مردم شماری بھی شک کے نرغے میں
- تحریر
- جمعہ 17 / مارچ / 2017
- 5405
ہم کتنے ہیں ۔ ہمیں کیا چاہئے۔ گنیں تو جانیں ۔ مردم شماری۔ بہتر کل کی تیاری۔ یہ ہے مردم شماری کی اشتہاری مہم کا سلوگن۔ ہمیں اس سلوگن سے قبل ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ ہو نہ ہو مردم شماری ایک اہم آئینی اور قومی مسئلہ ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ایک عجیب روایت چل نکلی ہے کہ کسی بھی معمول کی آئینی ذمہ داری کے پورا ہونے کی نوبت معمول کے مطابق نہیں آتی، جب تک سپریم کورٹ ایسا کرنے کا حکم نہ دے۔ بلدیاتی انتخابات کروانا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے لیکن اس کی نوبت اس وقت آئی جب سپریم کورٹ نے ایک طویل عدالتی پراسیس کے بعد فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے بعد کم از کم دو صوبائی حکومتوں نے اس مہارت سے عمل کیا کہ عمل در آمد کا سانپ بھی مر جائے اور اختیارات کی لاٹھی بھی محفوظ رہے۔ ایسی مقامی حکومتیں قائم ہوئی ہیں کہ انہیں اپنے اختیارات اور وسائل کا مقام ابھی تک نہیں مل رہا۔
مردم شماری شماری ایک اہم قومی مسئلہ ہے اس کا یقین ہمیں یوں بھی ہوا کہ ہمارے ہاں ہر قومی مسئلے پر اختلاف ایک پختہ روایت بن چکا ہے۔ وہ مسئلہ ہی کیا جسے سرِ بازار رگیدا نہ جائے، اس پر الزامات کے کوڑے نہ برسائے جائیں اور اس پر بھلے طریقے سے اتفاقِ رائے ہو جائے۔ مردم شماری پر سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں میں اختلاف اور اینکرز کی اس میں پر جوش دلچسپی سے اعتبار آگیا کہ ہو نہ ہو مردم شماری ایک اہم قومی مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں اب حکومت کو ہمیں بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ ہم کتنے ہیں۔ ہمیں کیا چاہئے۔ اب ہمارا اختلاف گواہی دے گا کہ ہم اتنے نہیں ہیں، ہمیں کیا کیا نہیں چاہیے۔
مردم شماری متحدہ ہندوستان میں 1881 میں پہلی بار ہوئی۔ اس کے بعد ہر دس سال بعد نئی دِہائی کے پہلے سال میں مردم شماری کا سلسہ جاری رہا۔ پاکستان وجود میں آیا تو اسی روایت کے تسلسل میں پہلی مردم شماری 1951 میں ہوئی۔ اس کے بعد 1961 میں۔ 1971 میں مردم شماری جنگی حالات کی وجہ سے نہ ہو سکی لیکن اس سے اگلے سال یعنی 1972 میں موجودہ پاکستان میں مردم شماری کی گئی۔ دس سال کے وقفے کے بعد 1981 میں مردم شماری ہوئی لیکن 1991 میں حالات نے مہلت نہ دی۔ سیاسی حکومتوں کے اپنے حالات بھی زمینی حالات جیسے رہے۔ آج کا پتہ نہ کل کی خبر۔ خدا خدا کرکے 1998 میں یہ نوبت آئی تو پتہ چلا کہ ہم کتنے ہیں۔ دس سالہ معمول جاری رہتا تو اگلی مردم شماری 2008 میں ہونا تھی لیکن پھر کم بخت وہی حالات آڑے آگئے۔ پرویز مشرف کی حکومت کا چل چلاؤ تھا اور سیاسی حکومت کی پہلی پرامن اور معینہ مدت کے بعد منتقلی، سیاست کے ڈگمگاتے قدموں سے ایک بار پھر مردم شماری کو اپنا دامن بچانا پڑا۔ سو اب انیس سال بعد سپریم کورٹ نے اپنے حکم کے ذریعے مردم شماری کا حکومت کو پابند کیا ہو۔ چار و نا چار حکومت نے مردم شماری کا ڈول ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔
مردم شماری کی بنیاد پر ہمارے سیاسی اور حکومتی نظام کا بہت سا ڈھانچہ کھڑا ہے۔ کس صوبے کو کتنی قومی اور صوبائی نشستیں ملنا ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو وسائل کا کیا حصہ دستیاب ہوگا۔ ملازمتوں میں مخصوص کوٹہ جہاں کہیں اپلائی ہوتا ہے اس پر مردم شماری کے نتائج کا اثر ہوگا۔ کس قدر آبادی شہروں میں رہتی ہے اور کتنی دیہی علاقوں میں۔ اس کا تعین بھی اسی مردم شماری سے ہو سکے گا۔ صوبائی سطح پر بھی ضلعوں کو وسائل کی تقسیم اور مقامی حکومتوں کو وسائل میں حصہ داری کے لیے بھی آبادی کا نیا پیمانہ ہی نافذالعمل ہوگا۔ معمول کی مردم شماری کے معاملے میں عرصے سے جاری سیکیورٹی اور زمینی حالات نے مزید سنگینی بھر دی ہے۔ کے پی کے میں بالخصوص امن و امان کے لیے آپریشنز کی وجہ سے وقتی طور پر بے گھر یعنی Displaced آبادی کی تعداد، افغان مہاجرین کی موجودگی اور ان میں سے اکثر کے پاس قومی شناختی کارڈز کی موجودگی نے مردم شماری کی بنیاد کے لیے نازک سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ بلوچستان میں یہ مسائل مزید گھمبیر ہیں۔ بلوچ رہنماؤں کے تحفظات ہیں کہ لاکھوں افغان مہاجرین کی موجودگی اور ان میں سے اکثر کے پاس جعلی شناختی کارڈز کی موجودگی میں ہونے والی اس مردم شماری میں بلوچی آبادی کا تناسب اقلیت کی طرف جانے کا امکان ہے۔ سپریم کورٹ بلوچستان رجسٹری میں مردم شماری کو اسی سبب موخرکرنے کی درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے۔ چند بلوچ رہنماؤں کا یہ بھی خیال ہے کہ وقتی طور پر جلا وطن یا پوشیدہ بلوچ لوگوں کی پرامن واپسی تک اس عمل کو موخر کیا جائے تاکہ بلوچ آبادی کی مردم شماری میں شک کا شائبہ نہ ہو۔
سندھ کے صوبے میں بھی کچھ ایسے ہی مسائل نے سوالات کو ہوا دے رکھی ہے۔ یہ خدشہ کہ دیہی علاقوں میں ایک وسیع آبادی کے پاس شناختی کارڈز نہ ہونے کی وجہ سے وہ مردم شماری سے محروم نہ رہ جائیں ، کراچی میں افغان مہاجرین، فاٹا، کے پی کے اور پنجاب سے ایک کثیر آبادی کے قیام سے کراچی کی آبادی اور لسانی تناسب کیا ہوگا۔ کسی غیر متوقع تناسب کے مقامی سیاست، وسائل اور ملازمتوں کے کوٹے پر دور رس اثرات ہوں گے۔ یہ اثرات سندھ کی مخصوص شہری اور دیہی سیاست پر بھی بھر پور انداز میں مرتب ہوں گے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اپنے تحفظات پر مبنی ایک خط بھی وفاقی حکومت کو لکھا ہے۔ سندھ ہی کے ایک نامی گرامی معیشت دان نے ایک اور نکتہ دریافت کیا ہے کہ وفاقی وزارت خزانہ اپنی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں اعداد و شمار کا سہارا لیتی رہی ہے۔ مردم شماری کا محکمہ کیونکہ وزارت خزانہ کے ماتحت ہے ، لہٰذا اندیشہ ہے کہ کسی غیر متوقع تناسب کو حسب منشاء کرنے کے لیے اعدادوشمار کے ساتھ کوئی ہاتھ کی صفائی نہ ہو جائے۔ فاروق ستار کو ابھی سے دال میں کچھ کالا دکھائی دے رہا ہے کہ اس بار خانہ شماری اور مردم شماری کے لیے بلاکس کی تعداد گزشتہ مردم شماری سے کم ہے۔ قصور سے ایک ایم این اے کو اس معاملے میں سنگین گڑبڑ نظر آ رہی ہے کیونکہ ان کے خیال میں محکمہ شماریات میں حکومتی جماعت کے ہمدرد افسران کو پوسٹ کیا گیا ہے تاکہ من پسندی میں سہولت رہے۔ جنوں کے بغیر ہی کافی کچھ کہا جا رہا ہے جس سے ایک بھلی چنگی معمول کی مشق تختہ ء مشق بن رہی ہے۔
ان میں سے بیشتر سوالات، اندیشے اور شکوک و شبہات بے وجہ بھی نہیں۔ حکومت کو ان کی سنگینی کا اندازہ ہے۔ اسے لیے اپنے تئیں حکومت مردم شماری کو شفاف اور ہر طرح با اعتبار بنانے کے لیے پاپڑ بیل رہی ہے۔ خانہ شماری اور مردم شماری کے دوران شمار کنندہ کے ساتھ ایک فوجی جوان بھی ہوگا جو اپنے تئیں بھی تفصیل ریکارڈ کرے گا جسے براہ راست نادرا کے ریکارڈ سے منسلک کیا جائے گا۔ دو مراحل میں مکمل ہونے کے بعد اس کے اعدادوشمار فوراٌ جاری کرنے کا بھی اہتمام کرنے کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ مردم شماری سے سیاست اور وسائل کی تقسیم پر ہونے والے اثرات کی وجہ سے اس میں حکومتی اور غیر حکومتی سیاست دانوں کی دلچسپی قدرتی ہے۔ دانش اور حکمت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس اہم قومی مشق کو اپنے اپنے مفادات کے لیے تختہء مشق نہ بنایا جائے لیکن وہ قومی مسئلہ ہی کیا جس پر خاموشی سے اتفاق رائے ہو جائے۔
دنیا بھر میں مقامی اور ملکی منصوبہ بندی میں اعدادوشمار کی دستیابی اور وہ بھی شک و شبہ سے بالا تر انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی نے اعدا د و شمار کی دستیابی اور ترسیل کو انتہائی سہل بنا دیا ہے۔ امریکہ ہو یا یورپ، ایشیا کے ممالک ہوں یا افریقہ کے ممالک، منصوبہ بندی کی پہلی اینٹ صحیح اعداد و شمار کی دستیابی ہے ۔ ہم بوجوہ اس کی اہمیت کے ادراک میں بھی لیت و لعل کرتے ہیں اور صحیح اعداد و شمار کے حصول اور ترسیل کے نظام کو بھی قابل اعتبار بنانے میں کمزور رہے ہیں۔ ہم اصل میں کتنے ہیں۔ ہم کیا چاہتے ہیں۔ گنیں تو جانیں۔ اس کا مرحلہ انیس سال بعد شروع تو ہوا ہے ۔ امید اور دعا ہے کہ اس کے نتائج شفاف اور سب کے لیے قابل اعتبار ہوں۔ ورنہ دوسری صورت میں ایک نیا پنڈورا باکس کھلنے کا اندیشہ سر پر مسلط ہو سکتا ہے۔ یار من اشرف جاوید کے اشعار یاد آئےِِ
شب کے آثار کون دیکھتا ہے
دن کے اس پار کون دیکھتا ہے
انگلیاں دوسروں پہ اٹھتی ہیں
اپنا کردار کون دیکھتا ہے