پاکستان اور امریکی کھیل

پاکستان امریکی کھیل کی بدولت آج تک دہشتگردی سے لڑ رہا ہے اور اگر پاکستان نے اپنی پالیسیوں کو نہ بدلا تو شاید آگے بھی ایسے ہی چلتا رہے۔ پاک امریکہ تعلقات کا آغاز پاکستان بننے کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔ لمبے عرصے تک پاکستانی حکومتیں اور جرنیل امریکی تعلقات سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں۔

پاکستان کو معرض وجود میں آنے کے بعد متعدد چیلنجز در پیش تھے۔ انتظامی و مالی مسائل سرفہرست تھے۔ مگر اس دہائی میں پاکستان سے دہشتگردی کوسوں دور تھی۔ کچھ عرصہ میں ہی پاکستان نے کافی حد تک اپنے انتظامی و مالی مسائل پر قابو پالیا تھا۔ وقت گزرا پاکستانی آمروں نے اپنی خواہشات کے چکر میں امریکی کھیل میں شمولیت اختیار کی۔ یہ کھیل ظاہری طور پر تو بہت ہی سادہ اور فائدہ مند تھا۔ بہت کم لوگ اس کے اثرات سے واقف تھے۔ پاکستان خطے میں امریکی اتحادی کے روپ میں نظر آنے لگا۔ امریکہ اپنے مفادات کے لئے پاکستانی سر زمین کو استعمال کرنے لگا۔ ہمارے ادارے بھی اس میں شامل رہے۔

افغانستان سے سویت یونین کی واپسی کے بعد پاکستان نے چاغی کے مقام پر کامیاب ایٹمی دھماکے کئے۔ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد سے پاک امریکہ تعلقات خراب ہونا شروع ہو گئے۔ امریکہ کو ہر گز گوارا نہ تھا کہ اس کے اشاروں پر چلنے والا اتحادی مضبوط ہو۔امریکہ نے پاکستان پر پابندیاں عائد کیں۔ ڈالرز آنے بند ہوگئے۔ یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جب امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اپنی پالیسیاں بدل دیں اور پاکستان کو بدلتی آنکھ سے دیکھنا شروع کیا۔ ایک بار پھر ایک پاکستانی جرنیل نے اپنے اقتدار کے تحفظ کے لئے  امریکہ کو افغانستان پر چڑھائی کے لئے پاکستانی اڈے فراہم کئے۔ پاکستان کے راستے نیٹو سپلائی شروع ہوئی۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پھر بہتر ہوئے مگر پہلے سی گرم جوشی نہ دکھائی دی۔ امریکہ ڈالرز فراہم کرتا اور ساتھ ہی پاکستان پر ڈرون حملوں کی صورت میں ڈالرز کے دام پورے کرتا رہا۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان پر بھی چڑھائی کی کوششیں کرتا رہا۔

عرصہ تک یونہی چلتا رہا۔ امریکی ڈرونز کی زد میں معصوم پاکستانی آتے رہے۔ اس دوران  بہت سی پاکست ن دشمن تنظیموں نے جنم لیا۔ پاکستانی ریاست کے خلاف بغاوت شروع ہوگئی۔ دشمن ملک نے اس سے فائدہ اٹھانا شروع کیا۔ پاکستان بیک وقت امریکی ڈرون اور دہشتگرد ی سے دوچار رہا۔ وقت گزرا۔ آمر جرنیل گھر چلتا بنا۔ جمہوری حکومت آئی۔ متعدد کوششوں کے باوجود بھی دہشتگردی پر قابو نہ پایا گیا۔ امریکہ سے تعلقات بنتے ٹوٹتے رہے۔ امریکی آپریشن ایبٹ آباد جس میں  امریکی فورسز نے اسامہ بن لادن کو مارا تھا، اس کے بعد سے پاک امریکہ تعلقات کافی خراب رہے۔ پاکستان امریکہ پر ڈرون حملے بند کرنے کے لئے دباؤ ڈالتا رہا۔ نئی حکومت آئی۔ پاکستان چین اور روس قریب ہوتے نظر آئے۔ نئے آرمی چیف آئے بلوچستان سمیت بہت سے علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کی  ۔پاکستان کے دو ٹوک مؤقف اور بار بار اصرار پر ڈرون حملے بند ہوگئے۔

آرمی پبلک سکول جیسے دردناک واقعہ نے پوری قوم کو جنجھوڑ دیا ۔پاکستان حکومت اور فورسز نے آپریشن ضرب عضب کا یک طرفہ فیصلہ کیا۔ جس پر عملدرآمد کے بعد پاکستان کے بہت سے علاقوں سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوا۔ پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو امریکہ بھی سراہتا رہا اور ساتھ ہی ڈومور کا بھی مطالبہ کرتا رہا۔ امریکہ نے بلا جواز پاکستان پر پابندیاں بھی لگائیں اور بھارت کے ساتھ قربت بھی امریکی پالیسی کا حصہ رہی۔ پاکستان ایک لمبے عرصے کے بعد کسی مثبت مقام پر پہنچا تو چین نے پاکستان کو محفوظ ملک گردانتے ہوئے پاک چین اکنامک کوریڈور پر کام شروع کیا۔ اکنامک کوریڈور پر کام شروع ہوتے ہی دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہوگئیں۔ بھارت اور امریکہ کو ہر گز گوارا نہ تھا کہ پاکستان اور چین کے اشتراک سے یہ منصوبہ مکمل ہو۔

امریکہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات محدود کرکے بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ شروع کردی۔ بھارت اکنامک کوریڈور کو ناکام بنانے کے لئے سازشیں کرتا رہا۔ پاکستان نے نقصان کے باوجود ان سازشوں کو ناکام بنایا۔ اسی دوران امریکی صدر بدلا اور ڈونلڈ ٹرمپ برسراقتدار آیا۔ جس کی انتہا پسندانہ سوچ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان کے لئے نقصان دہ اور بھارت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اسی صورتحال کے دوران امریکی بیانات میں تضاد نظر آیا۔ کبھی امریکہ پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کوششوں کو سراہتا اور کبھی پاکستان پر دہشتگردی کو پروان چڑھانے کے الزامات لگاتا۔ امریکہ کی پاکستان کے ساتھ تعلقات کی تاریخ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ ہماری سرزمین صرف اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا رہا ہے۔  اور اپنے مفادات کی خاطر ہی اپنا اثر رسوخ پاکستان پر قائم رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی اور پاک افغان تعلقات میں خرابی کی سب سے بڑی وجہ خود امریکہ ہے۔ امریکہ ہرگز پاکستان اور اس خطے کو مستحکم ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔

گزشتہ دنوں امریکی کمانڈر مارک جوزف کی طرف سے ڈو مور کا مطالبہ اور پھر رکن ایوان ٹیڈ پو جو کہ امریکی ایوان میں دہشتگردی سے متعلق کمیٹی کے صدر ہی،ں نے پاکستان کو دہشتگردی کی معاونت کرنے والا ملک قرار دینے کے لئے ایوان میں بل پیش کیا۔ جو کہ حقائق کے منافی ہے۔ دنیا پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کارکردگی کو متتعد بار تسلیم کرچکی ہے۔  امریکہ پاکستان کو دوبارہ ٹف ٹائم دینے کی تیاریوں میں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کو پابندیوں والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ پاکستان کو سفارتی سطح پر چستی دکھانا ہوگی اور اس بل کی احمقانہ اور پراپیگنڈا حقیقت کو سامنے لانا ہوگا۔ امریکہ سے مطالبہ کرنا ہوگا کہ تعلقات دو طرفہ ہونے چاہئے۔ ہم دو طرفہ تعلقات کے حامی ہیں۔ دیکھا جائے تو پاکستان نے امریکی اتحادی بن کے اپنا ہی نقصان کیا ہے ۔ شاید امریکی امداد بھی اتنی نہ ملی ہو جتنی رقم ہم نے اپنے اندرونی معاملات اور دہشتگردی کے خلاف لڑنے کے لئے خرچ کی۔ جو قیمتی جانیں قربان ہوئیں ان کا اذالہ کبھی ممکن نہیں۔

دنیا اور پاکستان بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں موجوہ دہشتگردی امریکی دوستی کا ثمر ہے۔ پاکستان کو امریکی ڈو مور مطالبے کو مسترد کرکے امریکہ سے دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی ترک کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے ۔ پاکستان کو امریکی کھیل کو مسترد کرکے خود مختار بننے کی ضرورت ہے۔ ماضی وحال کے نقصانات اسی کھیل کا حصہ تھے۔ امریکہ جیسے مکار حلیف کے دھوکے سے باہر نکل کر، اپنی پالیسیاں بدلنے کی فوری ضرورت ہے۔ کیونکہ مکار دوست، دشمن سے بھی خطرناک ہوتا ہے۔ پاکستان کو اپنی خاجہ پالیسی بدلتی صورتحال کو دیکھ کر تشکیل دیناہوگی۔ یہی وقت کی پکار ہے۔