ہندوستان کے مسلمان، نمایاں ہونے کی ضرورت
- تحریر محمد آصف اقبال
- سوموار 20 / مارچ / 2017
- 5756
انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے لیے بڑا فکر مند رہتا ہے ۔ ہروقت وہ اس خیال میں مبتلا رہتا ہے کہ آنے والے وقت میں وہ کسی بھی قسم کی پریشانی میں مبتلا نہ ہو۔ اس کے لیے وہ خود بھی فکر مندرہتا ہے اور متعلقین کو بھی اس جانب ابھارتا ہے۔ انسان کی یہ فکر مندی لائق تحسین ہے ۔ اس کے باوجود وہ نہیں جانتا ہے کہ آنے والا کل، آج ہی پر منحصر ہے۔ یعنی وہ آج جن سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے یہی سرگرمیاں کل اس کو یا تو کامیاب بنائیں گی یا پھر ناکامی سے دوچار کریں گی۔ لیکن انسان کی عملی زندگی میں غفلت ، سرد مہری، لاپرواہی اور بے توجہی کو ترک نہیں کر پاتا۔
اگر یہ معاملہ فرد واحد کا ہو تو عموماً اہل علم اسے بڑا مسئلہ نہیں مانیں گے کیونکہ اس طرز عمل سے فرد واحد کا نقصان ہوگا۔ کسی بڑے گروہ یا کسی امت کا نقصان اسے نہیں کہا جائے گا۔ لیکن یہ معاملہ اگرکسی گروہ یا امت کا ہوتو آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں ، یہ نقصان کی شدت کس درجہ ہوگی۔
ہندوستان میں مسلمان کی آمد بے مقصد نہیں تھی۔ جس وقت مسلمان ہندوستان میں داخل ہوئے یہاں کے باشندے معاشی، معاشرتی، تعلیمی، ثقافتی اور تمدنی ہر سطح پر بے شمار مسائل سے دوچار تھے۔ مسلمانوں کی آمد کو ملک کی اکثریت نے خیر سمجھا۔ ساتھ ہی مسلمانوں نے بھی ہندوستان کو اپنا وطن سمجھا۔ جب اسلامی تعلیمات کو قول و عمل سے عام کیا گیا تو ملک کے ایک بڑے طبقہ نے مروجہ رسم و رواج اور عقائد کو چھوڑ کر اسلام کے سائے میں داخل ہونے کو غنیمت جانا۔ دوسری جانب مسلمانوں نے بھی ہندوستان کوترقی کی سمت گامزن کرنے میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔ نیز اس کو دیدہ زیب بنانے اورمعاشی استحکام بخشنے میں پوری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک وقت میں ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہا جانے لگا۔
مولانا علی میاں ندوی رحمتہ اللہ لکھتے ہیں:"مسلمان اگرچہ ہندوستان میں فاتح کی حیثیت سے آئے لیکن اجنبی حکمرانوں کی طرح انہوں نے اس کو محض تجارت کی منڈی اور حصولِ دولت کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اس کو وطن بناکر یہیں رچبس گئے اور مرنے کے بعد بھی اس کی خاک کے پیوند ہوئے ۔ اس لیے کہ انہوں نے حکومت و سیاست، علم وفن، صنعت وحرفت، زراعت وتجارت، تہذیب و معاشرت، ہر حیثیت سے اس کو ترقی دے کر صحیح معنوں میں ہندوستان کو جنت نشاں بنادیا" (ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے تمدنی کارنامے ،ص:۱)۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم حکمرانوں نے مختلف مقامات پر تعلیمی ادارے قائم کیے، رفاہِ عام کا مکمل نظم و نسق استوار کیا ، پھر ڈاک کی راہیں ہموار کیں۔ مختلف الانوع روز مرہ نیز سردیوں کے کپڑوں کے بے شمار کارخانے بنوائے، تجارت و زراعت کا صحیح زاویہ سکھایا اور متمدن ممالک کے اتصال کا سامان مہیا کیا نیز صنعت و حرفت کو بام عروج تک پہنچایا۔ علامہ شبلی رحمتہ لکھتے ہیں:"ہندو ہمیشہ سے نہایت سادہ لباس پہنتے تھے اور غالبا ان کو گزی گاڑھے کے سوا اور کچھ پہننا نہ آتا ہوگا۔ (جس کی شہادت گذشتہ سطور میں صراحت سے ملتی ہے) اکبر نے دلی، لاہور، آگرہ، شیخ پور، احمد آباد اور گجرات میں پارچہ بافی کے بڑے بڑے کارخانے قائم کیے اور (یہی نہیں بلکہ) ایران، افغانستان، اور چین سے کاریگر بلواکر ہر قسم کے قیمتی کپڑے تیار کرائے" (اسلامی حکومت اور ہندوستان میں اس کا تمدنی اثر،ص:۷)۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی خدمات کا اگر مسلمان خود اعتراف کریں تو یہ بڑی بات نہیں ہوگی۔ کیونکہ ہر قوم اپنے سے وابستہ حکمرانوں کو بطور ہیرو پیش کرتی ہے۔ لہذا جو لوگ اس قسم کی باتیں کریں ان کو یہ بھی جاننا چاہئے کہ مسلمانوں کی خدمات کا اعتراف مسلمانوں ہی کی جانب سے نہیں کیا گیا ہے بلکہ ملک کے اس طبقہ کی جانب سے بھی ہوا ہے جو خود برسراقتدار رہا ہے۔ ہماری مراد جواہر لال نہرو سے ہے ، جنہوں نے اپنی کتاب 'تلاش ہند' میں ہندوستانی سماج، ہندوستانی فکر، اور ہندوستان کی تمدن و ثقافت پر مسلمانوں کے ناقابل فراموش گہرے اثرات کا اعتراف کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:"ہندوستان میں اسلام کی اپنے ساتھ جونئے خیالات اور زندگی کے مختلف طرز لے کر آیا، انہوں نے یہاں کے عقائد اور یہاں کی ہیئت اجتماعی کو متاثر کیا۔ بیرونی فتح خواہ کچھ بھی برائیاں لے کر آئے اس کا ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے، یہ عوام کے ذہنی افق میں وسعت پیدا کردیتی ہے اور انہیں مجبور کردیتی ہے کہ وہ اپنے ذہنی حصار سے باہر نکلیں۔ وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ دنیا اس سے کہیں زیادہ بڑی اور بوقلموں ہے جیسی کہ وہ سمجھ رہے تھے۔ بالکل اسی طرح افغان فتح نے ہندوستان پر اثر ڈالا اور بہت سی تبدیلیاں وجود میں آگئیں۔ اس سے بھی زیادہ تبدیلیاں اس وقت ظہور میں آئیں جب مغل ہندوستان میں آ ئے، کیوں کہ یہ افغانوں سے زیادہ شائستہ اور ترقی یافتہ تھے۔ انہوں نے ہندوستان میں خصوصیت کے ساتھ اس نفاست کو رائج کیا جو ایران کا حصہ تھی" (تلاش ہند،ص:۲۱۹ بحوالہ ہندوستانی مسلمان،ص:۳۰)۔
ایک اور حوالہ کے ساتھ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اسی مذکورہ واقعہ کی تائید میں سابق صدر کانگریس اور جنگ آزادی کے رہنما ڈاکٹر پٹابی ستیہ رَمیّہ کے الفاظ کا نقل کرنا بھی ہمارے خیال میں بہتر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں: "مسلمانوں نے ہمارے کلچر کو مالامال کیا ہے اور ہمارے نظم ونسق کو مستحکم اور مضبوط بنایا۔ نیز وہ ملک کے دور دراز حصوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کامیاب ہوئے۔ اس ملک کے ادب اوراجتماعی زندگی میں ان کی چھاپ بہت گہری دکھائی دیتی ہے" (خطبہ صدارت انڈین نیشنل کانگریس اجلاس جے پور۱۹۴۸/، بحوالہ ہندوستانی مسلمان، ص:۳۰)۔ موقع نہیں ہے مسلمانوں کی آمد اور اس کے بعد ملک کی تبدیل شدہ صورتحال تفصیل سے تذکرہ کیا جائے۔ یہاں جو مختصر ترین تذکرہ کیا گیا ہے اس کا صرف ایک مقصد ہے وہ یہ کہ جب تک مسلمان ملک اور اہل ملک کے لیے بھلائی کے کام انجام دیتے رہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ موقع دیا کہ وہ باعزت زندگی گزاریں۔ لیکن جیسے جیسے ان کی دلچسپیاں کم ہوتی گئیں ، مسائل نے انہیں گھیر لیا۔ یہاں تک کہ اندرون و بیرون خانہ وہ کمزور ہوتے گئے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ غلام ہو گئے۔ لیکن خوشی کی بات ہے کہ طویل جدوجہد کے بعد ملک تو آزاد ہوگیا لیکن مسلمان ذہنی غلامی کا شکار ہو گئے۔ دوسری جانب نہ صرف مسلمان بلکہ اہل ملک کی اکثریت مادیت کی لپیٹ میں آگئی ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ہر شخص مادی ترقی اور دولت کے حصو ل میں سرگرداں ہے۔ جس میں مسلمانوں کے سوچنے سمجھنے والے طبقے کی اکثریت ملوث ہو چکی ہے۔ انہیں یہ بالکل یاد نہیں رہا کہ دنیا میں ان کی آمد کا مقصد کیا ہے۔
گفتگو کے پس منظر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ملک کی ریاست اترپردیش کے اسمبلی انتخابات ختم ہوچکے ہیں۔ نتائج سامنے آگئے ہیں۔ بی جے پی کی اکثرت والی حکومت بن چکی ہے۔ اترپردیش کے بی جے پی لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ ، جنہیں عموماً ہندونظریات کا سخت گیر چہرا کہا جاتا رہا ہے ، نے وزیر اعلیٰ کاحلف اٹھا لیا ہے۔ ملک میں اقلیتوں، کمزور طبقات اور حالات سے باخبر رہنے والے، مستقبل کے سلسلے میں فکر مند ہیں۔ ان تمام حالات کے باوجود ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان خوف و ہراس کے ماحول سے باہر نکلیں اور خود کو اپنی ذات کے لیے، امت کے لیے، ملک اور اہل ملک کے لیے اپنے باعث خیر ثابت کریں۔ تب ہی بہتری کی صورت پیدا ہوگی۔