پاکستان: خواب سے تعبیر
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعرات 23 / مارچ / 2017
- 5452
ہم پاکستانی بجلی، پانی، گیس اور سب سے بڑھ کر بھوک جیسے گھمبیر مسائل کہ جال میں بری طرح سے جکڑے ہوئے ہیں اور پھنستے ہی جارہے ہیں۔ ہر گزرتا دن اس جال کی سختی بڑھاتا جارہا ہے اور آنے والے دن کی مشقت میں اضافہ کر رہا ہے۔ ہر دن نئی سے نئی دشواری لئے ہوتا ہے۔
زیادہ تر خوابوں کا تعلق بند آنکھوں سے ہوتا ہے چاہے خواب میں محبوب آئے یا پھر کوئی ڈراؤنی شکل۔ خوابوں کو کھلی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ خواب کی دونوں قسموں کا تعلق ہمارے ذہن میں پکنے یا بسنے والے خیالات ہیں۔ دونوں ہی طرح کے خوابوں کےلئے مدت سے ماحول سازگار نہیں۔ آج ہر طرف ایک نفسا نفسی ہے ہر کوئی بھاگے جا رہا ہے اور اس کا یہ بھاگنا کسی بھی قسم کے مقصد سے عاری ہے۔ سوائے اس کے کہ سب اپنے آپ کو ہلکان کئے جارہے ہیں۔ آج تمام امور بغیر کسی بھاگ دوڑ کے حل ہوتے جارہے ہیں۔ رہی سہی کسر سماجی میڈیا نے پوری کردی ہے۔
پہلے زمانے میں زندگی پرسکون تھی۔ نہ موبائل کا شور تھا انٹرنیٹ اور کمپیوٹر جیسی بلائیں ابھی معاشرے کو اپنے حصار میں نہیں لے سکی تھیں۔ سوچ بچار کرنے کا وقت بھی میسر تھا۔ ادب لحاظ بھی تھا اور بڑے بوڑھوں کی باتوں میں دانائی محسوس ہوتی تھی۔ چائے اور پانی کے ایک ایک گلاس پر گھنٹوں نشست کی جاسکتی تھی۔ مگر اب تو جو کچھ ہے وہ سب کا سب انٹرنیٹ پر ہے۔ بزگوں کی دانائی بھی، ان کی سوچیں بھی اور اقوالِ زریں بھی۔ مگر دنیا کو یہاں تک پہچانے والوں نے اور خواب دیکھنے والوں نے بالکل نہیں چاہا ہوگا، جو ہم اس وقت محسوس کررہے ہیں۔ ان کے خوابوں کا منبع تو آنے والی نسلوں کو سکون اور سہولت فراہم کرنا تھا۔ اب کچھ الٹا ہوتا جارہا ہے۔ ہم اپنی اپنی منزلوں سے کہیں دور نکل گئے ہیں۔
جب خواب کھلی آنکھوں سے دیکھا جائے اور اس کی تعبیر کےلئے دن رات بھاگ دوڑ کی جائے یہاں تک کہ جان و مال کی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا جائے تو ایسا خواب کسی بڑے مقصد کے لئے ہی ہو سکتا تھا۔ مسلمانوں کےلئے ایک الگ اور آذاد ریاست کا مطالبہ سامنے لایا گیا تھا۔ اس سہانے خواب کی تعبیر پاکستان کی صورت میں سامنے آئی۔ انسان اگر خوابوں کی تاریخ مرتب کرے گا تو حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا خواب اسے اول درجے کے خوابوں میں رکھنا پڑے گا۔ ڈاکٹر اقبال نے مسلمانوں کی ایک الگ ریاست کا جو خواب کھلی آنکھوں سے دیکھا اس کی تعبہر 23 مارچ 1940 کو ایک قرارداد کی صورت میں سامنے دکھائی دی۔ اس خواب کی اہمیت نے اس دن کو تاریخ ساز دن بنا دیا۔ پاکستانی رہتی دنیا تک اس دن کی یاد مناتے رہیں گے۔ ہر پاکستانی اپنے آپ سے یہ عہد کرتا رہے گا کہ وہ پاکستان کی سلامتی اور بقا کےلئے کوشاں رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد سر سید احمد خان نے رکھی تھی۔ ان پر یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ اب ہمیں ہندوستان میں ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہنے دیا جائے گا۔
پاکستانیوں کی زندگیوں سے سکون ختم کردیا گیا ہے۔ سکون ہی وہ چیز تھی جس کی بدولت خواب دیکھے جاسکتے تھے۔ ہم نے خواب دیکھنے چھوڑدئیے ہیں یا پھر ہم کسی اور راستے پر چل پڑے ہیں۔ وہ راستہ جو ہمیں اغیار نے دکھایا ہے۔ ہم نے اقبال کے خواب کو بھی بھلادیا ہے۔ ہمیں ایک سوال اپنے آپ سے کرنا چاہئے کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو یہ بات کتنی بار بتائی ہے کہ ہم یومِ پاکستان کیوں مناتے ہیں۔ یا پاکستان کی تاریخ میں اس دن کی کیا اہمیت ہے۔ رہی سہی کسر ہمارے تعلیمی نظام نے پوری کردی ہے۔ ہماری نصابی کتابوں سے وہ اسباق ہی متروک ہیں جن کی بدولت یہ پیغام آگے بڑھ رہا تھا۔
ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کےلئے اب اس بے ہنگم ماحول میں ہی خواب دیکھنے ہوں گے روشن و پاک پاکستان، قائداعظم کے فرمودات کا پاکستان، اقبال کہ شاہینوں کے پاکستان کا خواب۔ ان خوابوں کی پرورش کرنی ہوگی۔ اپنی آنے والی نسلوں کےلئے، ان کی تعبیر کےلئے ہمیں ہر کوشش کرنا ہوگی۔ آج اس عہد ساز د ہمیں خود سے اور اپنی آنے والی نسلوں سے یہ وعدہ کرنا ہے کہ ہم اپنے خوابوں کی تعبیر کےلئے پورئ جتن سے محنت کریں گے۔ اور دنیا کو پیغام دیں گے کہ ہم زندہ قوم ہیں۔