... اور وہ نقاب نقاب کے ورق کوٹ رہے ہیں!

پاکستانی معاشرے میں جو پیچیدگیاں اور غلط روایات در آئی ہیں بدقسمتی سے ان پر کم توجہ دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر آپ نقاب یا پردے کے مفہوم کو لیجئے کہ آج کل پورے معاشرے اور حکومتی ایوانوں میں یہ مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اسے پوری طرح سلجھانا تو خیر ایک طرف، بہت کم اہل علم ایسے ہیں جنہوں نے اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ کسی چیز کو جائز یا ناجائز کہہ کر الگ ہو جانا تو صرف فتویٰ ہے مگر آج کے دور میں کام صرف فتوات سے نہیں چلتا۔ ضرورت ہے مشکلات اور مسائل کے حل تلاش کرنے کی۔

مشکلات کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات ایک شرعی حکم پر عمل بہت دشوار ہو جاتا ہے۔ اس وقت کوئی ایسی راہ تلاش کرنا پڑتی ہے کہ اس حکم کا پورا پورا احترام باقی رکھتے ہوئے یا اس پر زیادہ سے زیادہ عمل کرتے ہوئے جو خامیاں رہ جائیں ان کو دور کیا جا سکے۔ اور تعمیل حکم میں جو خلا رہ جائے اس کو پُر کیا جا سکے۔ موجودہ زمانے میں پردہ، نقاب، حجاب وغیرہ کا مسئلہ اسی قسم کی پیچیدگی سے دوچار ہے۔ اس سلسلے میں جو سوالات سامنے آئے ہیں ان سے اس مشکل کا اندازہ کیا جا سکتا ہے مثلاً

1: پردے یا نقاب و حجاب کی حدود اور ان کی غایت و غرض کیا ہے؟
2: حجاب یا پردہ کن عورتوں کیلئے ضروری ہے؟
3: کیا موجودہ پردہ اسلامی پردہ ہے؟
4: ہمارے موجودہ پردے میں کیا کیا خامیاں ہیں؟
5: کیا پردہ یا نقاب یا حجاب ضروری بھی ہے؟

پردے سے متعلق اسلامی احکام سے کون باخبر نہیں مگر یہ جو مروجہ پردہ ہے یہ کسی طور بھی اسلامی پردہ نہیں۔ آنکھ والوں کےلئے سب سے بڑی نعمت اور سب سے بڑا فتنہ خود ان کی آنکھیں ہیں۔ تمام جنسی فتنے آنکھوں کی راہ دل و دماغ میں پہنچ کر تحریک پیدا کرتے ہیں (نابینا افراد کی الگ بحث ہے)۔ نگاہوں پر قابو رکھنا سب سے زیادہ دشوار ہے اس لئے احادیث میں پہلی نظر کےلئے معافی کا مژدہ سنایا گیا ہے۔ اگر نگاہوں پر افراد و معاشرہ قابو پالے تو پردے کے تمام مسائل خودبخود حل ہو جاتے ہیں۔ لیکن جمال پسندی کی جڑیں انسانی فطرت میں اس طرح گڑی ہوئی ہیں کہ ان کا اکھڑنا دشوار تر ہے۔ ’’اپنی نظریں نیچی رکھو‘‘ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنی نظریں ہر آن نیچی رکھو، ٹریفک سے بچنے کےلئے، شناخت کےلئے، گھر میں آنے جانے والوں سے گفتگو کےلئے، کام کاج کےلئے، غرض کہ بہت سے ضروری مقاصد ہیں جن کےلئے پردے کو ترک کرنا پڑے گا۔

موجودہ زمانے کا پردہ اگر اسلامی پردے کا لازمی حصہ سمجھ لیا جائے جس سے عورتوں کا چہرہ ڈھکا رہتا ہے تو پھر مردوں کو نیچی نظر رکھنے کا ’’حکم‘‘ کوئی مطلب نہیں رکھتا۔ دور رسالت  میں بلکہ خلافت راشدہ میں بھی اس قسم کے پردے کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ غالباً امویوں کے آخر میں صرف ایسے نقاب یا حجاب کا وجود تھا جس میں آنکھیں اور ناک کھلی رہتی تھی۔ بعد میں معلوم نہیں کہ کب برصغیر میں پردے، برقع یا نقاب کا رواج یا فیشن شروع ہوا۔ قرآن نے صرف گھونگھٹ نکالنے کا حکم دیا ہے۔ عورتوں کو پردہ (گھونگھٹ نکالنا) کا حکم اس صورت میں ہے کہ مردوں کی طرف سے نظریں نیچی رکھنا ضروری ہو اور جب مرد ہی اپنی نظریں نیچی نہیں رکھ سکتے تو پھر اس کا علاج چہرہ چھپانا ہی ہے۔ گویا چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت حالات کے بدلنے سے عدم جواز میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ دلائل کچھ وزنی نہیں کیونکہ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ قصور تو مردوں کا ہو اور اس کی سزادی جائے عورتوں کو۔ کہ تم اپنے گھر کے اندر بند ہو جاؤ یا نقاب اوڑھ لو۔ سز ا دینا ہے تو ان مردوں کو دیجئے جو اپنی نظریں نیچی رکھ کر نہیں رکھ سکتے۔

اب رہ گئی بات اونائے جلباب یعنی گھونگھٹ نکالنے کی۔ یہ حکم اس لئے ہوا کہ اس سے مسلمان عورتیں پہچان لی جائیں گی اور چھیڑ خانی سے محفوظ رہیں گی لیکن کشور حسین شاد باد میں تو 98 فیصد مسلمان عورتیں ہیں یہاں تو یہ مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ اس حکم کے مواقع گھر کے اندر بھی پیش آ سکتے ہیں۔ وہ یوں کہ جن لوگوں کا ذکر ’’محرم‘‘ کے زمرے میں آتا ہے ان کے علاوہ اور کسی کو ضرورت سے آنا پڑے تو عورت کو گھر کے اندر بھی گھونگھٹ نکال لینا چاہیے کہ فتنیٰ اور چھیڑ خانی یہاں بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن دراصل اس کا حکم بیرون خانہ سے ہے۔ ہزاروں ضروریات ایسی پیش آ سکتی ہیں جن کےلئے عورتوں کو گھر سے باہر نکلنا پڑے گا، اسکولز کالج کے لئے، خرید و فروخت کےلئے، عبادت کےلئے، سیروتفریح کےلئے، تعلیم و ترقی کےلئے، کھیتی باڑی کےلئے، جنگی خدمات کےلئے، سب کاموں کےلئے عورتوں کوگھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ عہد نبویؐ سے پہلے، عہد نبویؐ کے دران اور عہد نبویؐ کے بعد بھی یہ ضرورتیں پیش آتی رہی ہیں اور آتی رہیں گی۔ اس لئے نقاب حجاب یا گھونگھٹ نکالنے کا جواز بھی آج کے دور میں رد ہوا۔

پردہ دراصل انہی عورتوں کےلئے ہے جن سے یا جن کو خطرات لاحق ہوں۔ خطرہ جس شدت کا ہوگا حجاب کا حکم بھی اتنی ہی شدت اختیار کرے گا اورخطرے میں جتنی خفت ہوگی حکم کی گرفت بھی اتنی ہی خفیف ہو جائے گی۔ یعنی خطرہ اگر ان محرموں سے بھی ہوگا جن سے پردہ یا حجاب نہیں تو وہاں بھی پردہ کرا دینا چاہئے۔ سوتیلا بیٹا، باپ بھانجا، بھتیجا وغیرہ وغیرہ۔ وہ محرم ہیں جن سے نکاح جائز نہیں لیکن اگر نیتوں میں فتور پیدا ہو جائے تو ان سے بھی حجاب یا پردہ کرنا چاہیے کہ نیتوں کا علم صرف خدا ہی نہیں اس کے نائب بھی جانتے ہیںِ

ہم نے بنا لیا ہے قفس ہی کو آشیاں
یہ دیکھنا ہے گرتی ہیں اب بجلیاں کہاں