ملک میں سیاسی اصلاح کا تشنہ خواب

  • تحریر
  • بدھ 29 / مارچ / 2017
  • 3925

پاکستان کی موجودہ حکومت کی معیاد ختم ہونے میں تقریبا ایک سال کا عرصہ باقی رہ گیا ہے اور اگلے سال ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد ہوں گے۔ سیاسی جماعتوں نے 2018 کے عام انتخابات کے لئے ابتدائی تیاریاں شروع کر دی ہیں  اور الیکشن لڑنے کے خواہشمند امیدواروں کی کوششیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ''میں، بلاول اور بیٹیاں میدان میں اتریں گے تو مخالفین کو سمجھ آ جائے گی کہ الیکشن کیا ہوتے ہیں''۔ ایک دوسری خبر کے مطابق مسلم لیگ (ن) جاپان نے کہا ہے کہ '' مریم نواز کے پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے سے خواتین کا وقار بڑھے گا''۔ ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے یہی دونوں سیاسی جماعتیں نمایاں ہیں اور انہی دونوں سیاسی جماعتوں کو ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی  پارلیمنٹ کی بالادستی کی بحالی  کی نقیب اور داعی کے طور پر خود کو پیش کرتی ہیں۔ تاہم ملک کی دونوں بڑی جماعتیں آمر حکومتوں کے ساتھ معاملات طے کرکے اپنے معاملات درست کرنے کا ریکارڈ بھی رکھتی ہیں۔عوام کے سامنے سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں سیاسی جماعتیں خاندانی اقتدار کے طرز سیاست سے پارلیمنٹ کی بالادستی کا ہدف حاصل کر سکتی ہیں۔ کیا خاندانی حاکمیت اور مفاد پرستی کے سیاسی کردار کے ساتھ پارلیمنٹ کی بالا دستی کو حقیقی طور پرقائم کیا جا سکتا ہے۔

بد قسمتی سے مارشل لاء حکومتوں نے پاکستان کی سیاست کو اپنے مفادات کے لئے یوں تبدیل اور استعمال کیا کہ ہماری پوری سیاست مفاداتی گروہوں کے روپ میں نظر آتی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں نظریات تحلیل اور مفادات مقدم ہو چکے ہیں۔ ملک میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بجائے پارلیمنٹ کی بالادستی کی ضرورت بیان تو کی جاتی ہے لیکن اس سمت حقیقی پیش رفت ہوتے نظر نہیں آتی ۔ معلوم نہیں کہ ملک میں غلامانہ طرز فکر و عمل کی  بیج کنی کب اور کس طرح ہو گی۔ ملک میں سیاسی جماعتوں کو حقیقی سیاسی جماعتیں بنانے کا سیاسی  عمل شروع نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی اس جانب کوئی توجہ دیتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ووٹ لینے کے لئے دعدے اور دعوے کرنے والی سیاسی جماعتوں نے شہریوں کو کیا ریلیف دیا ہے۔

ٹیکسز میں اضافہ خاص طور پر پنجاب میں  پراپرٹی ٹیکس کی شرح میں اضافے اور وصولی کا طریقہ کار موجودہ حکومت کا ایک ایسا بڑا 'ویک پوائنٹ' ہے جس سے موجودہ حکمران جماعت کو الیکشن میں نقصان ہو سکتا ہے۔ شہریوں کو سہولیات دینے ، سرکاری محکموں میں عوامی مشکلات، عوام پر تیزی سے بڑھتے معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لئے کیا کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔  ارکان پارلیمنٹ کی اہلیت کے معیار کو بہتر بنانے پر کتنی توجہ دی گئی ہے۔ البتہ سرکاری تنخواہیں پانے والے افسران اور اسمبلیوں کے ارکان کی مراعات میں ہر سال کئی گنا اضافہ ضرور کیا جاتا ہے۔ ملک کی آمر حکومتیں ہی نہیں بلکہ سیاسی جماعتیں بھی ملک میں آئین و قانون کی حقیقی بالادستی کے قیام میں ناکام نظر آتی ہیں۔ ملک میں قانون نہیں بلکہ حکم چلتا ہے۔ عوا م کو کسی مفتوح ملک کے شہریوں کی طرح برتے جانے سے ملک کو مضبوط اور مستحکم نہیں بنایا جا سکتا ۔

سرکاری اداروں، محکموں کی ناقص کارکردگی بہتر بنانے کی طرفکوئی  حکومت توجہ نہیں دیتی۔ نت نئے عنوانات سے خصوصی عدالتوں کے قیام اور اداروں کی حفاظت کے لئے خصوصی فورسز کی تشکیل سے ملک میں ہر سرکاری شعبے کی زبوں حالی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ  یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ ہم لوگ کسی ملک کا انتظام بطریق احسن چلانے کی اہلیت سے عاری ہیں۔ کیا یہ بھی سرکاری نااہلی نہیں کہ آج ہمیں دشمن کو ڈھونڈنے کے لئے  ملک بھر میں گھر گھر تلاشی لینا پڑ رہی ہے ۔ سرکاری سکولوں اور سرکاری ہسپتالوں کی ابتر حالت عوام کو ان کی کمتر حیثیت یاد دلاتی ہے۔ اگر حکومت یہ حکم جاری کرے کہ تمام اعلی سرکاری افسران اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھانے اور سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرانے کے پابند ہیں تو صرف ایک دن میں ہی سرکاری سکولوں کا معیار نجی سکولوں جیسا اور سرکاری ہسپتالوں کا معیار اعلی نجی ہسپتالوں کی طرح ہو سکتا ہے۔ سرکاری سکولوں میں کوالیفائیڈ ٹیچرز ہونے کے باوجود سرکاری سکولوں کی حالت ہر لحاظ سے بدترین ہے۔ جبکہ نجی تعلیمی اداروں میں کوالیفائیڈ ٹیچرز نہ ہونے کے باوجود ان کی فیسوں میں آئے روز ہونے والے اضافے پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

یوں نظر آتا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کو اس بات کی مکمل آزادی دی گئی ہے کہ وہ شہریوں کو فیسوں میں من مانے اضافے کے ذریعے لوٹ مار کا نشانہ بناتے رہیں۔ ملک میں مصنوعات، اشیائے خورد و نوش کے معیار اور قیمتوں پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ شہریوں کے امور سے متعلق ہر سرکاری کارکردگی ناقص اور خواص کے لئے ہر سرکاری سہولت اعلی معیار کی میسر ہے۔ ملک میں بااختیار کا اونچی تحکمانہ آواز میں عوام کو دبانا ایک چلن بن چکا ہے اور شہریوں کی شکایات کو نظر انداز اور ان کی تنقید کو دشمن کا درجہ دیئے جانے کا رواج چل نکلاہے۔ ملک کے مختلف خطوں میں عوام کو مختلف طور پر برتا جاتا ہے جس سے عوامی حقوق سے متعلق شکایات اور تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ملک میں طبقاتی تقسیم کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی خاندانی، شخصی، علاقائی یا فرقہ وارانہ گروپ کی طرف سے خود کو سیاسی جماعت کے طور پر پیش کرنے پر نظر رکھے۔ یہ بھی دیکھا جائے سیاسی جماعتوں میں مروجہ سیاسی اصولوں ، طریقہ کار کی پیروی کی جا رہی ہے یا نہیں۔ کیا جماعتوں کے پالیسی ساز اداروں کو فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ ملک کو ترقی دینے کے لئے ملک میں غلامانہ انداز، مفاد پرستی اورخوشامدی سیاست کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے دور حکومت  میں ملکی اقتصادی صورتحال بہتر ہوئی ہے جبکہ اپوزیشن کی رائے اس کے برعکس ہے۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ ملک کی معاشی ترقی کے فوائد عوام کو حاصل نہیں ہو پاتے۔

2013 کے انتخابات میں عوام نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کو اپنے اعتماد سے نوازا۔ عوام کو توقع تھی کہ میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت عوام پر معاشی دباؤ میں کمی لاتے ہوئے ریلیف فراہم کرنے پر اولین توجہ دے گی۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد عوام کی یہ امید کمزور پڑنے لگی اور اس حوالے سے حکومت پر عوامی تنقید میں اضافہ ہونے لگا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے حکومت کے خلاف منفی باغیانہ رویے سے عوامی ہمدردی ایک بار پھر مسلم لیگ(ن) کے ساتھ ہو گئی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں کہ ایک طرف تحریک انصاف کی سیاست نے حکومت کو کئی مشکلات سے دوچار کیا اور دوسری طرف مسلم لیگ(ن) کی حکومت سے متعلق عوامی مشکلات و مسائل کے معاملے کو پس پشت ڈالا۔ لیکن عوام کو معاشی بوجھ سے نجات دلانے کی بجائے ان پر معاشی بوجھ میں مزید اضافہ ہؤا۔ یہ صورت حال آئندہ سال کے عام انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

پرانی کہانیاں اور قصے سناتے ہوئے اب عوام کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ عوام کے ووٹ لے کر بااختیار معزز بننے والوں کی ''عوامی محبت'' اب بے نقاب ہو چکی ہے۔ یہ بھی ہماری ملکی سیاست کا اک خاصہ ہے کہ عوام کو مسلسل کمتر مقام پر رکھنے پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے۔ اگر کوئی یہ سوچتا یا کہتا ہے کہ رائج الوقت سیاست قائم رہتے ہوئے اور سیاسی جماعتوں کو مروجہ سیاسی اصولوں کے مطابق تبدیل کئے بغیر ملک میں اصلاح ہو سکتی ہے تو اسے خود فریبی یا دھوکہ دہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔