کشمیر کے لیے قربانی نے میری جان بچا ئی
(قیوم راجہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سینئر لیڈر ہیں۔ گزشتہ دنوں ترکی مین ان کے ساتھ جو واقعات پیش آئے ، وہ انہوں نے اسلام آباد پریس کلب میں صحافیوں کے سامنے بیان کئے تھے۔ ان کا یہ پریس بیان قارئین کی دلچسپی کے لئے من و عن شائع کیا جا رہا ہے)
ترکی میں چھ ماہ قیام کے بعد گزشتہ کل میں اسلام آباد پہنچا ہوں۔ ترکی میں چند انتہائی سنگین واقعات رونما ہوئے ہیں جو قوم کی امانت سمجھ کر بیان کرنا چاہتا ہوں۔ میں بھارتی سفارت کار مہاترے کیس میں برطانیہ میں 22 سالہ غیر عدالتی قید کے بعد اس لیے (پاکستان) واپس آیا تھا کہ وہاں مجھے سیاسی و سفارتی جد و جہد جاری رکھنے سے منع کیا جا رہا تھا۔ بد قسمتی سے مجھے واپسی پر مناسب سیاسی و تحریکی ماحول نہ مل سکا۔ لیکن میں نے اپنا کام جاری رکھا۔ شادی کے بعد مجھے اپنی چھوٹی سی فیملی کی کفالت کے فرائض بھی سرانجام دینے تھے۔ ہر کشمیری حریت پسند کی طرح میری بھی لبریشن سیل کا فنڈ کھانے والی حکومت نے کوئی مدد نہیں کی۔ جس کی وجہ سے میں نے ترکی ایڈجسٹ ہونے کا فیصلہ کیا۔
میں نے 2013 میں ترکی کا رہائشی پرمٹ حاصل کیا مگر بد قسمتی سے میرا پانچ سالہ اکلوتا بیٹا برہان ایک حادثے کا شکار ہو گیا ۔ میں نے اپنی غمزدہ اہلیہ کو اکیلا چھوڑ کر واپس جانا مناسب نہ سمجھا۔ جون 2014 میں مجھے استنبول یونیورسٹی کی طرف سے مسئلہ کشمیر اور اس کے حل کے بارے میں، پہلے کشمیری کے طور پر خطاب کا اعزاز ملا۔ اس بار بھی میں اپنی غمزدہ اہلیہ کی وجہ سے واپس آ گیا۔ مگر ستمبر 2016 کو میں ترکی میں مستقل قیام کے لیے ہمیشہ کی طرح ویزا لے کر گیا اور ترکی پہنچ کر دوبارہ رہائشی پرمٹ حاصل کر لیا۔ ترکی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ ایجوکیشن کنسلٹنٹ کے طور پر وہاں کام بھی شروع کر دیا۔ وہاں بعض ترکو ں کا تعاون مثالی تھا جس سے کچھ قوتوں کو تکلیف ہوئی۔ جس کی وجہ سے میرے خلاف سازشیں شروع ہو گئیں۔
سب سے پہلے درمیانی عمر کے ایک شخص کی طرف سے مجھے استنبول میں اس کے گھر آنے کی دعوت ملی۔ اس شخص نے اپنا نام مصطفی اور وطن برما بتایا۔ مگر لسانی اور جسمانی طور پر وہ بھارتی ریاست کیرالہ کا لگتا تھا۔ اس کے متعدد ٹیلیفون آنے کے باوجود میں نے یہ دعوت ٹال دی۔ پھر ایک دن پلندری آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والا ضیاء نامی نوجوان مجھے ملنے آیا۔ گھر کے قریب مسجد میں نماز عصر ادا کرنے کے بعد میں ضیاء کو الوداع کررہا تھا کہ گورے رنگ کا ایک نوجوان آیا۔ اس نے اپنا نام عبدالرشید اور پیشہ انجنئیرنگ بتایا۔ رشید نے بھی اپنے گھر دعوت دی مگر میں نے اس بار بھی ایک نامعلوم شخص کی دعوت قبول کرنے سے گریز کیا۔ ترک آبادی والے ایک خوبصورت علاقے فندق زادے میں میری رہائش کے قریب ایک کیفے کا مالک ترک میرا دوست بن گیا۔ میں وہاں اکثر رات بارہ بجے تک نیٹ استعمال کرتا رہتا۔ ایک دن وہاں سے واپس گھر جا رہا تھا کہ تین افراد نے میرا راستہ روک کر اپنا تعارف کرائے بنا مجھے زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھا لیا۔
ایک نامعلوم گھر میں لے جا کر انہوں نے ترکی کے بجائے جرمن میں گفتگو شروع کر دی۔ مگر ان کو معلوم نہ تھا کہ میری جرمن زبان ترکی سے بہتر تھی، جس کی وجہ سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ کسی نے انہیں میرے بارے غلط معلومات فراہم کی تھیں۔ وہ میری مالی حیثیت، وسائل اور میری سیاسی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے تھے ۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں کسی تخریبی سرگرمی میں ملوث نہیں۔ (میں نے انہیں) گوگل پر قیوم راجہ لکھ کر اپنے بارے معلومات دیکھنے اور نیٹ پر موجود یورپی انسانی حقوق کے عدالتی فیصلے کو پڑھنے کی دعوت دی۔ ایسا کرنے کے فوری بعد ان لوگوں کا رویہ میرے ساتھ دوستانہ و مثبت ہوگیا۔ چند گھنٹوں بعد وہ لوگ مجھے باعزت طور پر میرے گھر واپس چھوڑ گئے۔ اس طرح میں سمجھتا ہوں کہ میری قربانی نے میری زندگی بچا لی۔ میں نے اس واقعہ کو دبا دیا مگرچند ہفتے بعد کچھ پاکستانی و کشمیری میرے پاس آئے جنہوں نے کہا کہ کس طرح بعض ترک اور پاکستانی انسانی سمگلروں نے نجی جیلوں میں روزی کی تلاش میں پاکستانیوں پر تاوان کے لیے تشدد کا بازارگرم کر رکھا ہے۔ میں ترکی میں لیگل تھا جس کی وجہ سے مجبور پاکستانی و کشمیری مدد کے لیے میرے پاس آتے تھے۔
ایک ترک صحافی جہان کے ساتھ مل کر ہم نے مزید نجی جیلوں کا سراغ لگانے کی کوشش کی۔ ترک حکومت سے تعاون حاصل کرنے کے لیے میں نے پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بھی خط لکھا تھا۔ بعد میں ملنے والی معلومات سے ہمیں پتہ چلا کہ ترک پولیس کے کچھ افسران بھی انسانی سمگلنگ میں ملوث تھے۔ جنہوں نے ہمیں خطرہ سمجھ کر ہمارے خلاف سازش تیار کی۔ ایک انسانی سمگلر ایک بزنس مین کا روپ دھار کر میرے پاس آیا اور امپورٹ ایکسپورٹ کے لیے انگلش سیپیکنگ نمائدہ کی ضرورت ظاہر کی۔ میں اپنے بچوں کو بھی ترکی بلانے کے لیے مزید آمدنی کی تلاش میں تھا سو میں نے اس کام کی پیشکش قبول کرلی۔ چند ہفتوں بعد اس بزنس مین نے بتایا کہ مجھے ایک وفد کے ساتھ یورپ جانا ہے۔ میں نے سوچا یہ ایک اچھا موقع ہے سو میں نے ویزے کے لیے اپنا پاسپورٹ دے دیا۔ لیکن ساتھ زور دیا کہ ویزے کی درخواست جمع کرواتے وقت میں ساتھ جانا چاہوں گا۔ مذکورہ فرد نے چند دن بعد کہا اس نے تو ویزا لگوا بھی لیا ہے۔ پاسپورٹ مانگنے پر اس نے کہا آتا ترک ہوائی اڈے پر کام کرنے والا ایک افسر بورڈنگ کے وقت مجھے پاسپورٹ دے گا اور ایسا ہی ہوا۔
بورڈنگ اور امیگریشن ہو جانے کے بعد انتظار گاہ میں ایک نوجوان خاتون نے میرے ساتھ گفتگو شروع کی تو مجھے کچھ شبہ ہؤا۔ اتنے میں اس نے کہا ہمارا گیٹ نمبر تبدیل ہو گیا ہے جب ہم دونوں نئے گیٹ پر پہنچے تو میرے پاسپورٹ پر لگے یورپی ویزا کو سکین کرنے والی ایک اور خاتون نے کہا یہ ویزا جعلی ہے۔ میں نے ویزا لگوانے والے اور بورڈنگ کے وقت پاسپورٹ دینے والے افراد کے نام فون نمبرز اور گاڑی نمبر بھی ائرپورٹ پولیس کو دیئے۔ مگر حیران کن طور پر میری بات پر کوئی توجہ ہی نہ دی گئی۔ بعد ازاں وکیل کی موجودگی میں میں نے پولیس کو دوبارہ ان افراد کے بارے معلومات دیں مگر پولیس نے ان لوگوں کو گرفتار کرنے سے انکار کر دیا۔ میرا پاسپورٹ اور رہائشی پرمٹ ضبط کر لئے گئے۔ میں پانچ دفعہ ویزا لے کر ترکی گیا۔ مگر اس قت مزید دکھ ہوا جب پاکستانی سفارت خانے نے میرا پاسپورٹ واگزار کروانے میں میری مدد کے بجائے یہ لکھ کر مجھے پاکستان واپس بجھوایا کہ میں غیر قانونی طور ترکی میں داخل ہوا تھا۔
اسلام آباد ائر پورٹ پہنچے پر میں نے ایف آئی کے افسران کوکہا کہ وہ سات ستمبر 2016 کا ڈیٹا چیک کریں کہ آیا میں جھوٹ بولتا ہوں یا ترکی میں پاکستانی سفارت خانہ غلط کہتا ہے۔ میں ایف آئی اے کے افسران اختر اقبال اور محمد عمران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے میرا دعوی درست ثابت ہونے پر مجھے باعزت طور پر چھوڑ دیا۔ میں یہ مسئلہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی توجہ میں بھی لاؤں گا کہ پاکستانی سفارت خانے نے ترک پولیس کے جعلی کاغذات پر کیوں دستخط کئے۔ شاید وہ اس بات پرخفا تھے کہ میں نے ایک دفعہ قاہد اعظم کی تصویر پر لگی مٹی دیکھ کر پوچھا تھا کہ یہ تصویر آپ نے آخری بار کب صاف کی تھی۔ یا شاید اس بات پر خفا تھے کہ میں نے ستائیس اکتوبر کو پاکستانی ہائی کمیشن کے ترک میزبانوں سے پوچھا تھا کہ یہ کونسی یکجہتی کشمیر ہے جہاں مسئلہ کشمیر پر آپ نے کشمیر کے تینوں خطوں سے تعلق رکھنے والے تین کشمیریوں کے علاوہ سب کو بات کرنے کی دعوت دی ہے۔
ایک ترک میزبان نے کہا کہ آپکو پینل سے اس لیے ہٹایا گیا تھا کہ شاید میں پاکستانی سفیر کے موقف سے اختلاف کروں جس پر مجھے حیرت ہوئی۔ کیونکہ ہم نے تو ہمیشہ پاکستان کو اپنا بھائی سمجھا ہے۔ لیکن کچھ پاکستانی ادارے نہیں چاہتے کی کشمیری خود بھی اپنی بات کریں۔ ہمارا موقف کبھی بھی پاکستان کی سالمیت کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ پاکستان کو اگر کبھی نقصان ہوا تو صرف انتقامی اور تنگ نظر لوگوں سے ہوگا۔ ہم آج بھی پاکستان کے لئے دعا گوہیں اور کل بھی ہوً گے۔ لیکن عالمی سطع پر اپنا مسئلہ خود پیش کرنا ہمار حق ہے۔ پاکستان کو چاہئے وہ اس حق کو تسلیم کرے۔ ورنہ دنیا اسے ہندوستان ۔ پاکستان کا زمینی جھگڑا سمجھ کر نظر انداز کرتی رہے گی۔ ہمارا یہ موقف کسی بھی طرح پاکستان دشمنی نہیں ہے۔