ایک چراغ بُجھ گیا
اتوار پانچ مارچ کو بی بی سی کے ذریعہ اس خبر کو پڑھ کر غم زدہ ہوگیا کہ معروف ہندوستانی مسلم قوم پرست لیڈر سید شہاب الدین کا ہفتے کے دن دلی کے نوائیڈہ علاقے میں انتقال ہوگیا۔ اناّ لللہِ وانّا اللیہِ رَ اجِعون۔ نظام الدین کے قریب پنج پیرن قبرستان میں ان کی تدفین کی گئی۔ ان کے جنازے میں کئی ممتاز لوگوں نے شرکت کی۔ سید شہاب الدین کئی سالوں سے بیمار تھے اور ان کی حالت دن بدن بگڑتی جارہی تھی۔ ان کا انتقال دلی کے ایک اسپتال میں ہواتھا۔ان کی عمر 82 سال کی تھی۔
سید شہاب الدین کی پیدائش 1935میں رانچی میں ہوئی تھی۔ اس وقت رانچی بہار کا ایک اہم شہر تھا جو اب بہار کے بٹوارے کے بعد جھاڑ کھنڈ کی راجدھانی بن گئی ہے۔ سید شہاب الدین اپنے پیچھے اپنی بیوہ اور چار بیٹیوں کو چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ سابق سفارتکار ، ممبر پارلیمنٹ اور قد آور شخصیت سید شہاب الدین نے بابری مسجد کو شہید کرنے پر کھل کر اس کا احتجاج کیا تھا۔ انہوں نے ہندوستان کی تاریخی بابری مسجد کے انہدام پر اپنے گہرے رنج و غم کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہّ مسلمانوں کے حق اور انصاف کے لئے لڑنے اور بابری مسجد کو شہید کرنے والوں کے خلاف احتجاج میں گزار دی۔
1979سے 1996 تک تین بار وہ ممبر پارلیمنٹ رہے تھے۔ وہ بہار کے کشن گنج حلقے سے منتخب ہوتے تھے۔ انہیں پارلیمنٹ میں ایک باوقار اور اعلیٰ مقرر مانا جاتا تھا۔ وہ مسلمانوں کے مسائل پر بولنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ انہیں اردو زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔
انہوں نے بدنام رائٹرسلمان رشدی کے ناول The Satanic Versesکے خلاف کھل کر احتجاج کیا تھا۔ انہوں نے ہندوستانی حکومت سے اس ناول پر پابندی لگانے کی بھی مانگ کی تھی اور اس میں کامیاب ہوئےتھے۔ سید شہاب الدین نے ملعون سلمان رشدی کی ناول کو ہندوستان درآمد ہونے کی پابندی میں اہم رول نبھایا تھا۔ ہندوستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے The Satanic Verses پر پابندی عائد کی تھی۔ اس ناول پر آج بھی ہندوستان میں پابندی عائد ہے۔
سید شہاب الدین نے اپنے کیرئیر کا آغازہندوستان کے ایک اعلیٰ نوکری Indian Foreign Serviceسے 1958 میں کیا تھا۔ لیکن 1970 میں انہوں نے وقت سے پہلے اعلیٰ نوکری سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس کے بعد انہوں نے اس پیشے سے استعفیٰ دے کر سیاست شروع کی۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کی بھی ایک عرصے تک رہنمائی کی۔ سید شہاب الدین بابری ایکشن کمیٹی کے سربراہ تھے۔ اس کمیٹی کا قیام 1992میں بابری مسجد کو شہید کرنے کے بعد آیا تھا۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی سید شہاب الدین کی قیادت میں بابری مسجد کے انہدام اور اس میں ملوث لوگوں کو سزا دلانے کی عدالت سے مسلسل مانگ کر رہی تھی۔ دسمبر1992 کو جب ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجد کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شہید کر دیا تو ہندوستان سمیت پوری دنیا میں اس کی مذمت ہوئی تھی۔ سید شہاب الدین نے اس واقعہ سے پہلے ہندوستانی حکومت کو ہندو انتہا پسندوں سے خبردار رہنے کی تلقین کی تھی۔ انہوں نے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے بینر تلے پورے ملک میں مسلمانوں سے اس ناپاک سازش کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی تھی۔
سید شہاب الدین کو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کا کافی قریبی مانا جاتا تھا۔ لیکن ان چند سفارتکاروں میں سید شہاب الدین کا بھی نام ان معنوں میں اہم مانا جاتا ہے جنہوں نے ایمرجنسی کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ ایمرجنسی آزاد اور جمہوری ہندوستان کا ایک سیاہ باب کہا جاتا ہے۔ سید شہاب الدین کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بطور سفارتکار بنگلہ دیش کی تخلیق کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے ہندوستانی حکومت کو ان معاملات میں مداخلت کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
ہندوستان کے نائب صدر حامد انصاری جو کہ خود ایک Indian Foreign Service آفیسر رہ چکے ہیں انہوں نے بھی سید شہاب الدین کی موت پر تعزیت کی ہے۔ حامد انصاری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’ سید شہاب الدین ایک پر عزم اور نہایت با صلاحیت انسان تھے۔ میں ان کی موت سے بہت غم زدہ ہوا ہوں۔ وہ ایک معروف سیاسی رہنما، اسکالر، سفارتکار اور سابق پارلیمنٹرین تھے۔ سید شہاب الدین کی موت ان کا ایک ذاتی نقصان ہے‘۔
اس کے علاوہ منی پور کی گورنر نجمہ ہپت اللہ ، آل انڈیا مجلسِ اتحادالمسلمین کے صدر اسد الدین اویسی اور دیگر رہنماؤں نے بھی سید شہاب الدین کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ سید شہاب الدین کی موت ملک اور اقلیتوں کا ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ ایساسیاستدان اور دانشور کو پیدا ہو نے میں کئی برس لگیں گے۔
بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں سید شہاب الدین کو’ ہندوستانی مسلم لیڈر‘ کہہ کر مخاطب کیا ہے تو وہیں ہندوستان کا ڈیلی سیاست اخبار سید شہاب الدین کو ’بابری مسجد کے صلیبی ‘ کہہ کر متعارف کروایا ہے۔
میری ملاقات سید شہاب الدین کی بہن روحی ماجد سے لندن میں دس سال قبل ہوئی تھی۔ وہ کئی دہائیوں سے لندن میں مقیم ہیں اور انہیں انگریزی شاعری سے کافی دلچسپی ہے۔ ان سے ملاقات کے دوران سید شہاب الدین صاحب کے بارے میں رسمی طور پر کچھ گفتگو ہوئی اور انہوں نے اپنے بھائی اور خاندان کے متعلق باتیں بتائی تھیں۔
سید شہاب الدین صاحب کے بارے میں بچپن سے سنتا چلا آرہا تھا۔ ان کا مسلمانوں کے متعلق ہمیشہ بے باک ہو کر بیان دینا اور ان کے حق کے لئے احتجاج کرنا میرے لئے ایک سبق آموز باتیں تھیں۔ وہ پارلیمنٹ میں ایک دانشور کی طرح اپنی بات پیش کرتے تھے جو شاید آ ج کل ایک دشوار بات ہے۔ میں سید شہاب الدین صاحب کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہوں اور ان کی موت کو قوم اور ملّت کا ایک بہت بڑا نقصان سمجھتا ہوں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کے خاندان کو صبرجمیل عطا فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مرتبہ دے۔ آمین۔