کرپشن سے کاروبار تک
- تحریر
- جمعہ 03 / مارچ / 2017
- 4007
پانامہ لیکس کا معاملہ گذشتہ سال سامنے آیا تو ہر طرف ہا ہا کار مچ گئی۔ کرپشن کی داستانوں میں یہ نیا اضافہ ایک زلزلے کے طرح وارد ہوا۔ پہلی قسط میں پانچ سو کے لگ بھگ افراد کے نام سامنے آئے۔ کئی سادہ دلوں نے امید باندھ لی کہ اب تو کرپشن پر بات بھی ہوگی اور اس کا سراغ بھی شاید لگایا جا سکے لیکن ہوا کچھ یوں کہ سیاست ہی اس سارے فسانے کا حاصل ٹھہری۔
ایف بی آر نے کئی ماہ کے بعد نیم دلی سے پانامہ لیکس میں سامنے آنے والے ناموں کو نوٹس جاری کیے۔ کچھ نے جواب دینا بھی گواراہ نہ کیا۔ جنہوں نے جواب دیا ان میں سے بیشتر کا اصرار تھا کہ قانون کی کوئی شق توڑی نہ بلا اجازت کوئی کام کیا۔ اور یوں معاملہ بخیروعافیت داخل دفتر ہو گیا۔ لے دے کر پانامہ لیکس کے افسانے سے فقط سیاست میں بھونچال آیا۔ یہ بھونچال سڑکوں، میڈیا اور بیان بازی کے بعد سپریم کورٹ میں جا کر آسودہ ء سماعت ہوا اور اب اپنے فیصلے کا منتظر ہے۔ فیصلہ کیا آتا ہے، ہم میں قیافہ شناسی کی اتنی سوجھ بوجھ ہے نہ قانون کی موشگافیوں کی کہ سکہ بند اینکرز اور تجزیہ کاروں کی طرح ممکنہ فیصلے کے رخ سے نقاب سرکا سکیں ، اس لیے فیصلے کے انتظار ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے نیب اور ایف بی آر سے اس نقطے پر سوال و جواب بھی کیے کہ کرپشن کی بھنک پڑنے کی صورت میں اس کی تحقیق اور تفتیش کون کرے اور کیسے کرے۔ جو جواب ملے ، وہ سب کو معلوم ہیں۔ ایسی صورتحال میں دیگر اقوام کے ہاں کیا طرز عمل ہے، کرپشن اور کاروبار کا تال میل کیا کیا بھیس بدلتا ہے، یہی ہماراآج کا موضوع ہے۔ جنوبی کوریا نام کا ایک ملک ہے جس کے بارے ہمارے احباب بتلاتے نہیں تھکتے کہ کوریا کی تمام معاشی ترقی ہماری مرہون منت ہے۔ نہ ہم پانچ سالہ اقتصادی پلان ان کو دکھاتے نہ انہیں معلوم پڑتا کہ ترقی کیسے کی جاتی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کوریا کی حیرت انگیز معاشی ترقی میں ہماری اس دریا دلی کا کتنا دخل ہے لیکن اس قدر ہم ضرور جانتے ہیں کہ کوریا کی اس تیز تر معاشی ترقی میں جہاں اور بہت سے عوامل کا عمل دخل ہے اس میں ایک اہم عنصر حکومت اور ان کے بڑے بڑے کاروباری اداروں جنہیں مقامی زبان میں چیبلز یعنی Chaebles کہا جاتا ہے کا گہرا تال میل ہے جس پر اکثر شکوک کا سایہ بھی رہتا ہے۔ اب تو یہ براہ راست تعلق قدرے کم ہو گیا لیکن ایک زمانے میں حکومت اور بڑے کاروباری اداروں میں یہ تال میل بہت گہرا تھالیکن یہ تال میل بہت حد تک اب بھی سسٹم کا حصہ ہے۔ اس قدر قریبی تعلق میں کرپشن کی داستانیں بھی عام رہیں لیکن یہ ادارے اس قدر بڑے اور طاقتور تھے کہ ان اداروں کے خلاف چھوٹے موٹے معاملات پر تو تحقیقات ہوئیں لیکن سخت ہاتھ کم ہی ڈالا گیا۔
زمانے کی ہوا بدلی ہے یا معاشرے کا مجموعی مزاج، اس وقت کوریا میں کاروبار ی اداروں کے ساتھ کوریا کی صدرکی مبیّنہ مہربانی ان کے گلے کا پھندہ بھی بن گئی اور ان اداروں کے لیے مصیبت بھی۔ تازہ ترین اسکینڈل میں کوریا کی سب سے بڑی کمپنی سام سنگ کے اڑتالیس سالہ وائس چیرمین Jay Y Lee کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ ایک انہونی تھی مگر ہو گئی۔ جے لی کی گرفتاری پر عالمی میڈیا بھی چونکا، یوں تفصیلات اور انکشافات کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ سام سنگ اور کوریا کی نسبت ہی کچھ ایسی ہے کہ پورا ملک ہل کر رہ گیا ہے۔ کوریا کی صدر پر اپنی ایک قریبی دوست کے ذریعے پر کچھ کاروباری اداروں کو در پردہ فوائد کا الزام ہے ۔ سام سنگ پر الزام ہے کہ اس نے چھتیس ملین ڈالرز صدر کی دوست کے رفاہی ادارے کو عطیے کے طور پر دیے تاکہ اسے اپنے گروپ کمپنیز پر مالکانہ گرفت مظبوط کرنے میں حکومتی آشیر باد حاصل ہو سکے۔ کوریا کی صدر کے مواخذے کے تحریک پر بھی قانونی جنگ جاری ہے۔ قرائن یہ بتا رہے ہیں کہ وہ شاید ہی اس وار سے اپنے آپ کو بچا پائیں۔ ان کی دوست کو تفتیشی اداروں نے پہلے ہی گرفتار کر رکھا ہے، اور اب سام سنگ کے وائس چیرمین کو بھی اسی سلسے میں دھر لیا گیا۔
سام سنگ کی بنیاد جے لی کے دادا نے تقریباٌ اسّی سال قبل ایک فروٹ ہول سیلر کے طور پر ڈالی۔ 1938 میں فروٹ اور خشک مچھلی کی برآمدات سے اس کمپنی کا آغاز کیا۔ اس وقت سام سنگ کے کل اثاثے کوریا کی کل جی ڈی پی کا پانچواں حصہ ہیں۔ کوریا کی اسٹاک ایکسچینج پر کل سرمائے کا تیس فی صد اسی کمپنی کا ہے۔ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے یہ کمپنی ایشیاء کی دوسری سب سے بڑی اور دنیا کی چودہویں سب سے بڑی کمپنی ہے۔ اس کمپنی کے کل ملازمین کی تعداد سوا تین لاکھ ہے۔ کوریا کی مارکیٹ میں اس کمپنی کی حیثیت اور اثرورسوخ کی وجہ سے اس کے ناقدین اسے ملک سے بھی بھاری گردانتے ہیں اور طنزاٌ ملک کو ری پبلک آف سام سنگ بھی کہتے ہیں۔
اس قدر با رسوخ اور بڑی کمپنی ہونے کے باوجود اس کمپنی پر کافی تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔ اس کمپنی پر ٹیکسوں کے ہیر پھیر کے الزامات مسلسل لگتے رہے ہیں۔ سیاسی اثر و رسوخ اور رشوت کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کی کئی داستانیں گردش میں رہی ہیں۔ لیبر کے ساتھ معاملات بھی ان الزات میں شامل رہے ہیں۔ اس حالیہ گرفتاری نے کمپنی کو تو بحران سے دو چار کیا ہی ہے لیکن بڑے بڑے کاروباری اداروں کے ہاں غیر قانونی فوائد کے لیے ہر حد پار کر جانے اور کرپشن تک سے گریز نہ کرنے سے دنیا بھر میں کاروباری اداروں کی شفافیت اور لالچ کے رجحان کو بے نقاب کیا ہے۔
کہنے کی حد تک مارکیٹ اکونومی نظام میں پرائیویٹ اداروں کو مسیحا اور انتہائی قانون پسند بتایا جاتا ہے لیکن حالیہ سالوں میں ایک کے بعد ایک اسکینڈل نے یہ ثابت کیا ہے کہ لالچ اور حرص کی بھی کاروبار کی طرح کوئی حد نہیں۔ لگ بھگ پندرہ برس قبل امریکہ کی سب سے منافع بخش کمپنی اینرون کے گھپلے سامنے آئے تو لوگوں کو یقین ہی نہ آیا لیکن وال اسٹریٹ کا افتخار یہ کمپنی چند ہی مہینوں میں ڈ ھیر ہو گئی۔ دور کیا جانا جرمنی کی ایک نہایت مشہور کار کمپنی کو گذشتہ سال ایک سوچے سمجھے طریقے سے دھوئیں کے اخراج پر یورپی قواعد کو چکمہ دیتے ہوئے دھر لیا گیا۔ کمپنی نے معافی مانگی اور درستگی کے لیے گاڑیا ں واپس منگوا لیں۔ جاپان کی ایک مشہور زمانہ کمپنی کئی سالوں سے اپنے سالانہ حسابات میں دو ارب ڈالر سے زائد مصنوعی منافع دکھا کر حصص یافتگان کو گمراہ کر تی رہی۔ اسکے چیر مین نے گذشتہ معافی بھی مانگی اور استعفیٰ بھی دے دیا۔ بھلی چنگی مشہور کمپنیوں اور بنکوں کے بارے میں ایسے اسیکنڈلز کی بہتات ہے کہ کس طرح کمپنی کے فائدے کے لیے قانون اور ضوابط کو منظّم طریقے سے چکہ دیا گیا ۔
قابلِ غور بات یہ کہ ان کمپنیوں کے اثر و رسوخ کے باوجود ان ممالک میں ریگولیٹرز اور تفتیشی اداروں نے ان کمپنیوں کے گرد تفتیش کا شکنجہ کسا اور قانون شکنی کو عبرت کی مثال بنانے کے لیے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ ایسا نہیں کہ ان کے ہاں ہر قانون شکنی پر فوراٌ گرفت ہوئی، سیاسی اثر و رسوخ اور قانونی گوکھ دھندوں نے بہت سی قانون شکنیوں کو تفتیش سے بہت پہلے دبا لیا لیکن چند بڑی مثالیں سامنے آنے پر تفتیشی ادارے حرکت میں ضرور آئے۔ بیشتر ممالک میں سول سوسائٹی نے بالعموم کرپشن کو آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لیے میڈیا اور احتجاج کے ذریعے حکومتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ہمارے ہاں اگر کرپشن کے پھیلتے ناسور کا ردّالفساد کرنا ہے تو انوسٹی گیشن اداروں کو قانون کے نفاذ میں بیباکی اور ہمت سے کام لینا ہوگا نہ کہ اس قانون میں چالاکی سے رکھی گئی کھڑکیوں کی طرف اشارہ کر کے اپنی جان چھڑانے پر اکتفا کرنا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ پانامہ لیکس میں سامنے آنے والے چند ناموں نے باقاعدہ قانونی تقاضے پورے کیے ہوں لیکن تحقیق کا عمل ضرور مکمل ہونا چاہیے لیکن پانامہ لیکس پر سیاست اس قدر حاوی ہو گئی کہ باقی تمام پردہ نشین بالکل صاف بچتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس عمل میں تفتیشی اداروں کی گریز پابے عملی اور قوانین میں سقم کی موجودگی نے ان ناموں کے لیے اور بھی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ ایسے میں ان اداروں پر سپریم کورٹ کی سرزنش بے وجہ بھی نہیں تھی۔ احمد ندیم قاسمی یاد آئے:
جانے کون رہزن ہیں، جانے کون رہبر ہیں
گَرد گَرد چہرے ہیں، آئینے مکدّر ہیں
بید زن کا لہجہ کچھ نرم پڑ گیا ، ورنہ
مالک اب بھی مالک ہیں، چاکر اب بھی چاکر ہیں