فتنوں پر فتح ناممکن نہیں مگر مشکل ہے
- تحریر محمد مصطفیٰ علی سروری
- سوموار 13 / مارچ / 2017
- 8331
8 فروری چہارشنبہ کا دن دوپہر کے ڈھائی بجے کا وقت تھا، ٹینک بنڈ پر ایک خاتون بظاہر چہل قدمی کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ ٹریفک کا اژدھام ہے ، ہر کوئی اپنی اپنی منزل کی طرف رواں ہیں، ایسے میں وہ خاتون جو بظاہر چہل قدمی کر رہی تھی ٹینک بنڈ کی اس ریلنگ پر چڑھنے لگتی ہے ، جس کی دوسری جانب گہرا پانی ہے ۔ چلتے لوگ اس منظر کو دیکھنے کیلئے ٹھہر جاتے ہیں جیسے کوئی تماشہ شروع ہونے کو ہے اور ہوتا بھی ایسے ہی ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ٹریفک جام ہونا شروع ہوتی ہے۔ اور منٹوں میں یہ خبر لیک (Lake) پولیس کی پٹرولنگ پارٹی کو مل جاتی ہے۔ اور پولیس جوان خاتون عملے کے ساتھ اس خاتون کو پکڑ لیتے ہیں جو خودکشی کے ارادے سے ٹینک بنڈ پہنچ کر چھلانگ لگانے والی تھی۔ یہ کوئی نئی بات اور تعجب کی خبر نہیں ۔ ہر سال سینکڑوں لوگ حسین ساگر کے پانی میں کودنے کیلئے ٹینک بنڈ کا رخ کرتے ہیں۔ گزشتہ سال ہی (222) لوگوں نے حسین ساگر میں کود کر خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی، جن میں سے لیک پولیس نے (180) لوگوں کی جان بچالی اور ان کی کونسلنگ کرکے انہیں گھر بھیج دیا۔
8 فروری 2017 کو جس خاتون نے حسین ساگر میں خودکشی کی کوشش کی اس کے متعلق لیک پولیس نے باضابطہ طور پرایک پریس نوٹ جاری کیا جس کے مطابق کشن باغ ، بہادر پورہ کی رہنے والی 36 سالہ یہ خاتون ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی ہے اور اس خاتون کے تین چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں ۔ پولیس کے دریافت کرنے پر اس مسلم خاتون نے بتلیا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے لیکن اس کے سسرال والے ہر چھوٹی بات پر اس کو مارپیٹ کا نشانہ بناتے اور ہراساں کرتے ہیں ۔ 8 فروری کی صبح بھی اس کو سسرال میں مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا ۔ لیک پولیس کی خاتون انسپکٹر شریمتی سری دیوی نے اس مسلم خاتون کے شوہر کو پو لیس اسٹیشن طلب کیا اور سمجھا بجھاکران دونوں میاں بیوی کو ’’بھروسہ‘‘ نامی کونسلنگ سنٹر کو روانہ کیا۔ جہاں پر ان کی مزید کونسلنگ کی جائے گی ۔ اب ذرا تصور کیجئے کہ ایک ماں جس کے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ، حسین ساگر میں کود کر مرجانا چاہتی ہے اور اپنی زندگی سے اپنے حالات سے اس قدر مایوس ہے کہ تین چھوٹے چھوٹے بچوں کا مستقبل بھی اس کو اپنی جان خود لینے سے نہیں روک پا رہا ہے۔ کیا اس مسلم گھرانے میں گھر کا کوئی بڑا آدمی نہیں ہوگا جو اس خاتون کو دلاسہ دے سکے ۔ کیا کوئی شخص اس کے خاندان میں اس قابل نہیں ہوگا جو اس کے سسرال والوں کو اس پر ظلم کرنے سے روکنے کی تلقین کرے۔ ایک لمحے کے لئے قارئین آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ارے بھائی صاحب کوئی پاگل عورت ہوگی جو خودکشی کر رہی تھی ، اب پاگل کو کون کیا کہہ سکتا ہے ۔
جب پولیس اس عورت کو پکڑ کر اسٹیشن لے گئی اور وہ وہاں پر اپنا حال دل سنانے لگی کہ اس کو آج صبح بھی مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور وہ اپنے سسرال والوں کے اس رویہ سے عاجز آچکی ہے ۔ جب اس کے شوہر کا نمبر پوچھا گیا تو اس نے موبائیل نمبر بھی پولیس کو بتایا ۔ یہ بھی بتایا کہ اس کے تین چھوٹے بچے ہیں اور جب انسپکٹر شریمتی سری دیوی نے اس کو اور اس کے شوہر کو بٹھاکر سمجھایا تو وہ مان بھی گئی اور پھر اپنے شوہر کے ساتھ ایک کونسلنگ سنٹر جانے کیلئے آمادہ بھی ہوگئی ۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ٹھیک ہے وہ عورت پاگل ہے تو ہم کیا کریں ۔ ارے بھائی صاحب آپ ہی لکھ رہے ہیں کہ ہر سال سینکڑوں لوگ خودکشی کے ارادے سے ٹینک بنڈ پر جاتے ہیں اور گزشتہ سال بھی 222 لوگوں نے خودکشی کی کوشش کی۔ اور ان میں چند مسلمان بھی شامل ہوں گے ۔ دیکھئے مسائل تو ہر جگہ ہوتے ہیں ۔ ایک مسلم خاتون کی خودکشی کی کوشش ہی ہوئی نا ؟ یہاں اس سے بڑے بڑے مسائل ہیں ۔ ملکی سطح پر طارق فتح فتنہ پھیلا رہا ہے ۔ عالمی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگادی ہے اور آپ ایک دین سے دور اور شاید اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ خاتون کی خودکشی کو اتنا بڑا مسئلہ بناکر پیش کر رہے ہیں۔ اور جناب ہم نے سن رکھا ہے آپ صحافت کی تعلیم دیتے ہیں تو میڈیا میں طارق فتح فساد برپا کر رکھا ہے ۔ آپ کیا کر رہے ہیں۔ کچھ کرو۔ اس کا مسئلہ بند کرو۔
آپ اصل مسئلہ کو چھوڑ کر ایک عورت کی خودکشی کی کوشش پر بات کر رہے ہیں۔ تعجب ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے ٹھیک ہے ، دین سے دوری کے سبب ایک مسلم خاتون خودکشی کی کوشش کرتی ہے اور طارق فتح کون ہے وہ بھی تو دین سے دور ہے ۔ مسئلہ ہمارے شہر حیدرآباد کی ایک خاتون کی خودکشی کی کوشش کرنا ہے تو اس کا سبب دین سے دوری ہے ۔ طارق فتح اگر زی ٹی وی کے ذریعہ فساد پھیلا رہا ہے تو وہ بھی دین اسلام سے بھٹکا ہوا شخص ہے۔ طارق فتح کے خلاف سوشیل ویب سائیٹس پربہت کچھ کہا اور لکھا جارہا ہے ۔ ٹھیک ہے بعض احباب سمجھتے ہیں کہ فتح کے فساد کے خاتمہ کیلئے اس کے خلاف مہم موزوں ہے۔ فتح کی عمر 67 سال بتائی جاتی ہے ۔ پاکستان میں پیدا ہونے والا یہ شخص فی الحال کینیڈا کی شہریت رکھتا ہے ، اس کی ایک بیٹی کا نام نتاشا فتح ہے۔ جی ہاں یہ لڑکی بھی کراچی میں پیدا ہوئی ۔ اس کا بچپن سعودی عرب کے شہر ریاض میں گزرا۔ پھر وہاں سے وہ اپنے باپ کے ساتھ کینیڈا چلی گئی۔ سعودی عرب میں 10 برس رہنے کے باوجود نہ تو طارق فتح اسلام کو سمجھ سکا اورنہ ہی اس کی بیٹی نتاشا کی صحیح تربیت ہوسکی۔ نتاشا فتح نے کینیڈا کی مختلف یونیورسٹیوں سے باضابطہ طور پر جرنلزم کی سند حاصل کی اور اس کے شوز وہاں کے ٹی وی پر آتے ہیں۔ اس لڑکی نے بھی کرس نامی ایک صحافی سے شادی کی ہے اور اپنا تعارف ایک مسلمان کے طور پر کرواتی ہے ۔
نتاشا فتح کینیڈا کے سرکاری ٹیلی ویژن اسٹیشن (CBC) Canadian Broadcasting Corporation کیلئے کام کرتی ہیں۔ طارق فتح کے فسادی شو، فتح کا فتویٰ کی شکایت ہر قانونی پلیٹ فارم سے کی جانی چاہئے ۔ اس پر پابندی لگنی چاہئے۔ ٹھیک ہے یہ تو فوری توجہ طلب حل ہے ۔ طویل مدت میں ایک ہی حل نظر آتا ہے کہ دین سے آگاہی کو عام کیا جائے ۔ ہمارے شہر کی غریب بستی ہو یا سعودی عرب میں مقیم بھارتی مسلمان، اس بات کو سمجھ لیں کہ سعودی عرب میں قیام دین جاننے اور سیکھنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہے۔ جتنا اہم کام طارق فتح کو لگام دینے کا ہے ، اتنا بلکہ اس سے بھی اہم کام دین کی تعلیم کو ہر مسلمان کیلئے لازمی کرنا ہے۔
طارق فتح صرف اکیلا فسادی نہیں ایسے اور بھی نام ہیں جن کے ہاں بڑی بڑی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں ہیں۔ اسریٰ قرۃ العین نعمانی کو ہم نہیں بھول سکتے ہیں۔ یہ 50 سالہ ہندوستانی نژاد امریکی خاتون اپنے آپ کو مولانا شبلی نعمانی کی پوتری کہتی ہیں۔ امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں جرنلزم کی استاد ہے ۔ اس سے پہلے وال اسٹریٹ جرنل میں بحیثیت صحافی کام کرتی تھی ۔ امریکہ کے بڑے بڑے اخبارات میں کالم لکھتی ہیں اور یہی وہ مسلم خاتون ہے جس نے مارچ 2005 میں نیویارک میں عورتوں کی امامت میں نماز کا آغاز کیا تھا اور آمینہ ودود کے ساتھ مل کر عورتوں کی امامت کا بیڑہ اٹھایا۔
اسریٰ نعمانی آج بھی امریکی اخبارات اور ٹیلی ویژن پر پیش ہوتی ہیں۔ 11 نومبر 2016 کو سی این این (CNN) کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسریٰ نعمانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے کا اعتراف کیا ۔ یہی نہیں اسریٰ جرنلزم کی استاد ہونے کے ناطے کتابیں بھی لکھتی ہیں۔ اپنے لڑکے کا نام بھی اس خاتون نے شبلی نعمانی کے نام پر رکھا ہے اور بن شادی کے ماں بننے والی اس امریکن خاتون نے سفر حج بھی کیا اور امریکہ واپس جا کر Standing Alone in Mecca کے نام سے کتاب لکھی، جس میں لکھا کہ اگر سعودی عرب کو یہ معلوم ہوجائے کہ میں جس بچے کے ساتھ حج کر رہی ہوں ، اس کے باپ سے میری شادی نہیں ہوئی ہے تو وہ لوگ مجھے سنگسار کردیتے ۔ شکر ہے کہ میں امریکی ہوں۔
طارق فتح ہوں یا اسریٰ نعمانی یہ تو اس شجر بے ہنگم کے پھل ہیں جو صرف زی ٹی وی یا CNN جیسے اداروں پر پیش ہونے تک محدود نہیں ہیں۔ کیا طارق فتح کا زی ٹی وی پر شو بند کردینے سے وہ سدھر جائے گا جیسا کہ میں نے اس کالم کے آغاز میں لکھا کہ طارق فتح کی ایک بیٹی بھی ہے جو بطور صحافی کینیڈا کے سرکاری ٹیلی ویژن میں کام کرتی ہے۔ اسریٰ کیو نعمانی کا بچہ شبلی نعمانی بھی ہوسکتا ہے کہ بڑا ہوکر اپنی ماں کی طرح صحافت میں کام کرنے لگے۔ ایک اور برطانوی نژاد شخص کے نام کا ذکر یہاں موزوں معلوم ہوتا ہے جس کا نام آتش تاثیر ہے ۔ یہ بھی ایک صحافی اور ادیب ہے ۔ اس کی ماں ہندوستان کی مشہور انگریزی صحافی تولین سنگھ ہے اور پا کستان کے مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو یہ اپنا والد قرار دیتا ہے۔ سلمان تاثیر نے تولین سنگھ سے شادی تو نہیں کی۔ مگر تولین سنگھ نے تنہا اس لڑکے کی پرورش کی اور آتش تاثیر نے اسلام کے بشمول مختلف موضوعات پر کتابیں لکھیں اور انڈیا ٹوڈے سے لےکر برطانیہ کے سنڈے ٹیلی گراف اور امریکہ کے نیویارک ٹائمز اور ٹائم میگزین میں آتش تاثیر کی رپورٹس اور کالم شائع ہوتے ہیں۔ کیا ان لوگوں سے ہم اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ آج طارق فتح کا شو ختم ہوجائے تو دوسرا کوئی فتح سامنے نہیں آئے گا ، اس کے لئے ہم کیا کر رہے ہیں کہ جس غیر منصوبہ بند، بے ہنگم درخت کے یہ پھل ہیں، ایسے درخت آئندہ پنپ ہی نہ سکیں۔ اس کیلئے ہمیں دین کی لازمی تعلیم کو ہر گھر میں اور ہر مسلم کیلئے ضروری بنانا ہوگا۔
کسی کے گھر بچے کی پیدائش پر صرف مبارکباد دینا کافی نہیں بلکہ یہ احساس دلانا ہوگا کہ جناب اب اس بچے کو دین کی تعلیمات سے واقف کروانا آپ کی ذمہ داری ہے ۔ اب ہمیں دوسروں سے یہ نہیں پوچھنا ہے کہ آپ کے بچے کیا پڑھ رہے ہیں بلکہ یہ پوچھنا ضروری ہے کہ کیا آپ نے اپنے بچے کو دین کی صحیح تعلیم دی ہے یا نہیں۔ کیونکہ تعلیم تو اب سب بچے بھی حاصل کر رہے ہیں۔ سرکار نے ان کے لئے فری تعلیم کی اسکیم شروع کی ہے ۔ مسلمان ہونے کے ناطے والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی دینی تعلیم اور تربیت کو یقینی بنائیں اور سب سے اہم یہ ہےکہ مسلمانوں کو میڈیا کی اہمیت سمجھنا ہوگا ۔ اخبار میں مراسلہ نگاری یا مضمون نویسی کسی کو صحافی نہیں بناتی ہے ۔ یہ ایک پروفیشن ہے اور اس میں داخلے کیلئے باضابطہ پروفیشنل تربیت ضروری ہے۔
دور نہ جائیے ذرا اس بات کاپتہ لگائیے کہ کتنے مسلمان طلبہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے جرنلزم اور ماس کمیونکیشن کا کورس کر رہے ہیں۔ انگلش اینڈ فارن لینگویج یونیورسٹی میں کتنے مسلمان جرنلزم میں پڑھ رہے ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے جرنلزم کورس میں مسلمان کتنے ہیں۔ آج مسلمان انجینئر اور ڈاکٹرز سے زیادہ مسلمان صحافیوں کی ضرورت ہے ۔ تب ہی ہم طارق فتح کی آنے والی نسلوں کو میڈیا میں غلط تصور پیش کرنے سے روک سکتے ہیں۔