ڈنمارک: مسلمان سماجی تنہائی کا شکار ہیں
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈنمارک میں غیر ملکیوں اور مسلمانوں کے متعلق ہونے والے مباحثوں میں سیاست دانوں کا تند و ترش اور قیاس آرائیوں پر منبی بیانات کے نتیجے میں مسلمان اپنے آپ کو باقی سماج سے الگ تھلگ رکھنے پر مجبور ہو سکتے ہیں ۔ حالیہ چند مہینوں سے ڈنمارک میں عوامی و سرکاری مباحث کے دوران مسلمانوں اور اسلام پر بیان بازی کی جارہی ہے۔ ماہرین نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بہت زیادہ منفی اثرات سامنے آ رہے ہیں اور مسلمان یہ سوچنے لگے ہیں کہ ڈینش سماج میں اُن سے ایسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے اور انہیں سماج کا ایک حصہ کیوں نہیں سمجھا جاتا۔
روزنامہ پولیٹیکن اور ٹی وی۔2 کے لیے ایک حالیہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ 37 فیصد ڈینش مسلمان سمجھتے ہیں کہ انہیں کمتر سمجھا جاتا ہے ۔ چونکہ وہ اسلامی پس منظر رکھتے ہیں اس لیے انہیں حقیر جانا جاتا ہے ۔ اسی سروے میں البتہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈنمارک میں جہاں اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کے نزدیک انہیں کمتر سمجھا جاتا وہاں چونسٹھ فیصد مسلمان مکمل یا جزوی اعتبار سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ ڈنمارک میں اپنی خواہش کے مطابق جیسے چاہیں اپنے دین پر عمل کر سکتے ہیں۔ انہیں مکمل آزادی حاصل ہے ۔ کوپن ہیگن یونیورسٹی سے منسلک مذہب و سماجیات کے ماہر برئین ارلیو یاکوبسن کا کہنا ہے کہ ڈنمارک میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اور خود ڈینش النسل مسلمانوں کی کل تعداد دو لاکھ اسی ہزار کے قریب ہے۔ ان کی ایک تہائی تعداد کا یہ سمجھنا کہ انہیں سماج میں حقیر جانا جاتا ہے، کوئی نیک شگون نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ سبھی جانتے ہیں کہ ڈینش سماج میں مسلمانوں اور دین اسلام کے متعلق بحث مباحثے بہت ہی زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ مسلمانوں اور اسلام کے متعلق سیاستدانوں کا رویہ و لہجہ بہت ہی سخت ہو چکا ہے۔ مسلمان اسے اپنی دل آزاری کا سبب سمجھتے ہیں۔ اس سے سماج میں اُن کی انٹگریشن بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔
اس سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 33 فیصد مسلمانوں کا تجربہ ہے کہ اپنے اسلامی پس منظر کی وجہ سے انہیں روزگار تلاش کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے ۔ 32 فیصد کا کہنا ہے کہ ان کی جسمانی ساخت بھی اس راہ میں بہت منفی سمجھی جاتی ہے کیونکہ انہیں دیکھتے ہی انہیں انکے عقیدہ سے نتھی کردیا جاتا ہے ۔ پھر انہیں مسلمان سمجھ کر تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سماج میں مسلمانوں اور اسلام کے متعلق یہ چلن سماجی پسماندگی کو ظاہر کرتا ہے اور اسی وجہ سے اپنے خلاف امتیازی سلوک برتے جانے پرمسلمان الگ تھلگ ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے ہی لوگوں کے درمیان رہنے لگتے ہیں ۔ اب اِس کی مثالیں ڈینش سماج میں کئی جگہوں پر صاف دکھائی دینے لگی ہیں ۔
مسلمانوں کے متعلق اس عوامی روّیے کا ذمہ دار کون ہے۔ سروے کے مطابق ہر دس میں سے نو مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ پچھلے دو عشروں سے مسلمانوں کے خلاف رویہ بد سے بدترین ہو چکا ہے اور اس کے زیادہ تر ذمہ دار سیاسی رہنما خود ہیں۔ سیاستدانوں کے بیانات کو ہوا دینے والا میڈیا بھی اس بات کا ذمہ دار ہے۔ جو اپنی غیر ذمہ دارانہ صحافت کی وجہ سے مسلمانوں کے متعلق مفروضے پھیلانے اور عوامی رائے کو متاثر کرنے کا مرتکب ہوتا ہے ۔ مذہبی و سماجی محققین متفق ہیں کہ مسلمان اپنے بارے میں ڈینش سیاستدانوں اور میڈیا کے رویے کے متعلق جو رائے رکھتے ہیں اس کا انہیں حق ہے۔ کیونکہ فی الوقت ڈینش سماج میں یہی چلن پایا جاتا ہے جس کا مسلمان اظہار کرتے ہیں ۔ ان محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب سوشل ڈیموکریٹ جیسی پارٹی بھی تارکین وطن اور خاص کر مسلمانوں کے خلاف کام کرنے والی ڈینش پیپلز پارٹی سے آگے نکل جانے کی کوششوں میں کم و بیش اسی طرح کی بیان بازی پر اتر آئی ہو جو ڈینش پیپلز پارٹی کا وطیرہ ہے تو مسلمان یہی کچھ محسوس کریں گے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ سیاستدان اور میڈیا ہی مسلمانوں اور اسلام کے متعلق مفروضے پھیلانے اور خود اپنے پھیلائے ہوئے مفروضوں کی بنیاد پر انہیں تنقید اور الزامات کا نشانہ بنانے میں پیش پیش ہے۔
بیشترمحققین اس پر بھی متفق ہیں کہ مسلمانوں اور اسلام کے متعلق کچھ سیاسی پارٹیوں کا انتہا پسندانہ رویہ اور ترش و تند بیان بازی سماج میں مسلمانوں کے بارے میں مخالفانہ فضا پیدا کرنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ڈینش پیپلز پارٹی سرِ فہرست ہے ۔ ڈینش پیپلز پارٹی کے نائب چیرپرسن سؤرن ایسپرسن نے ابھی حال ہی میں ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے روزنامہ Berlingske میں مطالبہ کیا تھا کہ ڈنمارک میں مسلمانوں کا داخلہ روک دیا جائے ۔ انہوں نے لکھا کہ مسلمانوں کا داخلہ چار سے چھ سال تک کے لیے بند کر ہونا چاہیئے۔ اب ڈینش پیپلز پارٹی کے نائب چیئرپرسن سؤرن ایسپرسن کے اس مطالبے کو کچھ دیگر سیاسی حلقے بھی دہرا رہے ہیں۔ محققین اس بات پر متفق ہیں کہ اس طرح کے بیانات میں ایک مخصوص مذہبی برادری یعنی مسلمانوں کو جس طرح نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان کے بارے میں بداعتمادی پھیلائی جاتی ہے تو لازمی بات ہے کہ وہ برادری سماج میں خود کو غیر محفوظ سمجھے گی۔ محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈینش سیاستدانوں اور میڈیا کا سخت لہجہ و رویہ نفرت اور تعصب پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
محققین کے خیال میں یہ صورت حال کسی ’’ تصادم‘‘ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے تدارک کے لیے لازمی ہے کہ ڈینش سیاستدان اور میڈیا اپنے روّیوں پر غور کریں اور محض تنقید اور مفروضوں کی بنا پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لوگوں کے جذبات بھڑکانے اور خوف و ہراس پھیلانے سے باز رہیں۔