ہمیں جنگ نہیں ، بہتر پالیسی چاہئے

امریکہ سپر پاور سہی مگر وہ اس وقت معاشی طور پر 3 کھرب ڈالر کا مقروض ہے۔ اس نے افغانستان پر حملہ کرنے کیلئے تین کھرب پینتالیس ارب ڈالر کا بجٹ منظور کیا تھا اور آج ہی کی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کے ایک ریسرچ گروپ کے مطابق افغانستان میں امریکی فوجی کارروائی پر 800 ملین ڈالر سے ایک بلین ڈالر ماہانہ تک خرچ ہو رہا ہے۔

نیویارک اور واشنگٹن میں حملہ کرنے والوں نے جس طرح امریکی معاشی، فوجی اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں اقوام عالم پر امریکہ کی برتری کے دعوے کو خاک میں ملا دیا تھا اور امریکہ کی فوجی اور معاشی برتری کی علامتوں کو نیست و نابود کرنے کےلئے جس اعلیٰ درجہ کی مہارت اور خامیوں و نقائص سے پاک بے مثال منصوبہ بندی کا ثبوت دیا، اپنی کیفیت اور کمیت کے اعتبار سے سپر پاور پر فوقیت رکھتی ہے۔ امریکی سراغ رساں ساری دنیا کی تمام نقل و حرکت کی پل پل خبر رکھتے ہیں اور فوجی آپریشن ہو یا معاشی اور سفارتی امریکیوں کی منصوبہ بندی اور منصوبہ سازوں کی ذہانت اپنی مثال آپ ہے۔ امریکہ پر حملوں کے ذریعے حملہ آوروں نے خود کو جدید دور کے ہر معیار پر خود کو علی الاعلان برتر ثابت کر دیا۔ خود امریکیوں کے سامنے اس برتری کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سابق نائب صدر ڈک چینی نے کہا تھا کہ ’’نیویارک اور واشنگٹن پر ہونے والے حملے امریکی تاریخ کا ایک نہایت اہم موڑ ہیں۔ اس سے یہ احساس ختم ہو گیا ہے کہ امریکہ بالکل محفوظ ہے اور اب تک ہم یہی سمجھتے آئے تھے کہ جنگ ہم سے دور سمندر پار ہے۔‘‘ سابق صدر کلنٹن نے اعتراف کیا تھا کہ ’’اب دنیا میں کچھ لوگوں نے امریکہ کو نشانہ بنانا سیکھ لیا ہے۔ اب امریکہ وہ نہیں رہ گیا جو 11 ستمبر سے پہلے تھا۔‘‘

دراصل ہوا یوں کہ امریکہ نے سائنس و ٹیکنالوجی اور معاشی میدان میں اپنی برتری کا استعمال انسانیت کی فلاح و بہبود کےلئے کرنے کے بجائے کمزور اقوام اور سوشلسٹ معاشیات رکھنے والے ملکوں کو مغلوب کرنے اور معاشی طور پر دنیا کو اپنا غلام بنانے کےلئے کیا۔ پنٹاگون اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر صرف امریکہ کی برتری کی ہی علامات نہیں تھیں بلکہ بدترین قسم کے ظلم و جبر اور استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کی بھی علامتیں تھیں۔ لیکن مخالفین نے بھی اپنی ذہانت اور منصوبہ بندی کا تعمیر کے بجائے تخریب کےلئے استعمال کرکے پوری انسانیت کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ آج یہ سوال دانشوروں کے ہر حلقہ میں اٹھ رہا ہے کہ مستقبل کی دنیا میں انسانی حقوق، سماجی ترقی، معاشی فروغ اور جمہوریت کی بقا جیسے موضوعات کی کیا عملی صورت گری ہو گی۔ کیا یہ معاملات سماجی، معاشی اور نظریاتی کشمکش کے چوکٹھے میں کسی معنویت کے حامل ہوں گے۔ ان عصری مسائل کی کھوج اور حل کے بجائے امریکی سیاستدان، انتظامیہ اور بعض دوسرے دانشور 11 ستمبر 2001 کے حادثے کے بعد سے ان مسائل کی جگہ اب بین الاقوامی دہشت گردی کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ امریکیوں کا خیال ہے کہ عالمی جنگوں سے ہٹ کر 11 ستمبر کو نیویارک اور واشنگٹن کے حادثوں میں مرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہ واقعہ جس کے نتیجے میں امریکہ اور مغربی ممالک خوف و دہشت کی گرفت میں ہیں۔ یہ حادثہ اس لئے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ ماڈرن تاریخ میں پہلی بار فاتح اقوام پر روایتی طور پر مفتوحہ لوگوں نے ہلہ بولا۔ دوسرے لفظوں میں صیاد خود صید کے ہاتھوں پھڑپھڑا رہا ہے۔

دہشت گردی کی تاریخ امریکہ میں کم از کم 35 سال پرانی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب سابق صدر رونالڈ ریگن برسراقتدار آئے تو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نظریہ دنیا میں دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ اس پالیسی کے تحت امریکہ نے جنوبی افریقہ اور وسطی امریکہ کے ممالک میں جوابی دہشت گردی کا بازار ایسا گرم کیا تھا کہ ہزاروں افراد 1970سے 1980 کی دہائیوں میں امریکہ کے ہاتھوں موت کا شکار ہوئے۔ مشرق وسطیٰ میں جو کچھ اس زمانے سے ہو رہا ہے اس کا حال تو سب جانتے ہیں۔ امریکہ کی اس بلا اعلان دہشت گردی کی اس زمانے میں عالمی عدالت نے بھی مذمت کی تھی لیکن دہشت گردی کا لفظ امریکہ کی سرکاری دستاویزات میں بالکل اور ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ امریکہ یا اس کے حلیف ممالک کے خلاف کی جانے والی لفظی یا عملی کارروائی کو واشنگٹن دہشت گردی سمجھتا ہے۔ دہشت گردی یا جوابی دہشت کے اس خوف نے دنیا کے مستقبل کو دھندلا دیا ہے۔

آج کا دور گلوبلائزیشن کا دور ہے۔ علاوہ دیگر چیزوں کے دہشت گردی بھی آج گلوبلائز ہوگئی ہے۔ گلوبلائزیشن کا نعرہ امریکہ سے ہی بلند ہوا تھا اور اس گلوبلائزیشن کا فائدہ۔ اور بعض حلقوں کے مطابق سب سے زیادہ فائدہ بھی امریکہ نے ہی اٹھایا تھا۔ آج اس گلوبلائزیشن کا سب سے زیادہ خمیازہ بھی امریکہ کو ہی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مانا کہ دہشت گردی آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن اس سے قانون اور نظم و نسق کے مسئلے کی طرح نہیں نمٹا جا سکتا۔ آج اگر دنیا میں دہشت گردی ہے تو اس دہشت گردی کے اسباب اور وجوہات بھی موجود ہیں۔ اور یہ طے ہے کہ اسباب کو ختم کئے بغیر دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے دہشت گردی کے خاتمہ کےلئے نئے ’’ورلڈ آرڈر‘‘ کی ضرورت ہے۔

اس نئے ورلڈ آرڈر کی نہیں جسے امریکہ مسلط کرنا چاہتا تھا بلکہ اس نئے ورلڈ آرڈر کی ضرورت ہے جہاں عام انسانوں کو تمام انسانی حقوق حاصل ہوں۔ ظلم و جبر اور استحصال کا وجود نہ ہو، سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال انسانیت کی تباہی و بربادی کے بجائے انسانوں کی فلاح و بہبود کےلئے کیا جائے۔ عسکری برتری کسی فرد، معاشرہ یا ملک و قوم کے تحفظ کی ضمانت نہیں۔ اگر آج ان سب باتوں کا حل تلاش نہ کیا گیا اور دہشت گردی سے پولیس مین کی طرح نمٹا گیا تو بہت ممکن ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس کی گنجائش ہی نہ رہ پائے۔