پیپلز پارٹی اور پنجاب کی انتخابی سیاست
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 30 / مارچ / 2017
- 4932
سیاسی جماعتوں کا انتخابات کے نزدیک انتخابی سیاست میں کودنا فطری امر ہوتا ہے ۔ ہر سیاسی جماعت کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ انتخابی عمل میں نہ صرف کامیابی حاصل کرے ، بلکہ اپنی ووٹروں اور امیدواروں سمیت عام لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکے ۔ اس وقت بظاہر ایسا لگتا ہے کہ 2018 کے انتخابات کے تناظر میں ملک میں قبل ازوقت ہی انتخابی مہم کا عملی آغاز ہوچکا ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی جماعت پنجاب اور سندھ میں اپنی انتخابی تیاری کے عمل میں میدان میں کود چکی ہے ۔ تحریک انصاف فی الحال پاناما کیس کے فیصلے کی منتظر ہے اور اس کی روشنی میں اپنی انتخابی حکمت عملی ترتیب دے گی ۔ پیپلزپارٹی بھی پنجاب کی انتخابی سیاست میں 1988کے بعد سے اپنے آپ کو بحال کرنے کی کوشش میں مگن ہے ۔ ایک وجہ یہ ہے کہ سارے سیاسی فریقین سمجھتے ہیں کہ پنجاب کا انتخابی معرکہ ہی ملکی سیاست میں اقتدار کی سیاست کا تعین کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے ۔
اس وقت ایک دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت مسلم لیگ (ق)کی انتخابی سیاسی حکمت عملی میں پنجاب کو کلیدی حیثیت حاصل ہے ۔ سب ہی پنجاب کو سیاسی طور پر فتح کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ لیکن پنجاب میں اقتدار کی سیاست کا تاج کس کے سر باندھے گا ، اس کا فیصلہ تو انتخابی میدان میں ہی ہوگا ۔ انتخابات سے قبل سیاسی محاذ پر یا سیاسی میدان مار لینے کے دعوے انتخابی مہم سے قبل کی سیاسی گونج کا حصہ بن گئے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کافی برسوں سے پنجاب کے حکمران طبقہ کے ساتھ سیاسی مفاہمت کی سیاست سے جڑی ہوئی ہے ۔ اگرچہ اس مفاہمت کو جمہوریت کی مضبوطی اور سیاسی نظام کے تسلسل کے ساتھ ملا کر کر پیش کیا جاتا ہے ، لیکن سیاسی پنڈتوں کے ساتھ ساتھ دونوں جماعتوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو برملا اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ مفاہمت ایک دوسرے کے سیاسی ، ذاتی اور خاندانی مفادات کو تقویت دینے کے لئے ہے ۔
اس مفاہمتی پالیسی کے تحت دونوں بڑی جماعتوں نے اپنی اپنی سیاست کو مخصوص صوبہ کی سیاست تک محدود رکھ کر خود پر ’ سیاسی سنسر شپ‘ عائد کررکھی تھی جو دونوں جماعتوں کے اندر سیاسی کارکنوں اور انتخابی میدان سے وابستہ کھلاڑیوں میں مایوسی بھی پیدا کرتی تھی ۔ لیکن اب بظاہر انتخابی میدان سجنے سے قبل پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں ہی یہ تاثر دے رہی ہیں کہ مفاہمتی سیاست انتخابات کے تناظر میں غیر اہم ہوگئی ہے ۔ یہ ایک فطری بات ہے کیونکہ انتخابی میدان میں اپنے آپ کو فعال کرنے کے لیے دونوں اطراف کی قیادت کو ایک دوسرے کے صوبہ میں یہ تاثر دینا تھا کہ ہم کوئی مفاہمتی سیاست نہیں کررہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب نواز شریف سندھ اور آصف زرداری پنجاب کی سیاست میں اپنے ہونے کا سیاسی احساس دلارہے ہیں ۔
اس سے قبل پیپلز پارٹی کے نوجوان قائد بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب اور تخت لاہو رکو فتح کرنے کے حوالے سے کافی سیاسی بڑھکیں ماریں لیکن عملی طور پر وہ پنجاب کی سیاست میں کوئی بڑی سرگرمی کا آغاز نہیں کرسکے ۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان میں صلاحیت نہیں ، بلکہ اصل مسئلہ آصف زرداری کی سیاسی حکمت عملی تھی جو پنجاب میں جارحانہ سیاست کے لیے فوری طور تیار نہیں تھے ۔ اب بھی جو گرم جوشی اور بلند بانگ دعوے آصف زرداری نے لاہور میں بیٹھ کر کئے ہیں ، دیکھنا ہوگا کہ یہ محض گرم جوشی پر مبنی سیاسی نعرے ہیں یا واقعی وہ اس حکمت عملی کے تحت پنجاب میں کوئی بڑی سیاسی مہم چلانا چاہتے ہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پیپلز پارٹی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اوراس میں خود کو سیاسی میدان میں فعال کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے لیکن اس نکتہ کو پہلے تسلیم کرنا ہوگا کہ وفاق کی سیاست سے اپنے آپ کو سندھ کی سیاست تک محدود کرنے اور پنجاب سے لاتعلقی کی سیاست کا فیصلہ بھی خود آصف زرداری کا ہی تھا۔ وہ اس ناکامی کو قبول کریں کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی اگر گم ہوکر رہ گئی ہے تو اس میں غیروں سے زیادہ اپنی سیاست کا بھی دخل ہے ۔
اب بھی یہ تاثر سیاسی حلقوں میں موجود ہے کہ پس پردہ نواز شریف اور آصف زرداری میں ایک مفاہمت موجود ہے۔ یہ جو ہم کو حالیہ گرم جوشی دیکھنے کو مل رہی ہے اس کی وجہ پارٹی کی داخلی سیاست کا قیادت پر دباؤ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار کرکے سیاسی میدان میں مقابلہ کرے ۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ سابقہ انتخابات میں اسے جان بوجھ کر ہرایا گیا اور یہ عوام کی رائے سے زیادہ آر۔اوز کے نتائج تھے ۔ لیکن یہ دعویٰ سیاسی نعرہ بھی ہے ، کیونکہ یہاں ایک سیاسی روایت بن گئی ہے کہ ہارنے والا انتخابات کو پس پردہ قوتوں کا انتخاب اور جیتنے والا عوامی رائے سے جوڑتا ہے ۔ یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ پیپلز پارٹی پنجاب کی شہری سیاست میں اب وہ حیثیت نہیں رکھتی ، جو کبھی ماضی میں ہوتا تھا ۔ پیپلز پارٹی نئی نسل کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ جبکہ جو لوگ پارٹی سے وابستہ تھے وہ یا تو پارٹی چھوڑ چکے ہیں یا لاتعلق ہوکر پیچھے چلے گئے ہیں ۔
پیپلز پارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے اپنی بحالی کی صورت میں چار طرح کے چیلنجز ہیں۔ اول مضبوط مسلم لیگ (ن) جو پنجاب کی سیاست میں اپنا مضبوط اثرنفوذ رکھتی ہے ۔ دوئم تحریک انصاف جو نوجوان نسل اور عورتوں میں مقبول جماعت ہے اور اس وقت حکمران جماعت کے لیے ایک سخت سیاسی چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ۔ سوئم پیپلز پارٹی کے اندر موجود سیاسی بوجھ ہے جو اس کی مقبولیت اور ووٹ کی سیاست میں رکاوٹ ہے ۔ سندھ میں حکومت کے باوجود وہ کوئی ایسا کام نہیں کرسکی جو یہاں کے ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرسکے ۔ چہارم بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں میں بھی پارٹی اپنا اثرنفوز قائم نہیں رکھ سکی ۔ اس کے پاس مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے مقابلے میں ایسی کیا متبادل سیاست ہے جو ووٹروں کو ان کی طرف متوجہ کرسکے ۔
ماضی میں پنجاب کی سیاست بھٹو مخالف اور بھٹو نواز سیاست کے درمیان موجود تھی۔ لیکن اب نئی تقسیم اینٹی نواز شریف مخالفین یا ان کے حامیوں کی ہوگئی ہے۔ اس میں پیپلز پارٹی کہاں ہوگی، اس پر سوالیہ نشان ہے ۔ کیونکہ اگر پیپلز پارٹی سمجھ رہی ہے کہ محض سیاسی دعوؤں کے ساتھ وہ نواز شریف اور عمران خان کو پیچھے چھوڑ دے گی تو یہ خوش فہمی ہے ۔ کیونکہ پیپلز پارٹی اور بالخصوص آصف زرداری کا سیاسی بوجھ خود پارٹی کے لیے پریشان کن ہے۔ جہاں تک بلاول بھٹو کا تعلق ہے، یہ ابھی واضح نہیں کہ ان کو کس حد تک سیاسی فیصلے کرنے کی آزادی ہوگی۔ 2018 کے انتخابات کی باگ ڈور آصف زرداری نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہے اور بلاول کو ان کی پالیسی کے تابع رہ کر چلنا ہوگا۔
پانامہ کا فیصلہ بھی پنجاب کی انتخابی سیاست کے میدان پر اثر انداز ہوگا ، کیونکہ نواز شریف اور عمران خان دونوں کی سیاست کا محور پنجاب ہے اور اس فیصلے سے پنجاب کی سیاست میں کئی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔ ایک مسئلہ انتخابی اتحادوں کی سیاست کا ہے۔ نواز شریف اور عمران خان کسی سے اتحاد کرنے کی بجائے سولو فلائٹ کو ہی ترجیح دیں گے ۔ جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ(ق) ، جماعت اسلامی اور عوامی تحریک کے پاس یہی آپشن ہوگا کہ وہ ان تین بڑی جماعتوں میں خود کو کہاں کھڑا کریں اور کس سے سیاسی اتحاد کرتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی بحالی روایتی سیاست سے ممکن نہیں۔ یہ کام ایک بڑے سیاسی فریم ورک اور بڑی سیاسی حکمت عملی میں، جس میں بہت کچھ نیا ہو، وہی لوگوں میں ان کا اعتماد بحال کرسکے گی ۔ لیکن اب اس مختصر وقت میں پیپلز پارٹی اسی پرانی وکٹ پر یا پرانے روایتی نعروں اور پرانے چہروں کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتی ہے۔ یہ طریقہ کیسے کامیابی دے گا ، خود سوالیہ نشان ہے ۔ پیپلز پارٹی کا خیال ہے کہ اب وہ پنجاب میں کود پڑے ہیں تو بس سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ یہ اتنا آسان نہیں ہوگا ۔ بظاہر ان کے سامنے بڑا چیلنج جنوبی پنجاب کی سیاست میں اپنی طاقت کی بحالی ہے ۔ وہاں وہ کیسے اپنی سابقہ طاقت کو بحال کرتی ہے، یہ واقعی بڑا چیلنج ہے ۔ جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کے پاس بڑے نام ہیں لیکن یہ بڑے نام بھی کمزور سیاسی حکمت عملی میں سوائے ناکامی کے کچھ نہیں دیں سکیں گے ۔