یو پی کے یوگی سے روہنگیا کے روگی تک

  • تحریر
  • جمعہ 24 / مارچ / 2017
  • 4694

یوم پاکستان کی آمد پر فیس بک پر طرح طرح کے تبصرے پوسٹ ہوئے۔ کچھ جذبوں میں شرابور اور کچھ تعصب میں تر بتر۔ ہماری ایک پوسٹ پر ایک صاحب نے انتہائی عارفانہ اور فلسفیانہ انداز میں یہ نکتہ اٹھایا کہ یہ آزادی بھی کوئی آزادی ہے! عرض کیا ، نا شکری کے ڈکار ہیں ورنہ آزادی کے معنی بھارتی ریاست اتر پردیش کے ان چار کروڑ مسلمانوں سے پوچھئے جن پر الیکشن میں حصہ نہ لینے والے تعصب کے پرچارک یوگی ادیتیہ ناتھ بطور وزیر اعلیٰ مسلط کر دیئے گئے ۔ یا پھر یہ معنی ان دس لاکھ کے لگ بھگ برما کے روہنگیا مسلمانوں سے پوچھئے جنہیں برما کی فوج نابود کر رہی ہے۔ اور اڑوس پروس میں بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ پناہ دینے سے گریزاں۔ جائیں تو کہاں، زندہ رہیں تو کہاں؟ اپنے ملک میں آزادی کے معنی کے بال کی کھال اتارنے میں جو بھی علمی درفنطنی مقصود ہو، اس کی عیاشی اِسی آزادی کی مرہون منت ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ٹرمپ میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں حیران کن فیصلے لینے میں بخل نہیں کرتے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے دو ماہ کے دورِ اقتدارمیں ایک کے بعد ایک ایسا قدم اٹھایا کہ ایک عالم دیوانہ کر دیا۔ سات مسلم ممالک پر پہلی بار سفری پابندی کو عدالت نے غیر قانونی قرار دیا تو موصوف نے دوسری بار اس پابندی کی نوک پلک درست کرکے چھ مسلم ممالک پر سفری پابندی کا حکم نامہ پھر سے جاری کر دیا ۔ اسے بھی ایک عدالت نے معطل قرار دے دیا ہے۔ ابھی اس ہڑبونگ میں ٹھہراؤ نہ آیا تھا کہ موصوف نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی کے معروف مسلمان ممالک کے ائرپورٹس سے آنے والی فضائی کمپنیوں میں مسافروں کے لیے لیپ ٹاپ سمیت دیگر الیکٹرونکس کی اشیاء جہاز کے اندر لے جانے پر پابندی لگا دی۔ وجہ وہی سکہ بند کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ اپنے اہداف کے لئے سیاست دان جس مہارت سے حالات اور وقت کا فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

بھارت میں گزشتہ ماہ پانچ ریاستوں میں انتخابات ہوئے۔ سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں نتیجہ آیا تو سب کو حیران کر گیا، جیتنے والوں کو بھی اور ہارنے والوں کو بھی۔ کہاں یہ عالم کہ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کے پاس فقط سینتالیس نشستیں تھیں، اب دو تہائی اکثریت جھولی میں آ گری۔ یعنی سوا تین سو نشستوں کے لگ بھگ۔ اتر پردیش بھارت کی گنجان ترین ریاست ہے، کل آبادی تقریباٌ بیس کروڑ سے زائد۔ مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد بھی اسی ریاست میں ہے یعنی چار کروڑ کے لگ بھگ۔ ریاستی انتخابات میں مسلمان ووٹ ہمیشہ اہم اور پانسہ پلٹ سمجھا جاتا رہا لیکن اس بار دیو بند جیسے مسلم اکثریتی علاقے سے بھی بی جے پی نے میدان مارا۔ مسلمان اور نچلی ذات کے اکثر نوجوان ووٹرز نے اس بار معاشی ترقی کے بی جے پی کے نعرے پر اپنے بہتر مسقبل کی آس پر اسے ووٹ دیا۔ انتخابات کے دوران مودی خود الیکشن مہم کا چہرہ رہے۔ وزیر اعلیٰ کے لیے کوئی نام سامنے نہیں رکھا گیا۔ دو تہائی اکثریت کے بعد فتح کے جشن کا ہاؤ ہو ٹھنڈا پڑا تو بی جے پی کی قیادت نے ایک بنیاد پرست اور شعلہ صفت ہندو یوگی اد تیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ کے لیے نامزد کیا۔ بنیاد پرست ہندو خوشی سے دیوانے ہو گئے۔ دوسری طرف مسلمان حلقوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی۔ بھارت کے اپنے میڈیا کے علاوہ دنیا بھر میں یہ خبر حیرانی کا باعث ہوئی۔ اکثریت کی سونامی میں مودی نے حیران کن فیصلہ کر دیا۔ بقول ایک مبصر ، انہوں نے دو سال بعد ہونے والے الیکشن کا انداز طے کر دیا ہے۔

اتر پردیش کے بیشتر شہروں اور یادگاروں سے اردو دان طبقے کی خوب شناسائی ہے۔ لکھنؤ اتر پردیش کا صوبائی دارلحکومت ہے۔ مشہور زمانہ تاج محل بھی اس کے شہر آگرہ میں واقع ہے۔ علی گڑھ اور اس کی یونیورسٹی بھی اسی ریاست میں ہے۔ ہندوؤں کے مقدس دریا گنگا اور جمنا اسی ریاست میں الہ آباد کے مقام پر آکر ملتے ہیں۔ بابری مسجد بھی اسی ریاست میں ہے جس پر تنازعے نے ہندو مسلم معاشرت اور سیاست کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اتر پردیش ریاست میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد بی جے پی کی سیاست رام مندر کی تعمیر کے ارد گرد گھومتی رہی ہے۔ صدیوں کی ہندو مسلم چپقلش کو نیا میدان مل گیا ۔ اس چپقلش میں بے رحم سیاست نے وہ آگ بھڑکائی ہے اور ایسا خوف مسلط کیا ہے کہ خدا کی پناہ! کرپشن اور ذات پات کی روایتی سیاست نے میدان میں موجود کانگرس ، اکلیش یادیو اور مایا وتی کی باریوں سے لوگوں کو مایوس کیا۔ ریاست کی آبادی کا 59% حصہ پلاننگ کمیشن کے بقول خطِ غربت سے نیچے زندگی کا عذاب سہہ رہا ہے۔ بی جے پی نے انتخاب میں ہند وتوا کی بجائے معاشی ترقی کا ایجنڈا نمایاں رکھا۔ ماہرین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ مسلم اور نچلی ذات کے نوجوانوں کی اکثریت نے بہتر مسقبل کے لیے بی جے پی کو ایک موقع دینے کا چانس لیا ہے۔

نوجوانوں اور ووٹرز کی اکثریت نے تو معاشی ترقی کے سہانے ڈھول سن کر ساٹھ فی صد ٹرن آؤٹ کے ساتھ چالیس فی صد پاپولر ووٹ بی جے پی کو دیا جس نے الیکشن میں حصہ نہ لینے والے لیکن الیکشن مہم میں متحرک بنیاد پرست اور ریاست کے سب سے بڑے مندر کے یوگی ادتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ بنا نے کا حیران کن فیصلہ کیا ہے۔ وقت ہی بتائے گا کہ ایک ایسے متعصب ہندو یوگی سے کیا خیر برآمد ہوگی جس کے بیانات میں زہر اورنفرت گندھی رہی ہے۔ ان کے اکثر بیانات کا ذکر قلم پر زخم اور سماعت پر خراش چھوڑ جاتا ہے۔ ۔۔ اگر ایک مسلمان نے ایک ہندو عورت سے شادی کی تو جواب میں سو مسلمان عورتوں سے شادی کریں گے، مسلمان اگر ایک ہندو کو قتل کریں گے تو جواب میں سو مسلمانوں کو قتل کریں گے، نعوذ باللہ ہر مسجد میں بھگوان کی مورتی رکھیں گے۔۔۔ زندہ رہنے اور مصالحت کی مجبوری کہیے کہ مسلمان زعما اس حیران کن فیصلے سے امید برائے امید ہی سہی، اچھے کی امید کا حوصلہ رکھے ہوئے ہیں۔ ممتاز مسلم رہنما ضیاء الدین کہتے ہیں سیاست دان اقتدار سے پہلے شعلہ فشاں بیان دیتے ہیں لیکن اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد ذمہ داری انہیں متوازن راستہ اپنانے پر مجبور کرتی ہے۔ انہیں اور مسلمان کمیونٹی کو اب یہی امید ہے کہ شعلہ فشاں اور متعصب ہندو یوگی وزیر اعلیٰ بن کر اپنے انتخابی نعرے کا پاس کرے گا ، سب کا ساتھ سب کا وکاس۔

خوف اور امید کی یہ فضا اتر پردیش میں مجبوری بھی ہے اور ضرورت بھی کہ پشت ہا پشت جینا مرنا اسی سر زمین پہ رہا ہے۔ لیکن برما کے صوبے روہنگیا کے مسلمانوں سے تو یہ نعمت بھی چھن گئی۔ متعصب اور آتش بیاں بدھ Monks اور حکومت انہیں برما کے شہری مانتے ہی نہیں۔ مذہبی فسادات پھوٹے تو برما کی فوج نے تحفظ دینے کی بجائے ظلم کے پہاڑ توڑنے میں کسر نہ چھوڑی۔ بستیوں کی بستیاں جلا دی گئیں، عورتوں کی عصمت دری کو معمول بنا لیا۔ اس پر طرہ یہ کہ عالمی برادری کو اس علاقے تک رسائی سے مکمل انکار۔ نوبل انعام یافتہ آنگ ساں سوچی کی پارٹی کو اقتدار ملا تو کچھ بہتری کی امید تھی لیکن انہوں نے اپنی زبان کھولی اور نہ ہی اپنی حکومت کو کم از کم ان مظالم کی انکوائری کے لیے کہا۔ روہنگیا مسلمان کچھ بنگلہ دیش دھکیل دیے گئے اور کچھ تھائی لینڈ۔ دونوں ممالک ہی ان مسلمان مہاجرین کے لیے نا مہربان۔ زمین پاؤں تلے نہیں ہے اور آسمان مہرباں نہیں ۔ اور دنیا ہے کہ ان کی جانب سے لاپروا۔ دنیا اور اس کے میڈیا کے پاس دن میں سو افسانے ہیں مگر روہنگیا مسلمانوں کے لیے کسی کے پاس وقت ہے نہ دلچسپی ۔

ایسے میں جب یوم قرار داد پاکستان کے موقع پر چند جوشیلے یہ سوال کرتے ہیں یہ آزادی بھی کیا آزادی ہے؟ تو دل سہم سا جاتا ہے۔ نا شکری آسودگی ہی میں ہوتی ہے۔ علامہ اقبال کی نظم شکوہ یاد آئی۔ ان کی نظم جواب شکوہ پڑھنے کا حوصلہ کم ہی ہوتا ہے کہ شرمندگی غالب آ جاتی ہے۔ ان کی نظم شکوہ سے ایک شعر:
رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
جواب شکوہ سے ایک جوابی شعر امید کا راستہ کچھ دکھاتا ہے:
کشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہے
عصرِ نو رات ہے، دھندلا سا ستارہ تو ہے