دہشت گردی اور لسانیت

دہشت گردی پاکستان اور پاکستانیوں کیلئے کسی دلدل کی طرح بنتی جا رہی ہے۔ جن جن ممالک کو اپنے اسلحے اور اپنی عسکری ماہرین کی صلاحیتوں پر بہت مان تھا سب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کودنے کا فیصلہ کیا۔ مان تو ہمیں بھی ہے اور تھا مگر ہمیں اس جنگ میں اس آگ اور خون کے کھیل میں دھکیلا گیا اور سب سے آگے لاکر کھڑا کردیا گیا ہے۔

آگے کھڑے ہونا کسے اچھا نہیں لگتا ہمیں بھی بہت اچھا لگا اور وقت کے حکمرانوں نے بھی "واہ واہ" کے تعریفی کلمات ساری دنیا سے سنے۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ واہ واہ تو ہوتی رہی مگر ہمارا قیمتی جانی و مالی نقصان روز بروز بڑھتا چلا گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کے ہم نے جن دہشت گردوں سے لڑنا اور انہیں اپنے وطن سے نکالنے کا عزم کر رکھا تھا وہ ملک کے کچھ خاص علاقوں میں مضبوط ہوتے چلے گئے۔ حتیٰ کہ  افواجِ پاکستان کو اپنے ہی ملک میں یکے بعد دیگرے آپریشنز کرنے پڑے۔ پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا بظاہر تو اندرونی طاقتوں سے نظر آرہا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ  اور ہمارے خفیہ اداروں کی کوششوں سے جو باتیں سامنے آنا شروع ہوئیں ان میں یہ چیز نمایاں سمجھ میں آتی ہے کہ "اسلامائزیشن" کا نعرہ لگوا کر ہمارے پڑوسی ممالک ہمیں کمزور کرنے کی بھرپور کوششیں کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن ہمارے دشمنون کو یہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

 دشمن  ہماری آزادی کے دن سے ہی اس کوشش میں اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہا تھا کہ پاکستان کو لسانیت کی آگ میں جھونک  دیا جائے۔   دشمن اپنے اس عزم میں کامیاب بھی ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ اس کی  مثالیں بلوچستان سے لے کر  کراچی اور خیبر پختون خوا تک میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔  ہمیں لسانیت کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔  اس طرح ہمارے درمیان نفرت کا بیج بونے کی بھرپور سازیشیں ہوتی رہی ہیں۔ مگر پاکستانی قوم کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ہر طرح کی سازش کو اپنے قومی اتحاد اور بھائی چارے سے کامیاب نہیں ہونے دیا۔ اگر غور کریں تو مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) بھی ایسی ہی سازشوں کی وجہ سے عمل میں آیا تھا۔ مگر اس کے بعد ہم پاکستانیوں نے ہر قسم کی سازشوں  کا مقابلہ بہت تدبر سے کیا اور کر رہے ہیں۔

پاکستان مختلف زبانیں بولنے والوں کا ملک ہے مگر ہم اردو زبان اور اسلام کی گرہوں سے ایسے بندھے ہوئے ہیں جسے کبھی کھولنے یا توڑنے کی کوشش کرنے والا  منہ کی کھاتا ہے۔  پاکستانیوں کا اتحاد برقرار رکھنے میں جہاں اسلامی بھائی چارے اور اردو زبان نے اپنا کردار ادا کیا ہے تو کرکٹ اور دیگر عوامل  نے بھی انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ پاکستانی قوم کرکٹ کو لے کر ایسی ایکتا کا مظاہرہ کرتی ہے جو کہ ناقابلِ بیان ہے (اس کا تازہ ترین مظہر پاکستان سپر لیگ کا فائنل ہے) اور جب کبھی ہمارے پاکستانی بھائی کسی حادثے (زلزے یا سیلاب وغیرہ) کی ذد میں آتے ہیں تو ایک ایک پاکستانی مشکل کی گھڑی سے نکلنے میں اپنے ہم وطنوں کیلئے ایک آواز ، ایک جان اور ایک زنجیر بن جاتا ہے۔  ہم پاکستانیوں کے اس عمل سے دشمن کے منصوبے ناکام ہوچکے ہیں اور یقیناً اسے اپنے گھناؤنے اقدام پر خود بھی شرمندگی ہوتی ہوگی۔

ابھی پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف ملک گیر آپریشن شروع کیا گیا ہے اور جسے "ردالفساد" کا نام دیا گیاہے۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دے  کر پاکستانی قوم کو اس بات کا احساس دلواتے ہیں کہ "ہم ایک قوم ہیں"۔ کسی بھی زبان بولنے والے کی قربانی کسی مخصوص علاقے کیلئے نہیں ہے بلکہ یہ قربانی پاک سرزمین پاکستان کےلئے ہے۔ کچھ لوگوں نے ایک بار پھر لسانیت کے بجھے ہوئے شعلے کو ہوا دینی شروع کی ہے کہ موجودہ آپریشن ایک خاص زبان بولنے والوں کے کے خلاف کیا جا رہا ہے جو کہ غلط ہے۔ اگر ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی طرح علاقائی اور مختلف زبان بولنے والوں کے خلاف کاروائیاں کرنے لگیں گے تو پھر سب سے پہلے یہ ادارے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں گے اور نظم و ضبط کہ تمام بند ٹوٹ جائیں گے۔ یہی تو ہمارے دشمن کا ہتھیار ہے کبھی وہ بلوچوں کو اکساتا ہے کہ ان کے خلاف کاروائی ہورہی ہے، کبھی وہ مہاجروں کو اکساتا ہے اور  پشتون بھائیوں کو بھڑکا رہا ہے۔  ہمارا دشمن لسانیت کی پرورش کرکے اس کی بدولت ہمارے ملک کو مزید تقسیم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ وہ یہ بھول گیا کہ ہم سب نے ان سازشوں کو بے نقاب کیا اور اس کی بھرپور مذمت کی۔

ملک دشمن عناصر نے لسانیت کا بیج بویا اور ہم ہی لوگوں میں سے اس کی نشونما اور پرورش کرنے والے بھی چن لئے ۔ دشمن کی سازشیں رنگ لائیں اور لسانیت کی بنیاد پر ہی مشرقی پاکستان ہم سے جدا کردیا گیا۔ مگر اب قدرت کا فیصلہ کچھ اور ہے۔ پاکستان کی سالمیت اور بقا کے دفاع کیلئے یہ قوم کسی نہ کسی بہانے سے ایک کردی جاتی ہے۔ بس دکھ اس بات کا ہے ہمیں ایک کرنے کےلئے کسی حادثے اور کرکٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن یہ اتحاد مشروط نہیں ہونا چاہئے۔ اب ہم پاکستانی بن کر نہ صرف پاکستان سے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے میں اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کریں گے بلکہ ملک سے کرپشن جیسے ناسور سے بھی جان چھڑانے کیلئے ایک ہو کھڑے ہوجائیں گے۔