باتوں کی بجائے عمل کی ضرورت
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعہ 10 / مارچ / 2017
- 4553
ہر صبح قدرت انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ تیرے لئے ایک اور دن فراہم کردیا گیا ہے۔ تاکہ گزشتہ رات کے پچھتاوے کو دور کرسکے۔ اس طرح ہر نیا دن انسان کو جہد اور کوشش کا پیغام دیتا ہے۔
دنیا میں ترقی کسی نے تحفے میں نہیں دی اور نہ ہی ترقی کہیں قبضہ کرنے سے مل سکتی ہے۔ ترقی کرنے کیلئے تعلیم اور محنت کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس حوالے سے ہم اپنے معاشرے کا اور اپنا محاسبہ کریں تو صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے۔ ملک میں اور خاص طور سے کراچی میں کچرے یا کوڑا کرکٹ کا بحران ہماری غیر ذمہ داری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جگہ جگہ کچرا ہی کچرا نظر آرہا ہے۔ مگر ایسا نہیں کہ کچرا اٹھایا نہیں جا رہا۔ کچرا اٹھایا بھی جا رہا ہے۔ جہاں سے کچرا اٹھالیا جاتا ہے، دوسرے تیسرے دن پھر ویسا ہی کچرے کا ڈھیر بننا شروع ہوجاتا ہے۔ اب اس صورتحال سے نکلنے کے لئے کیا ہم اپنے اداروں کی مدد کرتے ہیں۔
کچرے کو اس کی مخصوص جگہ پر نہیں پھینکا جاتا جس کا جہاں دل چاہتا ہے وہ اچھال دیتا ہے۔ ایک طرف ترقی کی راہ پرگامزن ہونے کی کوشش کی جارہی ہے مگر دوسری طرف تعاون کی کمی ہے جس کے بغیر ترقی ممکن ہی نہیں ۔ ترقی کےلئے سب کو مل کر ایک سمت میں کوشش کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح پانی کی تقسیم کا مسلئہ سال ہا سال سے چلا آرہا ہے ۔ ادارے آج تک پانی کی تقسیم کا کوئی واضح عملی پروگرام مرتب نہیں دے سکے۔ اگر کوئی منصوبہ بندی کی بھی گئی ہے تو وہ یقیناً کاغذوں تک محدود ہے اور عملی طور پر نظر نہیں آتی۔ کچھ سال پہلے ہمارے شہر کی سڑکوں کو "گرین بسوں" نے رونق بخشی تھی، یہ کراچی کی تاریخ کی بہترین بس سروس تھی۔ یہ شہریوں کو سفری سہولت فراہم کر رہی تھی۔ یہ ساری بسیں ائیر کنڈشنڈ تھیں۔ ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا۔ پہلے پان اور گٹکے کی پیکوں سے انتہائی خوبصورت بسوں کی حالت رنگ برنگی کردی تو دوسری طرف جب کوئی ہلا گلا ہوا تو ان گاڑیوں کو کسی کوڑے یا کچرے کی مانند نظرِ آتش کرتے چلے گئے۔
اس طرح بہت ہی قلیل وقت میں کراچی کی سڑکیں گرین بسوں کی جھنجھٹ سے آزاد ہوگئیں۔ ایسے اور بہت سارے منصوبے ہیں جنہیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے برباد کیا ہے اور جن کے بارے میں سوچ کر ہمارے دل کو تکلیف ہوتی ہے۔ ہم صرف ترقی کو نام سے جانتے ہیں اور ٹیلی میڈیا پر دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ہم سب چاہے ہماری حیثیت کوئی بھی ہو مگر اپنے آپ کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ افسوس ہمارے ملک میں اہم ہونے کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ آپ کو باری کا انتظار کرنے کی زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ خود فیصلہ کریں جب تک لوگ اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے نظم و ضبط کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو انہیں کیسے انصاف سے فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ہم سب ایک دوسرے پر تنقید اور انگلی اٹھاتے نہیں تھکتے۔ نصحیتوں کی ہمارے پاس کوئی کمی نہیں۔ کمی ہے تو صرف عمل کرنے کی۔ کمی ہے تو صرف خود احتسابی کی۔ ہم ڈولڈ ٹرمپ اور پیوٹن پر تجزیئے اور تبصرے کرتے ہوئے یہ بھی یاد نہیں رکھتے کہ جس چبوترے پر ہم بیٹھے ہیں یہ بھی کسی اور کے گھر کے ساتھ ہے اور وہ ابھی ہمیں یہاں سے اٹھنے کےلئے کہہ دے گا۔