موسیقی زندگی کے ہر شعبے میں مطلوب ہے!

یہ واقعہ ان دنوں کا ہے جب میں بحیثیت اسسٹنٹ فلم ڈائریکٹر ”ناگ منی“ کا بیک گراﺅنڈ میوزک کمپوز کروا رہا تھا اور نثار بزمی فلم کے میوزک ڈائریکٹر تھے۔ وہ صبح سے شام تک ناگ منی کے ایک ایک فریم پر اپنے فن کے جوہر دکھا رہے تھے، جب آدھی سے زیادہ فلم کا بیک گراﺅنڈ میوزک بن چکا تو اچانک ایک دن انہوں نے ایورنیو اسٹوڈیو کے تھیٹر ہال میں مجھ سے پوچھا۔

”تمہارا پسندیدہ راگ کون سا ہے؟“

میں نے کہا ”مجھے دو راگ بے حد پسند ہیں، ایک بھیروی اور دوسرا پہاڑی“۔

بزمی صاحب کا جواب مجھے آج بھی یاد ہے اور شاید کبھی بھول بھی نہ پاﺅں، کہنے لگے ”تمہیں فلم ہدایتکار کے بجائے موسیقار ہونا چاہئے تھا“۔

حقیقت میں یہ نثار بزمی صاحب کا بڑا پن، عظمت اور ان کی آنکھ کا حسن تھا جس نے مجھ جیسے موسیقی کی ابجد سے ناواقف شخص میں موسیقی کی جان پہچان دیکھ لی۔

آج لگ بھگ 50 برس قبل کا یہ واقعہ مجھے اس لئے یاد آیا کہ حال ہی میں ریڈیو سے نشر ہونے والا نوشاد صاحب مرحوم کا ایک انٹرویو سننے کا موقع ملا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے جن راگوں کی تعریف و توصیف کی تھی وہ یہی راگ بھیروی اور پہاڑی تھے۔ انٹرویو سن کر مجھے اپنا قد کچھ اور نکلتا ہوا محسوس ہوا۔

نوشاد صاحب سے میری ملاقات بہت کم رہی، اتنے عظیم موسیقار سے صرف دو بار ملاقات کرنا حج تو کیا عمرہ کے برابر بھی نہیں ہے۔ پہلی ملاقات علی صدیقی مرحوم کی منعقد کی ہوئی اردو کانفرنس دہلی میں ہوئی۔ پاکستان سے یھی بہت سے شاعر و ادیب حضرات مدعو کئے گئے تھے۔ یورپ سے مجھے دعوت دی گئی تھی۔ اسی کانفرنس کے دوران علی صدیقی  نے میرا تعارف نوشاد صاحب سے کروایا اور بتایا ”یہ ہالینڈ میں رہتے ہیں“۔ انہوں نے پوچھا ”ہالینڈ تو پھولوں کا دیس ہے، وہاں آپ کیا کرتے ہیں؟“

میں نے کہا ”آوارہ گردی۔ اور اس آوارہ گردی کا کارن آپ ہیں“۔

حیران ہوئے، مسکراتے ہوئے پوچھنے لگے ”بھئی میں کیوں؟“

میں نے کہا ”دیکھئے، جب مسلمانوں کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو سب سے پہلے نومولود کے کان میں اذان دی جاتی ہے، ہمارے ساتھ ’حادثہ‘ یہ ہواکہ اذان کے بجائے آپ کی موسیقی کی تان کان میں چلی گئی، بس پھر کیا تھا، دین کے رہے نہ دنیا کے، یوں سمجھئے اسی دن سے آپ کے گرویدہ چلے آ رہے ہیں“۔

میری بات سن کر نوشاد صاحب بہت خوش ہوئے، کہنے لگے ”صاحب! آپ نے تو ہمیں فلک پر پہنچا دیا۔ ویسے جوانی میں آنکھیں اور کان دل کا ساتھ دیا کرتے ہیں اور آپ جوان ہیں“۔

میں نے جواباً کہا ”ویسے سب لوگوں کا قد پاﺅں سے سر تک ناپا جاتا ہے مگر کچھ لوگوں کا پاﺅں سے آسمان تک“۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ کچھ دیر تک فلم و ادب اور ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد میں نے انہیں اپنا وزیٹنگ کارڈ پیش کرنا چاہا تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا ”نہیں بھئی، آپ سے ابھی اتاپتہ نہیں لیں گے۔ آپ سے ہمیں پھر ملنا ہے“۔ میں نے ان کے بڑے سے دل میں اپنا چھوٹا سا گھر بنا لیا تھا۔

میری ان سے دوسری ملاقات بھی دہلی میں ہوئی اس ملاقات میں جہان بھر کے موضوعات پر سیرحاصل گفتگو ہوئی۔ لیکن میرے خیال میں ان موضوعات کو احاطہ تحریر میں لانے کے لئے کوئی اور وقت اٹھا رکھتے ہیں۔ یہاں میں صرف موسیقی اور اپنے پسندیدہ راگوں بھیروی اور پہاڑی کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ جب میں نے اپنے پسندیدہ راگوں میں بھیروی اور پہاڑی کا نام لیا تو انہوں نے میری پسند کی تائید کرتے ہوئے کلاسیکی موسیقی کے علاوہ فلمی موسیقی کے بھی کئی حوالے دیئے۔ شہنشاہ موسیقی کی باتیں میرے دل پر نقش ہوتی چلی گئیں۔ مجھے یاد آتا گیا کہ نوشاد صاحب کے بہترین گیت اسی راگ بھیروی کی دین ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے بہترین نغمے راگ بھیروی میں پیش کئے۔ اور مجھے کیوں یہ راگ پسند ہے؟ آیئے اس سے آپ کو واقف کراتا ہوں۔

کہتے ہیں موسیقی کی دیوی کے آٹھ روپ ہیں ان میں سے  چوتھا روپ بھیروی کہلاتا ہے۔ اس راگ نے میاں تان سین سے لے کر نوشاد علی تک سے خراج عقیدت وصول کیا ہے۔ اس راگ کو بھارت میں نوشاد اور شنکر جے کشن اور پاکستان میں نثار بزمی اور خواجہ خورشید انور نے اپنی انمول اور سحر انگیز دھنوں میں بکثرت استعمال کیا ہے۔ راگ بھیروی جہاں عوام میں نامور رہا وہاں خواص میں بھی مقبول ہے۔ بھیروی نہ صرف کامل راگ ہے بلکہ یہ سات سروں کی بجائے بارہ کومل سروں کے ساتھ ایک خوبصورت اور دل کو چھو لینے والا راگ بن گیا ہے کہ یہ راگ علی الصبح کا راگ ہے اس لئے اس میں روشنی، تازگی، نازکی، خوشبو اور باد صبا جیسی نفاست کی جھلک ہے۔ آیئے آپ کو نوشاد کے چند ایسے گانوں کے بارے میں بتاﺅں جن کا خمیر راگ بھیروی سے اٹھا ہے اور وہ میرے پسندیدہ نغموں میں شمار ہونے کی وجہ سے ہر دم میرے ہونٹوں پر مچلتے رہے ہیں۔

1946 میں لاہور بھاٹی گیٹ کے رہنے والے اے آر کاردار نے ”شاہجہاں“ کے نام سے ایک فلم بنائی تھی اس کے موسیقار نوشاد تھے، اس کا ایک نغمہ جس کو نوشاد نے اپنی سحر انگیز موسیقی میں ترتیب دیا تھا اور کے ایل سہگل کی سدابہار آواز میں ہم تک پہنچا تھا، یہ نغمہ تھا ”جب دل ہی ٹوٹ گیا، ہم جی کے کیا کریں گے“۔ اس خوبصورت نغمے سے جو واقعہ وابستہ ہے وہ یوں ہے کہ یہ گیت خود سہگل کو اس قدر پسند تھا کہ انہوں نے مرنے سے قبل نوشاد سے وعدہ لیا تھا کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے جنازے پر نوشاد ان کے اس پسندیدہ گانے کی دھن ضرور بجائیں گے۔ چنانچہ سہگل کے جنازے پر نوشاد نے ”جب دل ہی ٹوٹ گیا“ کی پردرد اور پرسوز دھن بجا کر اپنے عظیم گلوکار دوست کو خراج عقیدت و خراج تحسین پیش کیا۔

اس کے بعد نوشاد نے لتا منگیشکر کو ”دلاری“ میں موقع دیا۔ انہوں نے پھر اسی راگ میں لتا سے اس فلم کےلئے یہ دل موہ لینے والا گیت ریکارڈ کروایا۔

”اے دل تجھے قسم ہے تو ہمت نہ ہارنا
دن زندگی کے جیسے بھی گزرے گزارنا“

لتا منگیشکر کی یہ لاجواب آواز پاک و ہند میں نوشاد کے اسی گیت کی وجہ سے پہنچی تھی۔ نوشاد نے فلم ”بیجوباورا“ کے تمام نغمے کسی نہ کسی راگ میں بنائے تھے اور یہ عمل محض راگ برائے راگ نہ تھا بلکہ نوشاد کی یہ شعوری کوشش تھی کہ ہر ایک نغمے کو ایک الگ الگ راگ میں پیش کیا جائے۔ بیجوباورا کا مشہور گانا۔

”تو گنگا کی موج میں جمنا کا دھارا“

راگ بھیروی میں لتا منگیشکر اور محمد رفیع کی جوڑی نے گایا تھا۔ اسی طرح دلیپ کمار  اور مدھوبالا کی فلم ”امر“ جس کی موسیقی اسی جادوگر نوشاد نے ترتیب دی تھی کا یہ ہمیشہ زندہ رہنے والا گیت ”انصاف کا مندر ہے یہ بھگوان کا گھر ہے“ محمد رفیع نے بھیروی میں گا کر اسے امر کر دیا۔ (یہاں سینکڑوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں)

نوشاد کے فن کا کمال صرف بھیروی تک ہی محدود نہیں تھا۔ انہوں نے کلاسیکی موسیقی کے علاوہ پاپولر میوزک اور فوک سنگیت کو یکجا کر دیا تھا۔  ان کی موسیقی مندر و چرج کی گھنٹیوں اور اذان کی آواز میں مکس ہو کر ایک خوبصورت نغمے میں ڈھل جاتی ہے چونکہ انسان موسیقی کا پیدائشی عادی ہے اس لئے اس نے کسی نہ کسی شکل میں موسیقی کو گلے سے لگا رکھا ہے۔ ہماری مذہبی کتابوں میں دعائیں ملتی ہیں یا قرآن مجید کی بعض سورتیں ہیں جن میں بے پناہ نغمگی ہے۔ کہ آپ معنی سمجھیں نہ سمجھیں لیکن آپ اس کو کسی سلیقے کے آدمی سے سنتے ہیں تو اس کا ایک تاثر ہوتا ہے کہ موسیقی زبان کی محتاج نہیں ہوتی اس کی اپنی زبان اور پہنچ ہے۔ موسیقی حقیقتاً ایک جادو ہے۔ سر انسان کے اندر ہوتے ہیں۔ آلات موسیقی تو محض انہیں باہر لانے کا ایک وسیلہ بنتے ہی۔ یہاں مجھے نوشاد کا کمپوز کیا ہوا ایک بھجن یاد آ رہا ہے۔

”من تڑپت ہری درشن کو آج...“

کہتے ہیں یہ بھجن پنڈت نہرو کو بے حد پسند تھا۔ پنڈت جی مذہبی آدمی نہ تھے لیکن نوشاد کے اس بھجن کی کمپوزیشن پر فدا ہو ہو جاتے تھے۔ جب نوشاد کی ”بیجوباورا“ ریلیز ہوئی اور فلم کی نمائش سے پہلے اس کے گیتوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تو بھارت کے صدر بابو راجندر پرشاد نے پنڈت جی کی ہمراہی میں بیجوباورا دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ طے ہوا کہ یہ فلم نوشاد صاحب کے جلو میں دیکھی جائے (واہ کیا زمانے تھے) سو بابو راجندر پرشاد، پنڈت جواہر لال نہرو اور نوشاد علی تینوں نے اکٹھے فلم بیجوباورا دیکھی۔ جب محمد رفیع کی آواز میں بھارت بھوشن نے یہ بھجن الاپا تو دونوں سیاستدانوں نے بے اخیتار عظیم موسیقار کو گلے سے لگا لیا۔

لینن نے بیتھون کے بارے میں کہا تھا کہ ”میرے خیال میں Appaslonata“ سے زیادہ خوبصورت کوئی شے نہیں، میں جہاں کہیں بھی ہوں اس کی گونج میرے کانوں میں آسانی سے آ جاتی ہے۔ یہ اپنی طرز کی دل آویز، انوکھی اور بے مثال موسیقی ہے، میں جب بھی کبھی اس کے بول سنتا ہوں تو بڑے فخر و غرور اور بچوں کے سے بھولپن کے ساتھ سوچتا ہوں کہ انسان کیا کچھ نہیں کر سکتا“۔

اب تو آپ جان گئے ہوں گے کہ مجھے بھیروی اور نوشاد کیوں پسند ہیں۔