دہشتگردوں کے لیےعام معافی کی تجویز
- تحریر سید انور محمود
- منگل 28 / مارچ / 2017
- 4339
میرے سامنے 25 مارچ کا روزنامہ جنگ میں سلیم صافی کا کالم ’’طالبان کے خلاف عام معافی کیوں؟‘‘ موجود ہے اور میں اس مضمون کو کئی مرتبہ پڑھ چکا ہوں۔ میں یہاں صرف اس مضمون میں سے ان باتوں کو نقل کروں گا جس مقصد کےلیے سلیم صافی نے یہ مضمون لکھاہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ’’میرا عقیدہ ہے کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے سے بڑھ کر سنگین جرم کوئی نہیں۔ چونکہ میں جانتا ہوں کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں اور اپنے جسموں سے بم باندھ کر خود اپنے آپ کو اور معصوم پاکستانیوں کو اڑانے والوں کی ایک بڑی تعداد مخلص لوگوں پر مشتمل ہے اور چونکہ میں جانتا ہوں کہ عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد ٹریپ ہوکر ریاست پاکستان کے خلاف اس ناپاک اور ناپسندیدہ جنگ میں مبتلا ہے۔ اس لئے میں زہر کا یہ گھونٹ پی کر اس موقع پر یہ گزارش کررہا ہوں کہ حکومت پاکستان عسکریت پسندوں کے لئے عام معافی کا اعلان کردے‘‘۔
اس مضمون میں دہشتگرد تنظیم طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے سسر کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیرمولانا صوفی محمد کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ لال مسجد کے دہشتگردوں کے ساتھ ساتھ جماعت الدعوۃ، انصارالامۃ، جماعت اہلسنت اور تحریک جعفریہ کا بھی ذکر اس مضمون میں موجود ہے۔ اپنے اس مضمون کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اور یہ ظاہر کرنے کےلیے کہ یہ مضمون صرف دہشتگردوں کےلیے نہیں لکھا گیا، اس میں ایم کیوایم اور بلوچ عسکریت پسندوں کے گرفتار لوگوں کی رہائی کا تقاضہ بھی کیا گیا ہے۔
اب تک 70 ہزار سے زیادہ بے گناہ پاکستانیوں کو بم دھماکوں میں ہلاک کرنے والے ان قاتل اور درنددوں کے بارے میں سلیم صافی جانتے ہیں کہ وہ نہ صرف مخلص ہیں بلکہ بہکاوے میں آکر ریاست پاکستان سے لڑرہے ہیں، اس لیے سلیم صافی چاہتے ہیں کہ ریاست دہشتگردوں کے لیےعام معافی کا اعلان کرے۔ وہ بھی سلیم صافی کی شرائط کے ساتھ کہ ’’اس معاملے میں فوج اور سول اداروں کو مشاورت کرکے پہلے مکمل ہم آہنگی لانی چاہئے ۔ اس اعلان سے قبل پورا ہوم ورک ہونا چاہئے ۔ یہ اعلان کسی چال کے تحت نہیں بلکہ پورے خلوص کے ساتھ ہونا چاہئے۔ جو لوگ تائب ہوکر ریاست سے بغلگیر ہونا چاہیں، انہیں معاف کرکے گلے لگا لینا چاہئے۔ اس اعلان سے قبل عسکری اداروں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی سیاسی قیادت کوبھی اعتماد میں لینا چاہئے تاکہ منصوبے پر بغیر کسی رکاوٹ کے عمل ہوسکے‘‘ ۔
سلیم صحافی کے اس مضمون کو پڑھنے کے بعد میں یہ سمجھ پایا ہوں کہ ریاست پاکستان میں جس کی جو مرضی چاہے کرے ، لوگوں کو قتل کرئے یا اغوا، ایک نوعمر بچے کے گھر والوں کی غربت کا فائدہ اٹھاکر اس بچے کے جسم پر بم باندھ کر ، اس سے بیچ بازار میں خود کش حملہ کروا کے سیکڑوں لوگوں کو ہلاک اور زخمی کروایا جائے اور بچے کے گھر والوں کو چند لاکھ روپے دے کر ان کو بتایا جائے کہ آپ کا بچہ تو سیدھا جنت میں گیا اور شہادت کے مرتبے پر فائز ہوا ہے۔ عام جگہوں، عبادت گاہوں اور مزاروں پربم دھماکے کرکے لوگوں کوہلاک یا زخمی کرنے والے یہ دہشتگرد بقول سلیم صافی، مخلص اور بہکائے ہوئے لوگ ہیں۔
دہشتگردی میں دو عناصر کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ ان میں ایک کو سلیپر سیل کہا جاتا ہے جبکہ دوسرے کو سہولت کار کہتے ہیں۔ سلیپر سیل وہ ہوتا ہے جو جائے وقوع پر یا تو بم دھماکہ کرتا ہے یا خودکش حملہ آور کی مدد کرتا ہے۔ یہ عام لوگوں میں زندگی گذارتا ہے، اس کے بارے میں اس کے گھر والوں اور دوستوں کو بھی اس کے سلیپر سیل ہونے کا پتہ نہیں چلتا جب تک وہ پکڑا یا مارا نہیں جاتا۔ عام عام طور پر سلیپر سیل ایک دوسرے کوبھی نہیں جانتے۔ ان کا ایک انچارج ہوتا ہےجو ان کو ہدایت دیتا ہے اور وہی اپنے ماتحت کام کرنے والے ان سلیپر سیلز کو جانتا ہے۔ دہشتگردی کو کامیاب بنانے کے لیے جو دوسرا عنصر ہے وہ سہولت کار کا ہوتا ہے۔ سہولت کار دہشتگردی کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اگر وہ پیسے والا ہے تو اپنے پاس سے دیتا ہے ورنہ یہ عام طور پربھتہ خوری اور لوٹ مار کے زریعے رقم فراہم کرتا ہے۔ دہشتگردوں کےلیے محفوظ ٹھکانے بھی سہولت کار مہیا کرتا ہے۔ سہولت کاروں میں وہ لکھاری بھی موجود ہیں جو دہشتگردی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ان دونوں عناصر میں سہولت کار عام طور پر پڑھے لکھے ہوتے ہیں جبکہ سلیپر سیل بھی جانتے ہیں کہ وہ کیا کام کررہے ہیں۔ ان میں سے شاید دس فیصد ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کو مذہب کے نام پر بہکایا جاتا ہے۔ بہت آسان لفظوں میں کہہ لیجیے کہ یہ دونوں عناصر نہ تو معصوم ہوتے ہیں اور نہ اس بات سے بے خبر کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں اس کا عام لوگوں کو کتنا نقصان پہنچتا ہے۔
سلیم صافی نے شاید یہ یاد کرنے کی بالکل کوشش نہیں کی کہ 70 ہزار سے زیادہ انسانی جانوں کے علاوہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو سال 2016 تک مجموعی طور پر 118ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے جو پاکستان کے غیرملکی قرضے سے زیادہ ہے ۔ مالی سال 2016-2015 کےدوران دہشتگردی سے ہونےو الے نقصانات کا خسارہ 5ارب 56 کروڑ ڈالر رہا ۔ سلیم صافی کے مخلص اور بہکائے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف ایک عرصہ کے بعد جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاکستان نے صحیح راستہ اختیار کیا۔ جنرل راحیل شریف کے جانے کے بعد نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی دہشتگردوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔ جنرل باجوہ نے دہشتگردوں کے خلاف ایک نیا آپریشن ردالفساد شروع کیا ہے۔ ایک دفاعی تجزیہ نگار کے مطابق آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد میں یہ فرق ہے کہ آپریشن ضرب عضب کا مقصد دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرکے ریاست کی رٹ قائم کرنا تھا جبکہ آپریشن ردالفساد کا مقصد کاونٹر ٹیرر اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہے۔ آپریشن ردالفساد کے زریعےپاکستان کے اندر موجود دہشتگردوں کے سلیپر سیل کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ آپریشن ردالفساد کے زریعے ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے جو کہ براہ راست دہشتگردی میں ملوث نہیں ہیں لیکن دہشتگردوں کو مختلف طریقوں سے مدد فراہم کررہے ہیں۔ یعنی دہشتگردوں کے سہولت کار ہیں۔ پاکستان کے سیکوریٹی اداروں کی پوری کوشش ہے کہ آپریشن ردالفساد کے زریعے دہشتگردوں کے سلیپر سیل اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
سلیم صافی کو معلوم تھا کہ اس مضمون کا ردعمل کیا ہوگا لہذا اس نے پہلے ہی اپنے اوپر ہونے والی تنقید سے بچنے کےلیے یہ کہہ کر بند باندھ لیا کہ مجھے معلوم ہے کہ سیکولر، لبرلز اوراے این پی کے ہمدرد میری اس اس تجویز پر بجا طور پر سیخ پا ہوں گے ۔ سلیم صحافی کو معلوم ہونا چاہئے کہ کوئی بھی انسانیت سے محبت کرنے والا اس مضمون اور ان کی تجویز کو پسند نہیں کرے گا۔ اس مضمون میں جو کچھ لکھا ہے وہ صاف صاف بتارہا ہے کہ مضمون نگار کو دہشتگردی کا شکار ہونے والوں سے کسی بھی طرح کی کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ 16 دسمبر 2014 کوپشاور کے آرمی اسکول کے ان 132 بچوں سے بھی نہیں جو دہشتگردی کا شکار ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ سلیم صافی کی بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ اس نے گزشتہ ماہ فروری 2017 میں پورے پاکستان میں آٹھ دہشتگرد حملوں کے بارے میں بھی نہیں سوچا جن میں 100سے زیادہ افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
یہ مضمون ایک ایسے شقی القلب انسان کا لکھا ہؤا لگتا ہے جو انسانیت کا نہیں دہشتگردی کا حامی ہے۔ اور دہشتگردوں کا ایک سہولت کار ہے۔ اس سے پہلے اردو کالم نگاری میں انصار عباسی اور اوریا مقبول جان طالبان دہشتگردوں کے سہولت کارتھے اب یہ تیسرا سہولت کار بھی پیدا ہوگیا ہے۔ یہ تمام سہولت کاراپنی کالم نگاری کے زریعےکسی بھی دہشتگردی کے بعد مذہب ، غربت اور انتقام کو جواز بناکر دہشتگردی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اگر چاہتے ہیں کہ پاکستان سے مکمل دہشتگردی ختم ہو تو ان سہولت کاروں کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔