تخلیق انسانی کی کتاب
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 14 / مارچ / 2017
- 5950
میرے ایک گزشتہ ایک کالم کی اشاعت کے بعد بہت سے قارئین کے ٹیلی فون موصول ہوئے جس میں انہوں نے اس معلوماتی کالم کی مبارکباد کے علاوہ اس موضوع پر مزید جاننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان افراد کی گفتگو سے جہاں تک میں نے اندازہ لگایا ہے وہ اس دریافت اور نوع انسانی کی کامیابی کے بارے میں یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انسانی کلوننگ کی جانب سائنس کا سفر کس تیز رفتاری سے جاری ہے۔ اس لئے اس موضوع پر کچھ مزید معتوضات پیش کروں گا۔ میرا یہ کالم آپ گزشتہ سے پیوستہ سمجھ لیجئے۔
فروری 1997 میں بھیڑ ڈولی کی کلوننگ سے حوصلہ پا کر کئی سائنس دانوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ کلوننگ کے ذریعے نیا انسان تخلیق کر سکتے ہیں۔ سائنس دانوں کے اس اعلان سے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں بڑی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا جس میں یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے تقریباً ہر ملک نے انسانی کلوننگ پر قانونی امتناع کا اعلان کر دیا تھا۔ لیکن بعد کی تفصیلات سے یہ انکشاف ہوا کہ مکمل امتناع کسی بھی ملک میں عائد نہیں کیا جا سکتا۔ مجوزہ قوانین میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ لیبارٹریوں کی سطح پر انسانی کلوننگ کے تجربات جاری رہیں البتہ ان تجربات سے تیار شدہ مواد کو کسی خاتون کے جسم میں منتقل نہ کیا جائے۔ اس گنجائش کی حد تک کئی تجربات کئے گئے ہیں اور ان کی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی کلوننگ کی جانب انسان کا سفر تیزرفتاری سے جاری ہے۔
سردست سائنس دان تجربات کے بارے میں عالم انسانیت کو یہ بشارت دیتے ہیں کہ جینٹک تکنیک سے یہ ممکن ہو جائے گا کہ انسانی اعضاء کی پیوند کاری کیلئے کسی انسان سے اس کے اعضاء کا عطیہ لینے کی محتاجی ختم ہو جائے گی اور درکار اعضاء کو مصنوعی طور پر تیار کر لیا جائے گا۔ لیکن اس کے ساتھ بعض اخباری نامہ نگاروں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ جینی حیاتیات کی تحقیقات کو کیمیائی اسلحہ سازی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ خدشات اپنی جگہ پر درست ہو سکتے ہیں کہ کسی بھی نئی ایجاد یا دریافت میں منفی پہلو بھی پائے جاتے ہیں۔ مگر کلوننگ سائنس دان یہ استدلال کرتے ہیں کہ کلوننگ تجربات انسان کی محرومیوں کا واحد علاج ہے مثلاً کسی مرحوم عزیز کو دوبارہ زندہ پا لینا، طبی تحقیق، نسل انسانی کے بہتر ڈیزائن، جسم انسانی کے ۔۔۔ حصوں یا فالتو پرزوں کی تیاری وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ اس تحریک کے قائد سائنسدان ڈاکٹر ہربٹ کہتے ہیں کہ کلوننگ کا خوف بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر اس تکنیک کو نظم و ضبط کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو اس سے انسانوں اور جانوروں دونوں کا بھلا ہوگا۔ انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب بھی کوئی امید افزا امکان سامنے آیا تو کسی نہ کسی شخص نے اس تجربہ کو آگے بڑھانے کی کوشش ضرور کی۔ سائنس کی تاریخ میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر ہائسن نے ڈی این اے کی ترکیب کا راز بتایا۔ ڈاکٹر واٹسن کلوننگ تجربات کے حامی ہیں اور اس میدان میں ’’جینی منصوبہ‘‘ جیسے اہم سائنسی تجربات کے روح رواں ہیں۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ چند سال قبل بھارتی نژاد نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر کھرانا نے مصنوعی جنین کی تیاری کا ایک اہم تجربہ کیا تھا بعد میں بھی کافی عرصہ تک انسانی کلوننگ کے ناکام و کامیاب تجربات ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ ڈولی بھیڑ کی کلوننگ نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ ڈالا۔ ڈولی کے بعد کے تجربات میں سب سے پہلے ساچیو سیل ریسرچ کا نام اخبارات کی زینت بنا جہاں مئی 1998 میں ہوبہو مشابہ بچھڑے تیار کئے گئے تھے۔ جون 1998 میں ایک چوہے کی تیاری کی خبر آئی اور اس کے پانچ ماہ بعد نومبر 1998 میں یہ چونکا دینے والی خبر آئی کہ جاپان میں گائے کے دودھ کے خلیوں سے گائے کا کلوننگ تیار کر لیا گیا۔ اسی دوران ایک امریکی ماہر طبیعات نے اعلان کیا کہ وہ دو برس میں انسانی خلیہ تیار کر دیں گے۔ جب اس کے اس اعلان پر قانونی امتناع عائد کرنے اور تجربہ گاہوں کو انسانی جین فراہم نہ ہونے دینے کی کوششیں کی گئیں تو اطالوی سائنس دان نے اعلان کیا کہ وہ خود اپنی کلوننگ تیار کر لیں گے۔
کلوننگ تکنیک کے میدان میں اس وقت نمائندہ تحقیقی کام امریکی، برطانوی اور اطالوی سائنسدانوں نے سرانجام دیا ہے۔ ان سائنس دانوں نے پہلی مرتبہ انسانی بیضہ (انڈا) سے ازلی انسانی خلیے نکال کر ان کی پرداخت کی ہے۔ چونکہ یہ خلیے ضائع شدہ حمل سے حاصل کئے جا سکتے ہیں لہٰذا یہ سائنس دان کہتے ہیں کہ اب ہماری راہ میں کوئی اخلاقی بندش بھی حائل نہیں ہے کیونکہ ضائع شدہ حمل تو بے جان ہوتا ہے۔ بہرحال اس موضوع پر بحث جاری ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ اس تکنیک کے بہت سے فائدے ہیں مثلاً اس کی مدد سے جسم میں ایسے جین سرایت کرائے جا سکتے ہیں جو کئی موروثی بیماریوں کے ازالہ میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ انسانی اعضاء کی کلوننگ میں بھی یہ تکنیک استعمال کی جا سکتی ہے۔ جگر، تلی یا ہڈیوں کا گودا لیبارٹری میں تیار کیا جا سکتا ہے اور معمولی نشوونما کے بعد اس کی پیوند کاری مریض کے جسم میں کی جا سکتی ہے جہاں وہ مریض کے خون پر پل کر مکمل حجم کو پہنچ جائے گا۔ اس طرح انسانی اعضاء کی خرید و بازیابی کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے گا۔
ابھی حال ہی میں ہالینڈ کے ایک جریدے نے لکھا ہے کہ ذیابیطس، امراض قلب، پارکنس، اعصابی کمزوری، نسوں کی سختی، بلڈ ٹرانسفر، ہپنائیس اور کسی بھی قسم کے کینسر جیسے امراض کا تسلی بخش علاج جنیاتی کلوننگ ہی ہے جس کے ذریعے تلف شدہ خلیوں کی تبدیلی، مرمت یا ان کی صحیح دیکھ بھال کی جاسکتی ہے اور ڈاکٹر کولنز کے بقول، میں نہایت عجز و انکساری کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہم تخلیق انسانی کی وہ کتاب پڑھنے کے قابل ہو گئے ہیں جس کا علم قبل ازیں نہیں تھاِ
پابند مقدر ہو کر بھی ہر چیز پہ قادر ہے انساں
مجبور کا جب یہ عالم ہے مختار کا عالم کیا ہوگا