حضورِ رسالت مآب ﷺ کی خدمت میں !
- تحریر مسعود مُنّور
- جمعرات 09 / مارچ / 2017
- 9443
اے نبی ء آخرالزماں ﷺ ! اے تاجدارِ مدینہ ! اے شافعِ روزِ محشر!
اللہ کا ایک عاجز و مجبور بندہ ، جو آپ کے نام لیواؤں میں شمار ہوتا ہے ، آپ ﷺ کے حضور ایک عرضداشت لایا ہے ۔ یہ ایک شکایت ہے کہ اس زمانے میں ، جو اکیسویں صدی عیسوی اور پندرہویں صدی ہجری میں پڑتا ہے ، ایک اُمّت خود کو آپ کے با برکت نام سے منسوب کر رہی ہے جس کے اعمال میں کرپشن ، منی لانڈرنگ ، رشوت ستانی ، غیبت کاری ، بہتان تراشی ، دشنام طرازی ، انا پرستی ، اپنے ہی بہن بھائیوں کے حقوق پر ڈاکہ اور دینِ مبین کے نام پر رہزنی اور دہشت گردی شامل ہے ۔
یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے ایک پرانے یونانی فلسفی کا قصّہ یادآتا ہے ، جسے شیخ سعدی نے گلستان میں نقل کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے زمانے کے ایک نامور فلسفی کے پاس گیا اور بولا کہ فلاں شخص آپ کی بڑی تعریف کر رہا تھا ۔ یہ بات سُن کر فلسفی کو بڑا رنج ہوا اور وہ آبدیدہ ہو کر بولا کہ آخراُس جاہل کو مجھ میں کون سی جہالت نظر آئی جس کے طفیل وہ میرا قصیدہ کہنے لگا ہے ۔
اے آقا و مولا ﷺ ! جس معاشرے سے میرا واسطہ ہے ، وہ خود کو آپ سے منسوب کرتے ہوئے ایک عجیب منطق سامنے رکھتا ہے ، جسے اُس کے شاعروں نے یوں بیان کیا ہے :
خوار ہیں ، بد کار ہیں ، ڈوبے ہوئے ذلّت میں ہیں
کچھ بھی ہیں لیکن تیرے محبوب کی اُمّت تو ہیں
لیکن میری سمجھ میں یہ بات بالکل بھی نہیں آرہی کہ آپ ﷺ کی اُمت ، سچ مُچ کی حقیقی اُمّت خوار ، بدکار اورذلّت میں ڈوبی ہوئی کیسے ہو سکتی ہے ، جب کہ جس جس نے بھی آپ کا دامن تھاما وہ صادق و امین ہو کر تزکیہ نفس سے بہرہ یاب ہوا۔ مگر جن لوگوں کے خلاف عالمی معاشرہ اور مقامی غریب ، بنیادی ضروریات سے محروم اور مجبور لوگ گواہی دے رہے ہیں کہ وہ دروغ گو اور بے ایمان ہیں ، وہ بھی آپ کے دامن میں پناہ لینے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں مگر اپنے اعمال کو نہیں بدلنا چاہتے ۔ وہ اپنے دل کے دامن پر جھوٹ ، بے ایمانی ، نفرت ، لالچ اور زر اندوزی کے داغ دھبے بھی تازہ رکھنا چاہتے ہیں اور آپ کے عشق کا تاج بھی اپنے سر پر سجانا چاہتے ہیں ۔
اے مولائے کائناتﷺ!کیا ایسے منافق اور فریب کار آپ کی اُمّت میں شامل رہ سکتے ہیں ، جن کا تذکرہ غالب نے کچھ اس طرح کیا تھا:
زنہارازاں قوم نباشی کہ فریبند
حق را بسجودے ، و بنی را بدرودے
یہ وہ لوگ ہیں جو لاکھوں روپے مالیت کے قالین پر بیٹھ کر آپ کے ٹوٹے ہوئے بوریے کی شان بیان کرتے ہیں، یہ آپ کے کون ہوتے ہیں آقا!
یہ جو اربوں روپے کی مالیت کے ڈیلکس محلوں میں عیش و عشرت کی سیج پر سوتے ہیں اور آپ کے شکستہ حجرے کے قصیدے پڑھتے ہیں ، آپ ﷺ کے کون ہوتے ہیں ۔
آپ ﷺ نے تو فرمایا تھا کہ خُدا کی قسم وہ مومن نہ ہوگا جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان کو دکھ پہنچ گیا مگر یہ لوگ جب بھی بولتے ہیں تو سننے والے کو دکھ پہنچاتے ہیں اور اُن کا ہاتھ جب بھی اُٹھتا ہے تو دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے اُٹھتا ہے ۔
حضورﷺ !آپ نے فرمایا تھا کہ جس نے خود کھا لیا اور اُس کا ہمسایہ بھوکا رہا وہ مومن نہیں ہوگا مگر ان میں سے اکثریت ایسی ہے جو اپنی بریانیوں اور کبابوں کے نشے میں مست رہتی ہے اور عام لوگ فاقوں سے بچنے کے لیے چھینا جھپٹی پر مجبور ہیں اور معاشرہ دراز دستوں کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے ۔
حضور ﷺ ! آپ کا ارشاد ہے کہ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنی ہیں مگر رشوت ستانی میں مبتلا یہ لوگ خود کو آپ کے دامن سے وابستہ بتاتے ہیں اور تعجب تو یہ ہے کہ مبلغین اس رشوت ستانی کے رواج کو مجبوری کا نام دے کر اُسے جائز قرار دیتے ہیں اور اُس کا ناقص جواز فراہم کرکے آپ کے دین کو مسخ کر رہے ہیں اور اس طرح کا سب کچھ کرتے ہوئے یہ فریب کار آپ کا پرچم بھی لہراتے رہتے ہیں ۔
حضور ! آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے مگر ان میں کے اکثر لوگ اشیائے خوردنی سے لے کر ادویات تک میں ملاوٹ کرتے ہیں اور پھر اس کمائی سے حج اور عمرے بھی کرتے ہیں اور ختم کے چاول تقسیم کرکے لوگوں میں نیک نام بھی کہلواتے ہیں ۔
مگر ان لوگوں کے پاس ایک اثاثہ بھی ہے جس کے بل پر یہ آپ کی شان میں لفظی یا زبانی گستاخی کرنے واالوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں حالانکہ اُن کا اپنا طرزِ زندگی آپ کے حضور بد ترین گستاخی سے بھی سوا ہے ۔
حضور ! اس مذموم صورتِ حال کا تدارک کیسے ہو جب ایک عام مسلمان یہ چاہتا ہے کہ نہ تو کوئی دریدہ دہن آپ کے حق میں کوئی کم تر لفظ بولے اور نہ ہی آپﷺ کے نام کو معاشرے میں وجہِ نزاع بنایا جا سکے کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے بعد جس مقام پر فائز ہیں ، اُس کا اندازہ نہ مجھے ہے اور نہ ہی ان مذہبی ٹھیکیداروں کو ۔ اس دورِ تجارت میں ہر شعبہ ء زندگی ناجائز منافع خوری کا شکار ہے ۔ یہاں تک کہ ربِ کعبہ کا فرستادہ مذہب المذاہب ، اور دین الادیان اسلام بھی ان کی دست برد سے محفوظ نہیں ۔ اور کوئی ایک بھی ایسا نظر نہیں آرہا جو ان کو راہِ راست پر لا سکے کیونکہ یہ نابکار آپ کے نام پر گمراہی کر رہے ہیں ۔ مگر میں سب کی بات نہیں کر رہا ۔ یہ الزام ہر ایک پر نہیں کیونکہ استثنا ہر جگہ موجود ہے۔ ان کے درمیان لا محالہ اور بلا شبہ آپ کے سچے پرستار بھی موجود ہیں مگر وہ اصحابِ کہف کی طرح پردے میں ہیں ۔
یہ اس لفظی گستاخی کے خلاف جنگ میں دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگر کوئی آپ کے باپ کو گالی دے تو آپ کو غصہ آنا فطری ردِ عمل ہے مگر اقبال نے ان کے لیے بھی ایک نسخہ لکھ رکھا ہے کہ :
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر لائقِ میراثِ پدر کیونکر ہو
ان کے پاس آپ کی جو میراث ہے وہ صرف کاغذی ہے اور ان کا سارا دین لفظی ہے جو اقرار باللسان تک محدود ہے اور یہ خود جہالت آباد میں مقیم ہیں ۔ اب ایسے میں تیرے عاجز و مجبور بندے کہاں جائیں کیونکہ :
خُدائی ، اہتمامِ خشک و تر ہے
خُداوندا ! خُدائی دردِ سر ہے
ولیکن بندگی ، استغفر اللہ
یہ دردِ سر نہیں دردِ جگر ہے