ٹی وی نشریات کے لئے قواعد و ضوابط کی ضرورت

صحافت کو اگر اس کے تمام تر اخلاقی اور صحافتی سنہری ضابطوں اور اصولوں کے ساتھ اپنایا جائے تو اس سے قوموں کی بہترین ذہنی نشو و نما کی جا سکتی ہے۔ اور یہ شعبہ ایک انتہائی فعال کردار ادا کرکے نوجوان نسل کو دورحاضر کے تقاضوں کے مطابق معلومات فراہم کرکے ایک مہذب مقام دلوا سکتا ہے۔ اگر صحافت کے مفہوم کو سمجھا جائے تو اس کا مطلب عوام کو باخبر کرنا ہے لیکن آج کل انہیں گمراہ کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت کو بہت زیادہ تنقید کا سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ اس شعبے کا شتر بے مہار جیسا کردار ہے۔

ماضی میں نیوز چینل پر حساس ترین معاملات پر غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا نتیجہ قتل و غارت کی شکل میں سامنے آ چکا ہے۔ براہ راست نشریات اور لائیو ٹاک شوز انتہائی حساس نوعیت کے معاملات ہیں جن پر غیر سنجیدہ طرز عمل اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ ایسے پروگراموں میں موضوع پر دسترس اور شرکا کے ذہنی معیار کا علم ہونا انتہائی ضروری ہے۔ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی مثال سب کے سامنے موجود ہے کہ ان کے ایک بیان کے بعد توہین رسالتﷺ  جیسے حساس موضوع پر  سوچے سمجھے بغیر  اور اس کے منفی نتائج سے بے پرواہ ہو کرگفتگو کی گئی۔ مختلف مکتبہ فکر کے علماء سے گفتگو کرائی گئی جس کے نتیجہ میں اشتعال پھیلا اور پھر ایک سرکاری ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے جذبات میں سرعام فائرنگ کرکے ان کی جان لے لی۔ اس کے بعد وفاقی وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی کا قتل بھی ایسے ہی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا شاخسانہ تھا۔

ان تمام تر افسوسناک واقعات کے باوجود پاکستان کے اندر نیوز چینل کے لائیو پروگراموں کے بارے میں کوئی ایسا لائحہ عمل منظور نہیں کیا گیا جس پر عمل پیرا ہوکر شرانگیزی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ اسی لاپرواہی کا خمیازہ عامر لیاقت حسین جیسے صحافیوں کے گلو بٹ  کی شکل میں وطن عزیز بھگت رہا ہے ۔ پاکستان میں اس وقت حساس ترین معاملات اور موضوعات  پر انتہائی زیادہ احتیاط  کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اہم توہین رسالت اور دیگر مذہبی معاملات ہیں۔ اس کے بعد  اقلیتوں اور خاص طور سے احمدیہ کمیونٹی کا موضوع ہے۔ اس حوالے سے نیوز چینل کے مالکان اور اینکرز نہ صرف غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک طرح سے جرم کا ارتکاب کیا۔ لیکن  ہمارے ہاں احتساب اور انصاف ایک خواب کی مانند ہیں لہذا کوئی ادارہ بھی ان کا بال بیکا نہ کرسکا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک کے بعد دوسرا واقعہ رونما ہوتا رہا۔

پاکستان کے آئین کے تحت تمام پاکستانی شہریوں کے مساوی حقوق اور ان کا تحفظ ان کا بنیادی حق ہے۔ اس وقت نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان کے اندر سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمہ کی کوشش ہو رہی ہے لیکن یہ امر باعث تشویش ہے کہ میڈیا خصوصا نیوز لائیو پروگراموں کے بارے میں تاحال کوئی قانون یا پالیسی موجود نہیں ہے۔ ہر نیوز چینل اور میزبان نتائج سے بے پرواہ ہوکر حساس موضوعات پر گفتگو کرواتا ہے۔ اس لئے  یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پیمرا، ایسی لائیو نشریات اور شوز کے لئے فوری نیا لائحہ عمل بنائے ۔ اور اس کی تشہیر کی جائے تاکہ عوام الناس کے علم میں آجائے ۔ یہ سیاسی شعور اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ لائیو پینل میں شامل علمائے دین اور دیگر کا ریکارڈ اور ان کی تعلیمی اہلیت اور علمی صلاحیت پرکھنا بھی ضروری ہے۔  اس غفلت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شرانگیز گفتگو ہوتی ہے جو  فتنہ پھیلانے کا سبب بن سکتی ہے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی جو کہ مختصر طور پر پیمرا کے نام سے مشہور ہے ایک اہم سرکاری ادارہ ہے۔ اس کا یہی کام ہے کہ  الیکٹرانک میڈیا  پر گہری نگاہ رکھے اور بغیر کسی دباؤ کے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ حالات کے مطابق نئے قواعد و ضوابط بنائے اور ان پر عمل درآمد کرائے۔ پیمرا نے جنوری میں متنازعہ اینکر پرسن عامر لیاقت حسین پر جس طرح کی پابندی لگائی اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ادارے کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا کیونکہ ادارہ کئی برسوں سے اس کی حرکتوں کو برداشت کر رہاتھا۔ یہ پابندی کئی ہفتوں کی مسلسل نگرانی کے بعد لگائی گئی تھی۔ اس پابندی کے تحت عامر لیاقت کی بطور میزبان، مہمان، تبصرہ نگار ، اینکر پرسن ، رپورٹر ، سمیت کسی بھی حثیت میں بول چینل کے کسی بھی پروگرام میں شامل نہیں ہو سکتے تھے۔ پیمرا کے فیصلے کے مطابق عامر لیاقت کو کسی بھی دوسرے ٹی وی چینل پر نفرت انگیز مواد کا پرچار کرنے یا کسی شخص کو کافر، مرتد، غدار، توہین رسالت یا توہین مذاہب کا مرتکب قرار دینے کی اجازت نہیں ہے۔ کیونکہ پاکستانی آئین اور قانون کے مطابق اس طرح کے حساس معاملات پر فیصلے کا اختیار اعلی عدلیہ کے پاس ہے۔

پیمرا نے عامر لیاقت کے خلاف یہ ایکشن بہت دیر سے لیا۔ کاش کہ سویا ہوا قانون اس وقت بھی جاگتا اور ساکت عدل کی گھنٹی ہلتی جب بے گناہ احمدیوں کا ناحق خون بہایا گیا۔  2008 میں عامر لیاقت نے ایک پورا پروگرام احمدیوں کے عقائد بارے کیا جس میں شامل انتہا پسند علماء نے احمدیوں کے قتل کا فتوی دیا۔ اس کے چوبیس گھنٹے کے اندر  دو سرکردہ احمدی شخصیات کو قتل کردیا گیا تھا ۔22دسمبر2014 کو سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے حوالے سے ایک پروگرام صبح پاکستان میں دو علماء کے منہ سے ایک بار پھر احمدیوں کے خلاف شرانگیز کلمات نہ صرف کہلوائے گئے۔  بلکہ ان کی تائید کی گئی اور لوگوں سے بھی کروائی گئی۔ یہ سب کچھ آئین پاکستان اور قانون کے خلاف تھا۔ لیکن تب بھی اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ عامر لیاقت کے بارے میں اب تک جو کچھ  منظر عام پر آیا ہے اس سے یہ واضع ہو تاہے کہ یہ ایک مجرمانہ ذہن کا سہولت کار ہے جو مذہب کی آڑ میں پاکستان کے عدم استحکام کی کوششوں میں ملوث ہے۔ اس نے بوگس ڈگریوں  اور سیاسی تعلقات کی بنیاد پر صحافت میں داخل ہوکر اپنی چرب زبانی کا ناجائز لیکن بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اب اس کے خلاف سپریم کورٹ تک شکایات پہنچ چکی ہیں۔

ملک و قوم کی مفاد میں میڈیا اور خصوصا براہ نشریات کے بارے میں فوری طور قواعد و ضوابط تیار کرکے نافذ کئے جائیں تاکہ پاکستان میں فضا پرامن ہو سکے اور شرانگیزی اپنے انجام کو پہنچے۔