔ اکھلیش یادو نے مایا وتی کی بہوجن سماج پارٹی کے ہاتھی نشان کا تقریباً تمام الیکشن ریلیوں میں ذکر کیا ہے۔
مایا وتی جب 2002سے2007تک وزیر اعلیٰ تھیں تو انہوں نے کنکریٹ پارک کی تعمیر کروائی تھی جس میں کئی سو ہاتھیوں کی مورتیاں نصب کی گئی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس پارک کو تعمیر کرنے میں مایا وتی نے کروڑوں روپے خرچ کئے تھے۔ اکھلیش یادو نے اس پارک اور ان میں نصب ہاتھیوں کے مجسموں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سات سال سے وہ ان ہاتھیوں کو دیکھ رہے ہیں ۔ جو ہاتھی بیٹھے ہیں وہ ابھی تک بیٹھے ہیں اور جو کھڑے ہیں وہ ابھی تک کھڑے ہیں۔ یہ ایک ناسمجھی اور پیسے کو پانی میں بہانے والا کام تھا۔ لیکن حال ہی میں اکھلیش یادو نے ایک نئے جانور کا نام لیا ہے جس کا نام ہے ’گدھا‘۔ جسے عام طور پر دنیا میں نکمّا اور بیوقوف سمجھا جاتا ہے۔ اکھلیش یادو نے بنا کسی کا نام لئے اس اشتہار کی طرف اشارہ کیا جس میں بالی ووڈ کے معروف اداکار امیتابھ بچن کو’ گدھے کا سینکچوری ‘ کو فروغ دیتے ہوئے دکھایاگیا ہے۔ یہ سینکچوری وزیر اعظم نریندر مودی کے گجرات میں بنائے جانے کا امکان ہے۔ اکھلیش یادو نے اس حوالے سے کہا کہ ’ میں اس صدی کے مہان سپر اسٹار سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ گجرات کے گدھوں کے لئے ایسی اشتہار کی مہم نہ کریں‘۔ اس کے بعد ہندوستان کے معروف سیاستدان اور کنگ میکر لالو یادو نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ کو ’گینڈا ‘ کہہ کر مخاطب کیا ہے۔
گویا کے یوپی کا الیکشن پوری طرح تفریح کا سامان فراہم کررہا ہے اور عام آدمی سے لے کر میڈیا بھی اس طرح کے بیانات سے خوب لطف اندوز ہو رہا ہے ۔ بلکہ لوگوں میں بھی ہر روز ایک نئی بات اور نیا لطیفہ سننے کا تجسس پایا جارہاہے۔ جس سے ایسا اندازہ لگایا جاتا ہے کہ عوام اپنے مسائل اور پریشانیوں سے قطع نظر ان الٹی سیدھی باتوں میں آکر اپنا قیمتی ووٹ کا استعمال ضائع کر دیتے ہیں۔
یوں تو ہندوستان کے پانچ صوبوں میں ریاستی الیکشن ہو رہے ہیں۔ لیکن دیکھا جائے تو اتر پردیش کے الیکشن کی ہی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ جس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو مرکزی حکومت کا پانچ سو اور ہزار روپے کی نوٹ بندی اور وزیر اعظم نریندر مودی کا یوپی کاالیکشن جیتنے کا عزم۔ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کو یوپی الیکشن میں شکست ہوتی ہے تو بہت سارے لیڈر وں کو نریندر مودی کی پالیسی پر تنقید کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اکھلیش یادو کے لئے بھی یوپی الیکشن جیتنا اہم ہے کیونکہ اگر وہ یہ الیکشن ہار گئے تو ان کے چاچا شیو پال یادو کو پارٹی کی قیادت کا موقع مل سکتا ہے۔ جو اکھلیش یادو نہیں چاہتے۔
گیارہ مارچ کو ووٹنگ کی گنتی ہوگی اور اس دن یہ پتہ چل جائے گا کہ گجرات کے گدھوں کی اہمیت کا اثریوپی کے الیکشن میں کتنا رہا ۔ یا لوگوں نے سات سال سے کھڑے یا بیٹھے ہاتھی کو دیکھنا پسند کیا۔ یا لوگ سائیکل کی سواری کرنا صحت کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔