کیا پختون دہشتگرد ہیں؟
- تحریر سلطان حسین
- سوموار 06 / مارچ / 2017
- 5470
ایک وقت تھا جب اڑن طشریوں کے نظر آنے کی بڑی باتیں ہوتی تھیں۔ اڑن طشریوں کا نظر آنا ایک انہونی سی بات لگتی تھی۔ اس وقت اسے خلائی مخلوق سے منسوب کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے اڑن طشریوں کے حوالے سے ایک خوف لوگوں میں پیدا کیا گیا۔ اب کئی جاکر یہ انکشاف ہوا کہ وہ تو دنیا والوں کے اپنے ہی تیار کردہ آلات تھے۔
ایک وقت ایسا بھی تھا جب مائیں گرمیوں میں بچوں کو دوپہر کے وقت سلانے کے لیے ڈراتی تھیں اور خود ساختہ دیو اور جنات کی کہانیاں سناتی تھیں جس سے بچے ڈر کر دوپہر کے وقت گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ آج اگر ہم دیکھیں تو پنجاب کے حکمران بھی صرف اپنے مفادات کے لیے اپنے لوگوں کو پختونوں سے اسی طرح ڈرا رہے ہیں۔ ان کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔ ویسے تو یہ کام پنجاب کے بعض'' بڑے'' ایک عرصے سے کر رہے تھے لیکن اب اس میں کچھ تیزی آگئی ہے۔ جس کے جواب میں اسی تیزی سے ردعمل بھی سامنے آرہا ہے۔ لاہور دھماکے کے بعد جس بھونڈے طریقے سے پٹھانوں کو دہشتگرد بناکر پیش کیا جارہا ہے اس کے لیے مذمت کا لفظ بھی بے معنی لگتا ہے۔ پٹھان ایسی قوم ہے جو اپنے گھروں میں کسی کے گھسنے کو اپنی بے عزتی تصور کرتے ہیں چہ چائیکہ کوئی ان کے گھر پر چھاپے مار کر خواتین کے بے عزتی کرے۔ بچوں کو ہراساں کرے اور نوجونوں کو گھروں سے گھسیٹتے ہوئے لے جائیں ۔ ایسی باتوں پر تو پٹھان مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ جس طرح گھروں پر چھاپے مار ے گئے اس کے لیے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کا لفظ بھی چھوٹا محسوس ہوتا ہے۔
بعض لوگوں کی اس بات میں بھی کافی وزن نظر آتا ہے کہ شاید مسلم لیگ (ن) والے پختونخوا کے لوگوں سے صوبے میں پی ٹی آئی کو دوٹ دینے کا سیاسی انتقام لے رہے ہیں۔ اور انہیں اب یہ موقع ہاتھ آیاہے۔ ذہن اس لیے بھی اس طرف جاتا ہے کہ ایک طرف تو حکمرانوں کی ایما پر پٹھانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے دوسری طرف وہ پختونخوا کو مسلسل اس کے حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔ اس صوبے کا مالی اور معاشی گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاں تک دہشتگردی کا تعلق ہے پٹھانوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی کے پشتو بول لینے سے وہ پٹھان نہیں بن جاتا اور نہ ہی وہ پورے پٹھانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ دہشتگرد کس قوم میں نہیں۔ کیا داعش بھی پٹھان ہیں۔ کیا بوکوحرام بھی پٹھان ہیں۔ کیا چین میں جو کچھ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ بھی پٹھان ہیں۔ فرانس اور امریکہ میں بھی پٹھان کارروائیاں کررہے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ بھی پٹھان مصروف ہیں۔
کیا پنجاب میں پنجابی بولنے والے دہشتگردی نہیں کررہے ۔ کیا پنجاب کے کئی بڑے ان دہشتگردوں کی پشت پناہی نہیں کررہے ۔ یہ بات تو اب سب کے علم میں ہے حتی کہ حساس ایجنسیوں کو بھی علم ہے کہ ان دہشتگردوں کی پشت پناہی میں حکمران جماعت کے لوگ شامل ہیں۔ اسی لیے توپنجاب میں اب تک رینجرز کو آپریشن کی اجازت نہیں دی گئی۔ اب جبکہ رینجرز کو بلا لیابھی گیا ہے تو وہ بھی محدود اختیارات کے ساتھ۔ تاکہ حکمرانوں کے اصل چہرے بے نقاب نہ ہوں۔ سوال یہ ہے کہ جب کے پی کے ، بلوچستان اور سندھ میں آپریشن مکمل اختیارات کے ساتھ کیا جاسکتا ہے تو پنجاب میں کیوں نہیں۔
پٹھانوں اور قبائل نے تحریک پاکستان میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ اظہر من الشمس ہیں۔ (قبائل کے بارے میں تو قائداعظم نے یہ فرمایا تھا کہ قبائل پاکستان کے بازو شمشیرزن ہیں۔ یہ پاکستان کے بغیر تنخواہ دار فوجی ہیں۔ اس کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں)۔ پٹھان اور قبائل یہ اقوام بھی اتنے ہی محب وطن ہیں جتنے سندھی، بلوچی اور پنجابی ہیں۔ اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے یہی نہتے قبائل لڑنے گئے تھے ۔ خیبرپختونخوا اور قبائل کے باشندے 1979 سے اس ملک کی خاطر ہی قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں اوردہشتگردی کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ دہشتگردی کا سب سے زیادہ شکار تو پٹھان اور قبائل ہی ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی زبان پر کبھی حرف شکایت نہیں آیا۔ لیکن بجائے اس کے کہ ان کے زخم پر مرہم رکھ کر اس کا مداو کیا جاتا، اس کے برعکس ان کا جائز حق بھی مارا جارہا ہے۔ اس کے باوجود بھی کبھی بھولے سے بھی ان اقوام نے ایسی بات نہیں کی جس سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچتا۔ کیا یہ ان کی محب الوطنی کا ثبوت نہیں۔
کیا بعض قومیں ہی محب الوطنی کی ٹھیکیدار ہیں۔ باقی اقوام کو ہر وقت اپنی محب الوطنی کا ڈھنڈورا پیٹنا پڑے گا اور ثبوت دینا ہوگا۔ یہ مہمان نواز قومیں ہیں اور یہ پنجاب اور سندھ کے وہ لوگ بخوبی جانتے ہیں جن کا ان کے ساتھ تعلق ہے۔ جو ان کی محبت سے واقف ہیں۔ جو مہمانوں اور دوستوں کے لیے جان تک دیتے ہیں۔ اسی لیے تو مغل بادشاہ نے کہا تھا کہ پٹھان کو دوستی سے تو ہرایا جاسکتا ہے، لڑ کر نہیں ۔ پٹھانوں سے بعض بڑوں کے تعصب کی بنا پر ان دنوں جو نفرتیں پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے یہ دشمن کے عزائم کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہے۔ دشمن نے تو یہ پروپیگنڈا بھی کیا تھا کہ اسلام آباد کی سٹرکوں سے پٹ سن کی بو آرہی ہے جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ اب پھر اسی دشمن کے پروپیگنڈے کے لیے راستہ ہموار کیا جارہا ہے۔
افسوس کہ ہمارے بڑوں نے تاریخ سے کچھ بھی نہیں سیکھا یا وہ صرف اپنے مفادات کے لیے کچھ سیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔ اپنے مفادات کے لیے ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے ، نفرتیں پھیلاکر دشمن کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کی بجائے بعض قوتوں کے عزائم کو محسوس کرتے ہوئے مل کر دہشتگردی کے اس عفریت سے نجات کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اور یہ ضرورت نفرتیں پھیلانے سے پوری نہیں ہو گی۔ اس نازک صورتحال میں وقت کے نبض پر ہاتھ رکھ کر، مل کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔