الامان
- سوموار 28 / جولائی / 2014
- 6834
گوجرانوالہ کے پاسبانانِ دین محمد ؐ نے رمضان المبارک کو رخصت کرنے کا اہتمام یوں کیا کہ اتوار کی شام روزہ کھولنے کے بعد انہوں نے عرفات کالونی میں احمدی گھروں پر حملہ کر دیا۔ ایک معمر خاتون، دو کمسن بچیوں کو ہلاک کیا۔ ایک 7 ماہ کی حاملہ خاتون کا بچہ ضائع ہؤا۔ پانچ گھر جلا کر گھروں کا قیمتی سامان جیالے ہمراہ لے گئے۔
یہ کارروائی علاقے کے امام کے اکسانے اور اشتعال دلانے پر عمل میں آئی اور اس حلقے کے ممبر صوبائی اسمبلی اور بھاری پولیس نفری اور قیادت اس لوٹ مارکی نگرانی کرتی رہی۔ یہ گروہ جب احمدیوں کے مکانوں کو جلا رہا تھا اور ان میں مکین خواتین اور بچیاں کسی وجہ سے اپنی جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب نہ ہو سکیں تو انہیں انہی مکانوں کے ملبے میں راکھ کر دیا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس نے مذہبی رہنماؤں کی مدد سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن مظاہرین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ پولیس ایک گروہ سے مذاکرات کر رہی تھی تو دوسرے گروہ نے گھروں پر حملہ کر کے اپنا ایمان تازہ کر لیا۔
خبروں کے مطابق مرنے والے چاروں لوگ ایک ہی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس محلے میں احمدیوں کے سات آٹھ گھر تھے۔ ان کے مکین ہنگامہ شروع ہوتے ہی اپنی جان بچا کر بھاگ گئے تھے۔ خوف کی یہ کیفیت ہے کہ لواحقین نے ابھی تک مرنے والوں کی لاشوں کو بھی پولیس سے حاصل نہیں کیا۔ متعدد زخمی افراد پولیس کی کڑی نگرانی میں اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ کل رات جس پولیس نے ان زخمیوں کی خواتین اور بچیوں کے قتل پر آنکھیں دوسری طرف پھیر لی تھیں، ان سے یہ بھی بعید نہیں ہے کہ وہ ایک پھر اسپتال پر حملہ آور ہونے والوں کو نہ دیکھ سکیں۔
یہ سارا قضیہ اس افواہ کے بعد شروع ہؤا کہ ایک احمدی نوجوان نے فیس بک پر رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخانہ مواد لگایا ہے۔ نہ یہ پتہ ہے کہ وہ مواد کیا ہے اور نہ یہ خبر ہے کہ اسلامی غیرت سے لبریز ان لیڈروں نے وہ متن پڑھا یا سمجھا تھا جو شائع کیا گیا تھا۔ لوٹ مار کرنے اور قتل کرنے والوں میں کتنے ہوں گے جو سرکاری کاغذات پر انگوٹھا ثبت کرتے ہوں گے یا بمشکل اپنا نام لکھ سکتے ہوں گے۔ ان میں اکثر کو فیس بک کا مفہوم بھی معلوم نہیں ہو گا۔ لیکن جب علاقے کے مولوی صاحب لوڈ شیڈنگ اور قانونی قدغن کے باوجود لاؤڈ اسپیکر پر اہل محلہ کو خبردار کررہے ہوں کہ ان کا ایمان غرق ہؤا جاتا ہے۔ دیکھو ایک مجرم بھاگنے نہ پائے تو پھر کس کو ہوش رہتا ہے کہ معاملہ کی تصدیق کر لی جائے یا یہ جان لیا جائے کہ وہ جس دین کے نام پر قانون اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے قدم بڑھا رہے ہیں ، وہ دین سب سے پہلے اس شخص کی گردن ماپتا ہے جو نظم و ضبط کو توڑتا ہے ، قانون سے انحراف کرتا ہے اور قاضی کو فیصلہ کرنے کا موقع نہیں دیتا۔
اتوار کو اہل پاکستان نے 28 واں روزہ افطار کیا تھا اور 29 ویں روزے کی تراویح ادا کی تھیں۔ وہ منگل کو عید منا رہے ہیں۔ لیکن گوجرانوالہ کے اس امام مسجد کی قیادت میں اس کے علاقے کے لوگوں نے روز عید آنے سے پہلے ہی جنت میں اپنے لئے محلات کی الاٹمنٹ حاصل کر لی ہے۔ اب وہ اپنے عزیزوں اور دوستوں کو سینہ ٹھونک کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے کتنے کافروں کو جہنم واصل کیا ہے۔ مگر پیدا کرنے والے نے ایسے سب خوش گمانوں کے لئے جہنم مخصوص کر دی ہے۔ جو لوگ انسان اور انسانیت کا احترام نہیں کرتے ربِّ کائنات ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرنے والا۔
آج یورپ میں عید الفطر تھی۔ اہل ایمان کے دل غزہ میں جاری چیرہ دستیوں پر ریزہ ریزہ تھے کہ گوجرانوالہ کے اہل ایمان نے یہ تحفہ کل عالم کے مسلمانوں کے لئے بھیجا ہے۔ آج اوسلو کی مسجد میں امام صاحب فرما رہے تھے کہ ہمارے نبی ؐ رحمت اللعالمین تھے۔ ایک مرتبہ ایک جنازہ گزرا تو حضور ؐ احترام سے کھڑے ہو گئے۔ صحابہ نے کہا کہ یہ تو ایک یہودی عورت کا جنازہ ہے۔ فرمایا: مردے کا احترام تو واجب ہے خواہ مرنے والا کوئی بھی ہو۔ امام صاحب نے مزید بتایا کہ ایک دوسرے موقع پر جنگ کے بعد پکڑے جانے والے قیدی لائے گئے۔ ان میں سے ایک لڑکی بھی تھی جو برہنہ سر تھی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی چادر اس کے سر پر ڈالی دی۔ مصاحبین نے کہا کہ حضور ؐ یہ تو عیسائی لڑکی ہے۔ فرمایا بیٹیاں تو بیٹیاں ہوتی ہیں۔
کل گوجرانوالہ کا جو امام اپنے محلے کے غنڈوں کے ساتھ جب احمدیوں کے گھروں پر حملہ آور تھا اور نہتی عورتوں اور معصوم بچیوں کو مارا جا رہا تھا ۔۔۔ کیا اس نے لمحہ بھر کو بھی یہ سوچا ہو گا کہ وہ کس رسول کی امت ہیں۔ کیا اسے یہ خیال بھی آیا کہ جس ماہ مقدس میں 28 روز تک انتہائی گرمی میں طلوع سحر سے غروب آفتاب تک جو روزہ اس نے اور اس محلہ کے لوگوں نے رکھا ہے اس کا کیا مقصد تھا۔ کیا اس ریاضت اور مشقت نے بس اتنا ہی تقویٰ عطا کیا تھا کہ اٹھو اور بے گناہوں کے گھروں پر حملہ کر دو ، قانون کے چیتھڑے اڑا دو اور معصوم عورتوں کو تختہ مشق بنا دو۔ کیا ان لوگوں کو اپنے رسول کا یہ فرمان یاد تھا کہ بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں۔
خبر یہ ہے کہ پولیس بوجوہ سارے معاملہ میں لاتعلق رہی۔ ایک تو دین کا معاملہ حساس ہے اور کوئی پولیس افسر اس معاملہ میں غیر ضروری مستعدی کا مظاہرہ کر کے خود اپنی گردن پھنسانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ دوسرے حال ہی میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں سیاسی خوشنودی کے لئے پولیس نے جس طرح درجن بھر سیاسی کارکنوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا تھا ، اس کے بعد پولیس کسی قسم کا ’’ رسک ‘‘ لینے کے لئے تیار نہیں۔ سیاستدانوں جو داؤ پیچ خود لوگوں پر آزماتے ہیں، اب پولیس بھی انہیں استعمال کر رہی ہے۔ اسی لئے کل گوجرانوالہ میں جو لوگ مارے گئے اور جو گھر تباہ کئے گئے اور اسباب لوٹا گیا ، اسے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ حالانکہ پولیس کی نفری ، سٹی پولیس آفیسر اور علاقے کا ممبر صوبائی اسمبلی عمران خالد بٹ سب ہی وہاں موجود تھے۔ مگر سب ہی محو تماشہ تھے۔
توہین مذہب و رسالت کے معاملہ کو اس قدر انگیختہ کر دیا گیا ہے کہ اس حوالے سے تعزیرات پاکستان میں شامل قوانین کو عدالتیں نہیں ، محلوں اور دیہات کے ان پڑھ اور جاہل امام اپنے زیر اثر ناسمجھ لوگوں کے گروہ کی مدد سے استعمال اور نافذ کرتے ہیں۔ جید علما سے لے کر معتبر سیاستدانوں تک سب جانتے ہیں کہ 295C کو محض انتقامی کارروائی ، غنڈہ گردی یا کسی دوسرے گروہی یا ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہوئے اقلیتی آبادیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن یہ سب منہ پر مہر لگائے ہوئے ہیں۔ تبدیلی کون لائے گا۔
سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک اہم فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ اقلیتی گروہوں کی حفاظت حکومت کی خصوصی ذمہ داری ہے۔ اس فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ توہین مذہب کے قانون کا اطلاع صرف دین اسلام پر ہی نہیں ہوتا بلکہ جو لوگ دیگر اقلیتی مذاہب اور عبادت گاہوں کی توہین کا سبب بنتے ہیں ، وہ بھی اسی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان کے خلاف اسی شق کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔ اگر عدالت عظمیٰ کا یہ حکم مان لیا جائے تو کیا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی مساجد میں شعلہ بیانی کرنے والے کتنے خطیب پابند سلاسل ہو سکتے ہیں؟۔
نفرت پھیلانا ان ملاؤں کا سب سے اہم ہتھیار ہے۔ یہ دوسرے مذاہب اور اقلیتوں کے بارے میں خوف اور نفرت کی فضا پیدا کرتے ہیں تا کہ ان کے عیوب سامنے نہ آ سکیں۔ کل گوجرانوالہ کا سانحہ اسی نفرت کا شاخسانہ ہے۔ اب یہ کافی نہیں ہو گا کہ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جائے اور واقعہ کی مذمت کر کے اسے بھلا دیا جائے۔ اگر اہل پاکستان کو واقعی ایک زندہ قوم بننا ہے تو انہیں کسی اصول اور قانون کو تسلیم بھی کرنا ہو گا۔ اس سانحہ کے اصل ملزم وہ انجانے ہاتھ نہیں جنہوں نے مکانوں کو نذر آتش کیا اور عورتوں کو مار دیا بلکہ وہ لوگ ہیں جو انہیں اکسانے کا باعث بنے اور جو اپنی ذمہ داری سے گریز کرتے رہے۔ قتل اور لوٹ مار کا مقدمہ علاقے کے امام مسجد ، ممبر صوبائی اسمبلی اور شہر کے پولیس افسر کے خلاف درج ہونا چاہئے۔
یہ ہو گا نہیں۔ کیونکہ ہم نعروں پر کھڑی ایک قوم ہیں جو پانی پر چلنے کا معجزہ ہوتے دیکھنے کی خواہش مند ہے۔ اس لئے آپ خواہ امریکہ اور اسرائیل کے کتنے ہی پرچم جلا لو ۔۔۔ آپ کی حالت بدلنے والی نہیں ہے۔ اس حالت کو بدلنے کا راستہ خود آپ کے اندر سے ہی جاتا ہے۔ اس قلب سے مولوی کی بھری ہوئی نفرت نکال کر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عطا کردہ محبت بھریں تو شاید ہوش ٹھکانے آئیں۔