بہارِ عرب اور کیا کیا خزاں دیکھے گی
- تحریر
- جمعہ 10 / مارچ / 2017
- 5897
گزشتہ ہفتے لاہور میں پی ایس ایل فائنل سے قبل خوف اور عزم کا ایسا گھمسان کا رن پڑا کہ کئی عا لمی خبریں مرکز نگاہ ہونے کے باوجود نگاہ میں نہ آسکیں۔ یادش بخیر ابھی کل ہی کی بات ہے کہ عرب بہار کے نام سے معنون عوامی مزاحمت خبروں کی زینت تھی۔ 2011 میں تیونس کے بعد مصر میں عوامی مزاحمت کا سمندر تحریر اسکوائر میں جمع ہوا تو تین دِہائیوں سے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان حسنی مبارک صدارتی محل سے یوں نکلے کہ سیدھے جیل پہنچے۔
مقدمہ چلا تو ایک پنجرے میں عدالت کے روبرو کل کا مرد آہن ایک اسٹریچر پر پڑا پیشیاں بھگتتا دیکھ کر دنیا کا میڈیا دیوانہ ہوگیا۔ عوامی جوش و جذبہ مزید ابلنا شروع ہو گیا۔ عوامی مزاحمت کی یہ تحریک بحرین، لیبیا، یمن سے ہوتی ہوئی شام پہنچی۔ عرب بہار کے عنوان سے اٹھی اس تحریک کی کوکھ سے بعد ازاں خونریزی اور مہاجرین کی صورت میں ایسے ایسے المیوں نے جنم لیا کہ خدا کی پناہ۔ اس بہار کو خزاں کے ظالم پنجوں نے ایسا دبوچا کہ اب اس کے ذکر سے بھی جھرجھری آتی ہے۔
عدالت نے 2012 میں حسنی مبارک کو سزائے موت سنائی لیکن اس کے بعد نقشہ کچھ اس تیزی سے بدلا کہ کل کے ہیرو باغی اور باغی پھر سے ہیرو بن گئے۔ صدر مرسی کی حکومت معزول ہوئی، وہ گرفتار ہوئے اور عمر قید کے سزوار ٹھہرے۔ جنرل السیسی نے حکومت سنبھال لی۔ ساٹھ ہزار سے زائد سیاسی مخالفین گرفتار ہوئے۔ تھوک کے حساب سے سیاسی کارکنوں کو سزائیں ملنا شروع ہوئیں۔ حسنی مبارک کا مقدمہ عدالت نے پھر سے سننے کا حکم دیا۔۔۔ اور گزشتہ ہفتے ایک اعلیٰ عدالت نے انہیں عدم ثبوت کی بناء پر با عزت بری کر دیا۔ تاریخ کے جبر کا ایک اور دائرہ مکمل ہوا۔
عرب بہار کے عروج کے دنوں میں ہمارے میڈیا کا اس عوامی مزاحمت میں دل دھڑکتا تھا۔ ہیڈلائنز کی زینت یہی مزاحمت تھی۔ سر شام ٹاک شوز میں ایک کے بعد ایک نامی گرامی اینکر اس تحریک کی پاکستان کے سیاسی حالات سے مناسبت اور اثرات پر اپنی بھی جان ہلکان کرتے اور ناظرین کے سیاسی شعور کو بھی ابھارتے۔ لیکن رات گئی بات گئی کی طرح بعد میں یہ عالم ہوا کہ تو نہیں تو تیری جستجو بھی نہیں۔ صدر مرسی کو عمر قید کی سزا ملی تو ہمارے ہاں بیشتر اخبارات نے تین کالمی سرخی جمائی۔ لیکن گزشتہ ہفتے حسنی مبارک 239 مظاہرین کی موت کے الزام سے بری ہوئے تو اخبارات میں بمشکل ایک کالمی خبر کے قابل سمجھے گئے۔ جو اینکرز اس تحریک میں ایک انقلاب ڈھونڈتے تھے اور درجنوں پروگرامز بھی اسی پر کیے، کسی ایک نے بھی تاریخ کے اس رائیگاں سفر پر بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔ پہلے پی ایس ایل کے فائنل کے انعقاد میں خوف اور عزم کے باٹ تولتے رہے ، بعد میں عمران خان کے دو الفاظ کے معنی کھنگالنے میں ہلکان ہوتے رہے لیکن یہ خبر ان کے ہاں بالکل بے توقیر ٹھہری۔
بہار عرب سے معنون عوامی مزاحمت کی یہ تحریک اس قدر اچانک برپا ہوئی کہ امریکہ اور یورپ کی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی ہکا بکا رہ گئیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک کو توقع تھی کہ اس مزاحمت کے نتیجے میں لبرل طبقہ سامنے آئے گا لیکن تیونس اور مصر میں انتخابات کے بعد اسلام پسند حکومتیں وجود میں آگئیں۔ عوامی مزاحمت سے مغرب کا سارا رومانس دھرے دھرا رہ گیا۔ لیکن بعد میں فوراٌ ہی اس مزاحمت کی آڑ میں انہوں نے لیبیا میں مسلح گروہوں کو معمر قذافی کی حکومت گرانے کے لیے لا کھڑا کیا اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کے مخالف گروپس کو منظم کرنا شروع کر دیا۔ تشدد کی یہ آگ یمن بھی جا پہنچی۔ اس عوامی تحریک کے نتیجے میں چار حکومتیں گریں، تیونس، مصر، لیبیا اور یمن۔ بحرین نے اس عوامی مزاحمت کو سختی سے دبا دیا۔ اردن اور مراکش نے اپنے ہاں چند اصلاحات کرکے اپنی جان چھڑائی لیکن عمومی طور پر مشرق وسطیٰ کی جان نہ چھوٹی۔ یمن پراکسی وار کے ہاتھوں آج بھی لہو لہان ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں انسانی المیے کا کرب ایک زندہ جہنم کی مانند ہے۔ شام میں بھی عالمی طاقتوں نے اپنے اپنے حمایت یافتہ متشدد گروہوں کو مصروف عمل رکھا ہوا ہے۔ لیبیا میں بھی حکومت کے پاؤں ٹک نہیں رہے اور خانہ جنگی نے ملک کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔ لے دے کر البتہ تیونس نے اپنے آپ کو قدر ے سنبھال لیا۔ عوامی مزاحمت کے بعد انتخابات کے نتیجے میں اسلام پسندوں کی حکومت بر سر اقتدار آئی لیکن سیاسی محاذ آرائی نے ملک کو ایک بارتقسیم اور خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ لیکن وہاں کی نوزائیدہ سیاسی جماعتوں نے بالآخر ایک دوسرے سے مذاکرات کئے، نئے آئین اور اختیارات کی تقسیم پر طوعاٌ کرہاٌ سمجھوتہ کیا ۔ اور یوں دہلیز پر آئی خانہ جنگی کے عذاب سے اپنے آپ کو بچا لیا۔
حالیہ تاریخ میں مہاجرین کی اس قدر کثیر تعداد ان ہی حالات کا نتیجہ ہے۔ انسانی سمگلروں نے بھی اس موقعہ سے فائدہ اٹھایا لیکن خانہ جنگی اور مسلسل آگ اور بارود سے بھاگ کر لاکھوں لوگ ترکی اور یورپ تک ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ ہزاروں سمندر کی خوفناک لہروں کی نذر ہو گئے۔ انسانی حقوق کے بھاشن دینے والے اب ان مہاجرین کو ترکی اور اپنے اپنے ملک میں روکنے کے جتن کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے آتے ہی ان ممالک سے مہاجرین کا اپنے ہاں داخلہ بند کرنے کا صدارتی حکم نامہ بھی جاری کر دیا۔ بہار عرب کی عوامی مزاحمت پر واہ واہ کرنے والے ممالک اب انہی مظلوموں کی آہ سننے کے بھی روا دار نہیں۔
ہمیں تو خیر پھٹیچر اور ریلو کٹّا کے لغوی اور معروف معنی کے فرق اوران الفاظ کے استعمال کے بر محل یا بے موقع استعمال نے الجھا دیا ورنہ حسنی مبارک کے بری ہونے پر بہار عرب کے ساتھ ان دنوں ہمارے رومانس اوراس کے نتائج پر اب دوبارہ گفتگو ہونی چایئے تھی۔ اینکرز اور تجزیہ کار مگر ان دو الفاظ کی کھال اتارنے میں اس قدر مصروف ہیں کہ انہیں سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں۔ البتہ دنیا میں کئی یونیورسٹیوں میں اس موضوع پر بہت کام ہوا ہے۔ عوامی مزاحمت کیونکر یوں خانہ جنگی میں بدل گئی۔ عوامی مزاحمت میں ایسی کون سی چنگاریاں تھیں جن سے انتہا پسند اور تشدد پسند گروہوں نے آگ بھڑکائی۔ آمرانہ طرز حکومت سے جمہوریت کی طرف سفر اس قدر دشوار بلکہ نا ممکن کیوں رہا۔ کیا ان عوامی مزاحمتوں نے انجانے اور ان چاہے انداز میں نئی آمرانہ حکومتوں کا راستہ ہموار کیا۔ ان تمام ممالک میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ یہ ممالک بڑی طاقتوں کی نو آبادیاں رہے۔ ان Post colonial معاشروں میں ایسا کیا ہے کہ بھرپور عوامی مزاحمت کے باوجود جمہوریت کے طرف مراجعت نہ ہو سکی۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈم رابرٹس نے اپنی حالیہ کتاب Civil resistance in the Arab Spring- Triumphs and disasters میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ عوامی مزاحمت کی کامیابی کے لیے فقط حکومت گرانا ہی کافی نہیں ۔ بلکہ بعد ازاں سیاسی جماعتوں کے ایسے نظم یا institutions کی موجودگی ضروری ہے جس کے ذریعے آئین اور اصلاحات پر فیصلہ کن با معنی مذاکرات یا سمجھوتہ ممکن ہو سکے۔ ایسے نظم کا قیام ، باہمی اعتماد اور برداشت کی موجودگی، نری عوامی مزاحمت کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ مزید یہ کہ نوآبایاتی حکومتوں نے اپنے کوچ کے بعد نظام میں بے یقینی کی ایسی گرہیں ترکہ میں چھوڑی ہیں کہ یہ معاشرے ابھی تک جاندار سیاسی نظم بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
تیونس کے تجربے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں جس قدر جلد ایسا نظم بنانے میں کامیاب ہو جائیں اور اختلافی مسائل کو برداشت ، باہمی اعتماد اور سمجھوتے سے حل کرنے کا ہنر سیکھ لیں، اسی قدر بہتر امکان ہے کہ عوامی مزاحمت یا عوامی خواہشیں کسی نتیجہ خیزصورت میں انجام پذیر ہوجائیں۔ مصر، لیبیا، شام اور یمن میں یہ نظم برپا نہ ہوسکا تو خانہ جنگی نے ڈیرہ ڈال دیا۔ تیونس میں یہ نظم قائم ہوگیا تو ملک کی بچت ہو گئی۔ پاکستان کے لیے بھی اس میں سبق ہے کہ سیاسی قوتوں کو اختلاف اور تقسیم کو انتہا تک جانے سے روکنے کے لیے برداشت، باہمی اعتماد اور قومی مسائل پر معقول سمجھوتے کے نظم میں خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ عدم برداشت میں بولے گئے دو الفاظ ہی سیاسی اور معاشرتی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لے کافی ہیں۔