دوقومی نظریہ سے نظریہ ضرورت تک
- تحریر شیخ خالد زاہد
- بدھ 29 / مارچ / 2017
- 6450
نئی نسل کو وطنِ عزیز کا مکمل نام "اسلامی جمہوریہ پاکستان" بتاتے ہوئے بہت دکھ ہوتا ہے۔ یہ ویسے ہی ہے کہ آپ کسی خوبصورت سے عنوان اور سرورق کی وجہ سے کوئی کتاب خرید لائے ہوں اور کتاب کے مطالعہ کے بعد آپ کو عنوان اور سرورق کے برعکس مایوسی کا سامنا کرنا پڑے۔ اور کسی حد تک اپنی اس رائے کو تبدیل کرنا پڑے کہ کتاب بہت عمدہ ہوگی۔
ضروری نہیں کہ لفافہ خوبصورت ہونا اس بعد کی دلیل ہے کہ اس میں سے نکلنے والی رقم بھی خطیر ہوگی۔ ہماری درسی کتابیں بدلتے ہوئے وقت اور بدلتی ہوئی دنیا کہ ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی جا رہی ہیں۔ ان نصابی تبدیلیوں کی بجائے اگر کچھ تبدیلی ہم (پاکستانی قوم) میں آجاتیں تو پاکستان ایک ایسے خاموش انقلاب کی راہ پر نکل پڑتا جہاں امن و سلامتی کا دور دورہ ہوتا۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا اور ہماری درسی نصابی کتابوں کو گاہے بگاہے تبدیل کرنے کا عمل جاری رہا۔ اب ہماری نئی نسل قائدِ اعظم محمد علی جناح کو کراچی میں ان کے مزار کی بدولت یا پھر نوٹوں پر موجود تصویر کی وجہ سے جانتی ہے۔ قائدِ ملت اور مادرِ ملت جیسے الفاظ ذرا اجنبی سے معلوم ہوتے ہیں۔
گزشتہ صدی میں سامنے آنے والا دوقومی نظریہ آج سسک رہا ہے۔ اکثریت کا یہی خیال تھا کہ جس دن ہندوستان کی تقسیم ہوئی اسی دن دوقومی نظریہ پورا ہوگیا تھا اور اسے تاریخی دستاویزات کی شکل میں محفوظ کرلینا چاہئے تھا۔ غور کرنے سے ہمیں پتہ یہ چلا کہ دوقومی نظریہ کا اطلاق تو تقسیم ہند کے بعد یعنی پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد ہونا تھا۔ لیکن اسے نظر انداز کردیا گیا اور ہم تقسیم ہونے کے باوجود اپنی منزل پانے میں ناکام رہے۔ دوقومی نظریہ دو مذاہب، دو تہذیبوں، دومختلف اقدار اور بہت ساری علامتوں کے واضح تقسیم کی دلیل ہے۔ کوئی بھی عام مسلمان یا ہندو دوقومی نظریہ کو نظر انداز یا اس کی حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا۔ 14 اگست 1947 کو ہندوستان کی تقسیم کا عمل پاکستان کی صورت میں مکمل ہوا۔
دوقومی نظریے نے ہی نظریہ پاکستان کو جنم دیا۔ نظریہ پاکستان کےلئے تحریکِ پاکستان چلی اور پاکستان وجود میں آگیا۔ اب پاکستان کی باگ ڈور سنبھالنے والوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ ان اصولوں کی بنیاد پر ریاست کا ڈھانچہ استوار کرتے جو اس ملک کے حصول کی وجہ تھے مگر یہ ہونا سکا۔ اس نظریہ سے دوری کے نتائج ہم آج تک جھیل رہے ہیں۔ نظریہ پاکستان سے دور ہونے کی وجہ سے ہی پاکستان دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا اور خطے میں نفرت کا بیج بو دیا گیا۔
آج بھارت اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا سیکولر ملک کہتا ہے جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔ کیونکہ بھارت نے پہلے دن سے ہی ہندوؤں کے مفادات کے تحفظ کیا۔ جس کی سب سے بڑی دلیل موہن داس کرم چند گاندھی کا بیہیمانہ قتل ہے۔ کانگریس جو بھارت کی سیکولر جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے آج وہ کہاں کھڑی ہے اور حکمران جماعت اور اس جماعت کا منتخب کردہ وزارتِ عظمی کی گدی پر براجمان شخص کی حیثیت انتہا پسند ہندوؤں کی فہرست میں نمبر ایک ہے۔ انہوں نے جو چاہا وہ پا لیا۔ انہوں نے آزادی بھی ہماری قربانیوں پر حاصل کی اور آج اپنے ملک کو ہندوؤں کی جنت بنا رہے ہیں۔ دنیا ان پر انتہا پسندی اور مذہبی دہشت گردی کا کوئی الزام نہیں لگاتی۔ بلکہ دنیا خود ان کی ثقافت جو مذہب سے ہی پھوٹتی ہے، کو تسلیم کرتی ہے۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ اپنی ثقافت اور تہذیب پر شرمندہ نظر آتے ہیں۔ ہم بے حسی کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کو پچھلے 70 سالوں میں نہ تو اسلام ہی ملا اور نہ ہی عوامی جمہوریت میسر آئی۔ بہر حال عسکری جمہوریت اس ملک میں خوب پلی بڑھی۔ ہمارا دشمن بہت دانشمندی سے ہمیں ہی ہمارے خلاف استعمال کرتا رہا ہے اور ہم استعمال ہوتے رہے۔ ہم نے سیاست کو اخلاقیات سے تو پہلے ہی ماورا قرار دےدیا ہے کہیں سے "اوئے" کی صدا گونجتی ہے تو کوئی "پھٹیچر" جیسے الفاظ بلند و بانگ سماعت کی آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں۔ ہمارے نظریات کو دنیا جہان کے قرضوں کا کفن پہنا کر مفادات کی زمین میں دفن کردیا گیا ہے۔ ہماری نسلیں اب ہم سے سوال ہی پوچھتی رہیں گی کہ آخر یہ نظریہ کس بلا کا نام ہے جس کی بدولت انگریزوں اور ہندوؤں سے آزادی حاصل کی گئی تھی۔
اس کے جواب میں ہم صرف اتنا ہی کہہ سکیں گے کہ سارے نظریات، نظریہ ضرورت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اللہ رب العزت پاکستان کو ایک بار پھر نظریات کرنے کی توفیق عطا کرے۔