عثمانیہ یونیورسٹی کے سو سال، مسلمانوں کی بے حسی پر سوال

ایک طویل عرصہ کے بعد جامعہ عثمانیہ دوبارہ خبروں میں آرہی ہے لیکن اس مرتبہ کوئی منفی بات نہیں بلکہ عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کے سو برس کی تکمیل ہے۔ انگریزی اخبار دکن کرانیکل نے 9 مارچ کو ESL Narsimhan to enter Osmania University Campus after 7 years کی سرخی کے تحت خبر دی کہ ماضی میں عثمانیہ یونیورسٹی کے 78 ویں کانوکیشن میں ریاستی گورنر نے شرکت کی تھی۔ عثمانیہ یونیورسٹی گزشتہ سات برسوں کے دوران اور خاص طور پر علیحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران زبردست سیاسی ہلچل کا مرکز رہی تھی ۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد اب ریاستی گورنر پہلی مرتبہ جامعہ عثمانیہ جارہے ہیں۔

اس خبر کو پڑھنے کے بعد بہت سارے عثمانین نے چین کا سانس لیا کہ چلو اب ہندوستان کی یہ مایاناز یونیورسٹی دوبارہ اپنے تعلیمی ترقی کے سفر پر گامزن ہورہی ہے ۔ اردو والے فخر سے یہ کہتے نہیں تھکتے کہ یہ سارے ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی پہلی اردو یونیورسٹی ہے جہاں انجنیئرنگ ہی نہیں بلکہ میڈیسن اور قانون کی تعلیم بھی اردو میں دی جاتی تھی۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں ، نواب میر عثمان علی خان کی قائم کردہ اس یونیورسٹی میں آج مسلمانوں کا موقف کیا ہے ۔ یونیورسٹی کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر کے الفاظ میں ’’جس یونیورسٹی کو مسلمانوں کے آبا و اجداد نے شروع کیا تھا ، آج اس یونیورسٹی میں مسلمان چائے پلانے اور جھاڑو دینے تک محدود ہوگئے ہیں‘‘۔ بات بظاہر تو جذباتی لگتی ہے لیکن اس میں تھوڑی نہیں بلکہ بہت سی صداقت بھی چھپی ہے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے مسلمانوں کا رشتہ اب اجنبیوں کا سا ہوکر رہ گیا ہے اور جو لوگ عثمانیہ یونیورسٹی سے فارغ ہوچکے ہیں، وہ اپنے نام کے ساتھ عثمانین کے القاب لگاکر خوش ہورہے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کو تو عثمانیہ یونیورسٹی کے فارغین کی تنظیم بناکر خوشی ہوتی ہے ۔ کیا ہی اچھا نہیں ہوتا کہ اس پہلی ہندوستانی زبان کی یونیورسٹی سے مسلمانوں کا رشتہ دوبارہ جوڑنے کی ٹھوس کوشش کی جائے۔

جون 2016 میں آر ٹی آئی قانون کے تحت میں نے ایک درخواست عثمانیہ یونیورسٹی کے ارباب مجاز کو لکھ کر دریافت کیا تھا کہ مجھے یہ بتایا جائے کہ آج عثمانیہ یونیورسٹی میں کتنے ٹیچرز کام کر رہے ہیں اور ان میں مسلمان استاد کتنے ہیں۔ یونیورسٹی کے جوائنٹ رجسٹرار نے اس درخواست کے جواب میں بتایا کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں مسلم ٹیچرز کی تعداد صرف 6 فیصد ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان میں اکثریت شعبہ اردو ، عربی اور اسلامک اسٹیڈیز تک محدود ہوگی۔
عثمانیہ یونیورسٹی  میں کل 585 استاد ہیں جن میں 37 مسلمان ہیں۔

کسی بھی یونیورسٹی کی طرح عثمانیہ یونیورسٹی میں بھی بطور ٹیچر یعنی پروفیسر، اسوسی ایٹ پروفیسر اور اسسٹنٹ پروفیسر بننے کیلئے متعلقہ مضامین میں یو جی سی کی تعین کردہ اعلیٰ ترین تعلیمی لیاقت کا ہونا ضروری ہے ۔ کیا مسلمان اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کےلئے ہم نے عثمانیہ یونیورسٹی سے ان اسٹوڈنٹس کی تعداد معلوم کرنے کی کوشش کی جو تقریباً پانچ برس بعد ہونے والے پی ایچ ڈی کے کورسز میں داخلہ حاصل میں کامیاب ہوئے ۔ پی ایچ ڈی کسی بھی مضمون میں حاصل کی جانے والی اعلیٰ ترین سند مانی جاتی ہے اور اسی طرح کی اعلیٰ تعلیمی لیاقت کی بنیادوں پر مختلف یونیورسٹیوں میں اسسٹنٹ پروفیسر ، اسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر کے لئے تقررات کئے جاتے ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے اکثر ڈپارٹمنٹس میں کسی مسلمان نے پی ایچ ڈی میں داخلہ نہیں لیا ۔ چند شعبوں میں مسلمان طالب علموں کی نمائیندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ 

عثمانیہ یونیورسٹی  کئ پی ایھ ڈی پروگرام میں مسلم طلباء کی  مایوس کن تعداد سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے مسلمانوں کو کس قدر فکر کرنی ہوگی۔ کیا وہ لوگ جو اپنے آپ کو فرزندان عثمانیہ یونیورسٹی قرار دیتے اور ملک و بیرون ملک اپنے نام کے ساتھ عثمانیہ یونیورسٹی کا نام جوڑکر فخر کرتے ہیں، اس حوالے سے کچھ غور کرنے آمادہ ہیں کیونکہ عالمی معیشت کے حالات تیزی سے  بدل رہے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ بات تو طے ہے کہ اب امریکہ جانا اور چاہے تعلیم کےلئے کیوں نہ ہو آسان نہیں ہے ۔ مشرق وسطی کے سارے ممالک تیل کی قیمتوں میں کمی کے سبب اپنے لئے نئے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں اور تاریخ میں پہلی مرتبہ سعودی عرب کا کوئی بادشاہ جاپان کا دورہ کر رہا ہے۔ تیل کے علاوہ تجارت کے نئے راستے تلاش کر رہا ہے۔ ہندوستانیوں کےلئے اب اندرون ملک تعلیم اور روزگار کی تلاش ضروری ہوجائے گی۔

عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کے صد سالہ تقاریب منعقد کرنے کےلئے حکومت تلنگانہ نے 200 کروڑ کا کثیر بجٹ مختص کیا ہے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں کام کرنے والے اساتذہ کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ اساتذہ کے وظیفوں کی ادائیگی کےلئے کتنی رقم جاتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی کو صرف اپنے پروفیسروں، اسوسی ایٹ اور اسسٹنٹ پروفیسرز کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے سالانہ 240 کروڑ کی رقم درکار ہوتی ہے۔  عثمانیہ یونیورسٹی اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو وظیفہ کے طورپر ہر سال 135 کروڑ سے زائد کی رقم صرف کرتی ہے۔  ایسے میں جب ہم عثمانیہ یونیورسٹی میں Ph.D میں داخلے لینے والے مسلمانوں کی تعداد کو دیکھتے ہیں تو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ آئیندہ عثمانیہ یونیورسٹی میں استادوں کی تقرری مسلمانوں کا شامل ہونا ممکن نہیں ہوگا۔ کیونکہ مسلمانوں کی خاطر خواہ تعداد اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نظر ہی نہیں آرہی ہے ۔

عثمانیہ یونیورسٹی کے 15 ڈپارٹمنٹ ایسے ہیں جہاں پر Ph.D میں ایک بھی مسلم طالب علم نے داخلہ نہیں لیا۔ کیا اب بھی آپ حضرات چاہتے ہیں کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کا 100 سالہ جشن منائیں۔ میرا دل تو گوارا نہیں کرتا۔ میرا تو کیا عثمانیہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہر عثمانین کی یہی حالت ہوگی۔ ایسے میں ایک جشن منایا جاسکتا ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ مسلم طلبا کو مختلف مضامین میں اعلیٰ تعلیم کی ترغیب دلوائیں اور عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب میں مسلمانوں کی شمولیت کا مجھے تو یہی موثر طریقہ نظر آتا ہے۔ ذرا ہمیں بھی تو بتائیں کہ عثمانیہ کا جشن مشاعرہ کی شکل میں زیادہ بہتر ہے یا سمینار کے ذریعہ۔  ہم عثمانین صد سالہ جشن عثمانیہ یونیورسٹی اپنے طریقے سے منائیں گے اور زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو اس جامعہ سے اعلیٰ تعلیم کے لئے ترغیب دلوائیں گے۔