اتر پردیش انتخابات میں غلطیاں اور سیکھنے کے سبق
- تحریر محمد آصف اقبال
- بدھ 15 / مارچ / 2017
- 4902
ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کا مر حلہ اس وقت پورا ہو گیا جب کہ 11مارچ کو اس کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ ان نتائج کا سبھی کو بے صبری سے انتظار تھا۔ اس میں عام لوگ بھی شامل تھے اور وہ سیاسی جماعتیں بھی جو اپنی سیاسی بساط کے پھیلاؤ ، اس کے استحکام یا پہلے سے حاصل شدہ دائرہ کو برقرار رکھنا چاہتی تھیں۔
ان پانچ ریاستوں میں منی پور، گوا بھی تھیں اور پنجاب ، اتراکھنڈ اور اترپردیش بھی۔ اس سب کے باوجود سب سے زیادہ دلچسپی اتر پردیش کے انتخاب میں تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اترپردیش سب سے بڑی ریاست ہے اور وہ عموماً ملک کے سیاسی مزاج کو متاثر کرتی ہے۔ ایک طرف ریاست میں برسراقتدار اکھلیش حکومت کو اس ریاستی انتخابات اور اس کے نتائج سے حد درجہ دلچسپی تھی، وہیں مرکزمیں برسر اقتداربھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی یہاں فتح کا بے چینی سے انتظار تھا۔ بھارتیہ پارٹی کی بے صبری کی ایک وجہ اس کی حد درجہ منظم و منصوبہ بند انداز میں کی جانے سعی و جہد تھی جس کے نتائج وہ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی تھی۔ یہ انتخاب راجیہ سبھا میں اس کی کمزور حالت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی تھے۔ 2014کے آغاز ہی سے جبکہ بی جے پی مرکز میں برسراقتدار آئی، ان انتخابات کی شدت سے منتظر تھی۔ آخر کار یہ انتظار ختم ہوا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو 403اسمبلی سیٹوں والی ریاست اترپردیش میں325نشستوں پر بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ دوسری جانب اترکھنڈ میں 70نشستوں میں سے 57نشستوں پر بی جے پی کو کامیابی ملی۔ تیسری ریاست تعداد کے اعتبار سے ریاست پنجاب تھی جہاں کل 117نشستوں میں سے کانگریس کو 77اور عام آدمی پارٹی کو 22 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ منی پور اور گوا میں بھی بالترتیب کانگریس کو 28اور17اور بی جے پی کو21اور13نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ تاہم ان ریاستوں میں بھی بی جے پی حکومت بنا رہی ہے۔
انتخابی نتائج نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران اور ان کے کیڈر کو بے انتہا حوصلہ بخشا ہے ۔ اور ناکام ہونے والوں نے الزام تراشی سے کام لینا شروع کیا ہے۔ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ہر مرتبہ ہونے والے الیکشن اور اس کے نتائج کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پھوڑتا آیاہے۔ اس مرتبہ بھی اس نے اپنی پہچان کو برقرار رکھا ہے ۔سماج وادی پارٹی کے صدر اور موجودہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کانگریس کے ساتھ مستقبل میں بھی اتحاد برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے ہے کہا کہ آج کے دور میں ووٹ سمجھانے سے نہیں بہکانے سے ملتا ہے۔ انتخابات کے نتائج سے مایوس اکھلیش نے کہا کہ کانگریس سے سماج وادی پارٹی کا اتحاد اور راہول گاندھی سے ان کی دوستی برقرار رہے گی۔
سماجوادی پارٹی کو 29%ووٹ حاصل ہوئے، پھر بھی وہ ہار گئی ۔ اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ اکھلیش یادو کا یہ کہنا کہ ترقی اور ڈویلپمنٹ کے کاموں کو انجام دیتے ہوئے لوگوں کو اس کے بارے میں سمجھانے سے ووٹ حاصل نہیں ہوتے، یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ اس کے باوجود ناکام ہونے والے ہر فرد کو اپنی خامیوں، کمیوں، کوتاہیوں اور منصوبہ بندی اور عمل کے درمیان موجود نقائص کا ضرور جائزہ لینا چاہیے۔ اکھلیش حکومت گرچہ ترقی کو اپنی تشہیر کا محور بنائے ہوئے تھی اس کے باوجود وہ خوب اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ پارٹی اندرون خانہ اور بیروں خانہ کن مسائل سے دوچار تھی۔ یہاں تک کہ ان کے گھر اورخاندان ان مسائل کے فروغ کا ذریعہ تھا۔ ان حالات میں یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ کامیاب ہو جاتے۔
اس سب پر مزید یہ کہ یہی اکھلیش حکومت اور سماج وادی پارٹی جو ہر مرتبہ سچر کمیٹی رپورٹ اور اس میں موجود مسائل کے حل کے لیے کم از کم اپنے مینوفیسٹو میں چند وعدے کرتی آئی ہے، پہلی مرتبہ 2017 کے اسمبلی الیکشن میں اس نے ان مسائل اور اس سے وابستہ کمیونٹی کو نظر انداز کیا ہے۔ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اکھلیش حکومت کے دوراقتدار میں جس قدر چھوٹے اور بڑے فسادات ہوئے اور جس طرح متاثرین کو نظر انداز کیا گیا، ان سب نے مل کر مظلومین کے ایک بڑے طبقہ کا دل پہلے ہی اچاٹ کر دیا تھا۔ نتیجہ میں بی جے پی کو مظلومین کا ووٹ ملاہے۔ نتیجہ میں سماج وادی پارٹی اترپردیش اسمبلی میں ایک کمزور اپوزیشن بن کر سامنے آئی ہے۔
اسمبلی الیکشن اور اس کے نتائج کا اگر جلد بازی میں جائزہ لیا جائے تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔ اور وہ لوگ جو جلد بازی کا مظاہرہ کر تے نظر آرہے ہیں یا ناکامی اورافسردگی کے نتیجہ میں بیان بازیاں کر رہے ہیں ، انہیں چاہیے کہ ذرا ٹھہرکر اور اپنی گزشتہ پانچ سالہ سرگرمیوں کا ٹھنڈے دل سے گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرتے ہوئے ، لائحہ عمل طے کریں۔ لیکن چونکہ الیکٹرانک میڈیا سوالوں کے جوابات فوراً چاہتا ہے لہذا جس کے منہ میں جو بات آتی ہے وہ کہہ گزرتا ہے۔ ممکن ہے اس جلد بازی میں جاری کیے گئے بیان میں بھی کچھ سچائی ہو، اس کے باوجود جو بات تحمل سے غوروفکر کے بعد پیش کی جائے گی اس میں آگے کے لیے راہیں بھی کھلیں گی اور وہ خود بھی اپنے مسائل کودور کرنے اور اپنی ناکامیوں کو کامیابیوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ فی الحال ہم بہوجن سماج وادی پارٹی کی سپریمو مایاوتی کے اُس بیان کا تذکرہ کرتے ہیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کی اس قدر بڑی شکست کے پیچھے ای وی ایم مشینوں کی گڑبڑ ہے۔ یعنی جن مشینوں کو ووٹ دینے کے لیے استعمال کیا گیا وہ ٹھیک نہیں تھیں ، نتیجہ میں وہ رزلٹ سامنے نہیں آیا جو حقیقتاً عوام نے ان میں بند کیا تھا۔ مایاوتی کے اس بیان کا نوٹس الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بھی لیا ہے اور ان کے اس بیان کوبے بنیاد قرار دیا ہے ۔
دوسری جانب اترپردیش ، اتراکھنڈ ، گوا اور منی پور میں بی جے پی کی حکومت بننے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ پنجاب ایک واحد ریاست ہے جہاں کانگریس کی حکومت بنتی نظرآ رہی ہے۔ اگر پنجاب کی بات کی جائے تو عام آدمی پارٹی کو 117میں سے صرف 22سیٹوں پر ہی کامیابی حاصل ہو ئی۔ اس کے برعکس جس قدر بڑے پیمانہ پر اور جتنی محنت اور لگن کے ساتھ عام آدمی پارٹی نے پنجاب کی سیاست میں حصہ لیا تھا اور جس طرح ابتدا میں کانگریس کے خلاف پنجاب کی فضا ہموار ہوتی نظر آرہی تھی ، ان دو وجوہات کی بنا پر اُنہیں پوری امید تھی کہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی ممکن ہے حکومت بنالے۔ لیکن کانگرس کے لیڈر کیپٹن امرندر سنگھ نے اپنی سیاسی تجربہ کاری کی بناپر حالات میں تبدیلی پیدا کی۔ نیز نوجوت سنگھ سدھو نے بھارتیہ جنتا پارٹی چھوڑ کر کانگریس پارٹی میں شامل ہونا پسند کیا۔ ان حالات اور دیگر اندرونی و بیرونی کے مسائل کی بنا پر عام آدمی پارٹی کی بڑھتی مقبولیت پر روک لگ گئی۔ اس کے باوجود ایک ایسی سیاسی پارٹی جس کا وجود ہی صرف تین سال پہلے ہواہو، اُس نے دہلی کے بعد پنجاب میں اپنی سیاسی زمین کو ہموار کیا اوربڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
آخر میں گفتگو کا اختتام اس بات پر کرنا چاہتے ہیں کہ 2015 میں بہار میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ بی جے پی کے علاوہ ریاستی پارٹیاں وہاں بھی موجود تھیں جو 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بری طرح شکست سے دوچار ہوچکی تھیں۔ اس کے باوجود 2015 میں بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اپنی تمام کوششوں اور صلاحیتوں کے باوجود ناکام رہی تھی۔ اور ریاستی پارٹیاں کامیاب ہو گئی تھیں۔ ایسا کیوں کر ممکن ہؤا۔ مزید یہ کہ اُن حالات میں اور آج کے حالات میں کیا فرق ہے۔ وہ کامیابی اور یہ ناکامی دراصل کس کی ہے۔ عوام کی ، ریاستی سیاسی جماعتوں کی یا اس پورے کاسٹ سسٹم کی جس پر ہندوستانی سیاست کا انحصار ہے۔