افغان بستی میں ایک دن
- تحریر آغا کامران
- ہفتہ 25 / مارچ / 2017
- 4866
ہر کسی سے سنا تھا افغان بستی میں اکیلا جانا اپنی زندگی کے ساتھ کھیلنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں افغان بستی میں جاؤ گے تو واپسی ممکن نہیں، مگر یہ سب جھوٹ نکلا۔ شاید میری قسمت اچھی تھی یا پھر لوگوں کا کہنا غلط تھا۔ کبھی نہیں سوچا تھا افغان لوگ اتنے مہمان نواز ہوں گے۔ کبھی خیال تک نہیں آیا تھا کہ یہ لوگ کسی غیر قوم قبیلے ( یعنی افغانیوں) کے علاوہ کسی کو اپنے گھر میں لے جائیں گے۔
غریب آباد ملیر ٹاؤن کراچی، افغانیوں اور بلوچ قبیلے کا گڑھ سمجھی جاتی ہے۔ اس علاقے میں بنیادی ضروریات نہ ہونے کے برابر ہے۔ تعلیمی ادارے ہونے کے باوجود صبح صادق کے ساتھ بچے کچرا چننے جاتے ہیں، جس کی وجہ غربت سمجھی جاتی ۔ لوگوں کا پیشہ ایک ہی ہے۔ کہ کچرا کنڈی سے ضرورت کی چیزیں تلاش کرنا یا پھر گھروں کے دورازے پر پڑا کچرا اُٹھانا۔ ان بچوں کے باپ داد بھی یہی کام کرتے آئے اور اب ان کی باری ہے جواس کام کو احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں ۔
یہاں ایک بات قابل غور یہ کہ ان بچوں میں نشہ اور فضول خرچی نہ ہونے کے برابر ہے اور سب بچے صرف گھر والوں کی خاطر یا پھراپنی غربت کی وجہ سے اس کام کو کرنے پر مجور ہیں مگر خوشی خوشی کرتے ہیں۔ میں ان بچوں سے انٹرویو لینے جب غریب آباد پہنچا تو ایک آدمی سے ملاقات ہوئی ان کے توسط سے پورے گوٹھ میں ہر کسی کے دورازے پر گیا۔ شدید بخار ہونے کے باوجو آج میں نے خود سے عہد کیا تھا کہ کم از کم 30 بچوں سے انٹرویو لے کر ہی گھر واپس جاؤں گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں کامیاب رہا، جس کی وجہ علی شیر نامی آدمی تھا جو اپنا کام کاج چھوڑ کر میرے ساتھ افغانیوں کے گھر گھر گئے۔
جب شام ڈھلنے لگی اور بھوک بھی شدید لگنے لگی، بخار کی وجہ سے پیاس بھی انتہا کی لگ رہی تھی۔ علی شیر کو جب میں نے کہا علی بھائی میں تو تھک گیا ہوں ، اب اجازت دو میں واپس جاؤں گا۔ مگر علی شیر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے۔ اور کہنے لگے جو گھر میں پکا ہوا ہے ، وہی کھا کر جانا۔ ایسے بھوک اور پیاس کی حالت میں جانے نہیں دوں گا۔ خیر کافی تکرار کے بعد میں جب ان کے گھر پہنچا۔ کچی چھت، کھلے میدان میں جھونپڑی نما گھر تھا لیکن بہت اچھے انداز میں سجا ہوا تھا۔ گھر کے کتے بھوکنے لگے اس کی وجہ پوچھی تو پتہ چلا کہ میں اس گھر میں نیا تھا ۔ مختصر اتنا سنا ہوا تھا کہ پٹھان مہمان نواز ہوتے ہیں اور آج اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ علی شیر تہہ دل سے مہمان نوازی کر رہے تھے۔
مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں کسی افغانی کے گھر پر ہوں۔ وہ نہایت پرخلوص انداز میں مہمان نوازی کر رہے تھے کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں اپنے علاقے (سکردو ) کے کسی خاص کے گھر میں ہوں ۔ ان کا انداز بھی کچھ ایسا تھا جیسے سکردو میں خاص مہمانوں کے لئے ہوتا ہے۔ کھانا لانے سے پہلے (پڑکو) سے ہاتھ دھونے کے لئے پانی آنا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔ مگر ان کے روٹی کئی لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کافی تھی۔ علی شیر کا کہنا تھا کہ ہم ایک ٹائم پر کم از کم ایسی دو روٹی کھاتے ہیں۔ سبزی کا ذائقہ کیا بتاؤں۔ مزہ آگیا۔ آخر میں قہوہ پیش کیا گیا۔
شیر علی کہنے لگے یہ قہوہ ایسے ہی ہے جیسے(آپ لوگ) یعنی پاکستانی کھانے کے آخر میں کولڈ ڈرنک پیتے ہیں۔ کھانا کھانے کے کچھ منٹ بعد انہوں نے کہا اگر آپ تھک گئے ہیں تو کچھ دیر آرام کریں۔ مگر مجھے میزید بچوں سے بھی ملنا تھا، اس لئے اس مہمان نواز افغان سے اجازت لے کر نکلنا پڑا۔