چڑی ماروں کی اختر شماری

سنا ہے ان دنوں پاک صاف لوگوں کی سر زمین میں گائے بھینسوں کی ولدیت اور حسب نسب پرسیر حاصل بحثیں ہو رہی ہیں۔
کسی کو اچھا لگے یا برا۔
سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ گئو ، یعنی گائے ، اگر ماتا ہے تو اس کا سانڈ سے کیا رشتہ ہوگا !
ٹی وی پر فضلاء و دانشوران گرامی کے بعد اب ہما شما بھی فیس بک پراس میں الجھے ہوئے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔

پھر جیسا کہ ہما شما کا شیوہ ہے، کچھ نا ہنجار اپنی بات سے اتفاق نہ کرنے والوں کو خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیتے بھی نظر آتے ہیں۔
ہو سکتا ہے اونٹ گھوڑوں کے حسب نسب  اور ازدواجی پہچان پر بھی جلد ہی ایسی کوئی بحث شروع ہو جائے۔
لیکن  کیوں ہو۔ ان کے رشتوں میں تو ابہام پایا ہی نہیں جاتا۔
ہاں چھپکلی مارنے پر ملنےوالے ثواب  کی مقدار پر ایک روح پرور بحث  سننے کا شرف ہمیں ضرور حاصل ہو چکا ہے۔

اہل دانش بخوبی جانتے ہیں کہ جب تک اتنےاہم  اور بنیادی مسائل پر آزادانہ فضا میں کھل کربات نہ ہو گی، ملک میں ترقی و خوشحالی کے راستے ادھ کھلے ہی رہیں گے۔ 
اب دیکھیے نا ! جب پانی سے موٹر چلائی گئی تو  بجائے اس  کامیابی پر فخر کرنے کے، حاسد فوراٌ ہی میدان میں اتر کر اس سنسنی خیز عالمی دریافت پر کس طرح اس کا تمسخراڑانے لگے تھے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ لبرل فاشسٹوں کا پرانا ہتھکنڈہ ہے۔ وہ تو بھلا ہو اس عظیم سائنسدان کا جس نے ایک مسلمان ملک کے مسلمان سائنسدان انجینئر کی دریافت کو ان لبرل فاشسٹوں کے ہاتھوں ہائی جیک ہونے سے بچا لیا۔ ورنہ وہ تو اپنا کام دکھا گئے تھے۔ خدا ہم سب کو ان کے شر سے محفوظ رکھے۔

خیر چھوڑیے ایسی دل جلانے والی باتوں کو۔
ذکر ہو رہا تھا گائے اور سانڈ کی ازدواجی پہچان اور ان کے حسب نسب کا۔
بہت سے عالم فاضل اس پر بات کر چکے ۔ پر ہماری نالائقی کہ ان کی بات ہمارے دل کو لگی نہیں۔
ہاں دل کو اگر کسی کی بات لگی اوراس میں کھب گئی تو وہ اس مرد ضعیف و دانا کی بات تھی جس  نے گائے کو ماتا  تسلیم کئے جانے کی صورت میں  سانڈ کو فوراٌ پتا قرار دینے کی منطق سامنے رکھ دی ہے۔

پر صاحب کہاں۔
بے داغ کردار کے محب وطن سیاستدانوں کو تو اللہ ایسا موقع دے نمبر بنانے کا۔
پلٹ کر پوچھتے ہیں کہ بھائی ! اگر ایسا ہے تو پھر ہم جو ضرورت پڑنے پر کبھی کبھار گدھے کو باپ بنا لیتے ہیں تو اس  پر اعترض کیوں۔ کیا  کسی کوشک ہے ہماری حب الوطنی پر!
ایک چھوٹی سی پیچیدگی  کی نشاندہی البتہ اس میں ضرور کی جا رہی ہے۔
اور وہ یہ کہ مرد ضعیف و داناکی بات اگر مان لی  جائے تو نجانے  کتنے جیالے میدان میں نکل کر خود کو سرکاری سانڈ بننے کے لئے پیش کر دیں۔

چونکہ یہ سرکاری نوکری ہوگی تو حریف بھی یقیناٌ نکلیں گے۔ سب کا یکساں حق ہے اس پر۔ ایسی صورت میں دنگا فساد بھی ہو سکتا ہے  ۔
تب رد دنگا فساد کے لیے ان میں سے کچھ کو  شاید پھاٹک بھی لگانا پڑے۔
خیر ایسی چھوٹی موٹی رکاوٹیں تو زندہ قوموں کی راہ میں آتی ہی رہتی ہیں ۔ ان سے کیا گھبرانا۔
اب ایک بات جو بلا تفریق عقیدہ و ذات پات سب جاننا چاہ رہے تھے، یہ تھی کہ آخر ایسا اچھوتا خیال آیا کس کے ذہن میں۔
کچھ پتہ تو چلے کہ یہ مرد ضعیف و دانا ہے کون!

اور تب عوام االناس پر یہ خوشگوار انکشاف ہوا کہ ارے یہ تو وہی ذات شریف ہیں جن کےعلم وتبحر کی دھوم اک جہان میں ہے۔
کون سا علم ہے جو ان کی دسترس میں نہیں۔ تاریخ، فلسفہ، منطق، ادب عالیہ ، عمرانیات وغیرہ وغیرہ۔
تاریخ پر تو انہیں خاص طور سے عبور حاصل ہے۔ کہتے ہیں تاریخ کوئی فرشتے تو نہیں لکھتے۔ خود بنانی پڑتی ہے۔ لہٰذاہ جب چاہتے ہیں حسب ضرورت بدل دیتے ہیں۔
اور جب ایسا کرتے ہیں توآپ کے غنچہ دہن سے علم و فن کے موتی  پت جھڑ کے پھولوں کی طرح  جھڑنے لگتے ہیں۔ سو سو رنگ لئے۔
اور تب ان رنگوں کی بوچھاڑ میں سامنے کے خرگوشی دانتوں سے ’’  س  ‘‘ کی آواز سرک سرک  سی جاتی ہے۔

مثلاٌ اگر ان سے کہا جائے کہ  سلسلہ، سلسبیل، سپہ سالار، سلیبس  وغیرہ جیسے الفاظ دہرائیے تو کچھ شرما سے جاتے ہیں۔
ادا کریں توصوتی ہیئت کچھ اس طرح سے بدل جاتی ہے جیسے۔۔ سس سسہ ، سس سبیل، سس سے بس وغیرہ۔
ہاں اگر بہت ہی کوشش کریں تو معدوم ہوتی  ’’ تھ ‘‘ کی آواز  بھی اس میں شامل ہو جاتی  ہے ۔ جیسے تھسلسلہ، تھسے بس ، تھسس سل۔
اب ہم نے خود تو تحقیق کی  نہیں، پر ہمارے شاعر دوست پنکی مستانہ مصر ہیں کہ  ’’ س ‘‘ کی آوازیں پھسلانے والے عام طور سے پیشہ ور چڑی مار ہوتے ہیں۔

اب ظاہر ہے ہم ایسی بیہودہ ریسرچ کو کیسے مان سکتے تھے۔
جرح  کی تو بتانے لگے کی دیکھو بھائی ! چڑی ماروں کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ بیچاروں کو روزی روٹی تو کرنی ہی پڑتی ہے جس کے لئےسازشوں کی طرح پرندوں پر جال بچھانا ان کا پیشہ ٹھہرا۔ اب ہر پرندہ تو سیانا کوا ہوتا نہیں کہ جال سے بچا رہے۔ لیکن معصوم سے معصوم پرندہ بھی اتنا کودن نہیں ہوتا کہ کسی حیلے کے بغیر ہی دام میں آ جائے۔
اس کے لئے سریلی سیٹی بجانی پڑتی ہے ۔ اور وہ بھی اگلے خرگوشی دانتوں سے۔ پریہ سیٹی یونہی نہیں بجنے لگتی۔  سامنے کےدانتوں میں وقفہ، یعنی درز،  یعنی وتھ ہونی چاہیےجو کسی میں قدرت کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے ۔ کسی میں بنوانی پڑتی ہے۔ سمجھے۔

اب تم خود ہی سوچو کہ روٹی کمانے کے لئے تمہیں اگر دن بھر سیٹیاں بجانی پڑیں تو تمہارا کیا حال ہو گا۔ اور تم ایسے بے درد ہو کہ ان بیچاروں سے سلسلہ، سلسبیل جیسی آوازیں نکلوا رہے ہو ۔ کچھ شرم ہوتی ہے۔ کچھ حیا ہوتی ہے۔

ابھی ہم ان کی بے تکی باتوں کا ادراک کرنے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ پھر گرجے۔
دیکھو ! کچھ اور عادات بھی ان چڑی ماروں میں پختہ ہو جاتی ہیں۔  مثلاٌ اختر شماری۔
اب پوچھو کیوں !
وہ اس لئے کہ چڑیاں قابو کرنے کے لئے اڑتی چڑیوں کے پر گننے پڑتے ہیں۔ بس اسے پیشہ وارانہ مجبوری سمجھ لو۔

پر مسئلہ یہ ہے کہ رات میں تو چڑیاں اڑتی نہیں۔ سو ، تارے گنتے ہیں۔
اور مطلع اگر ابر آلود ہو  اور تارے بھی دکھائی نہ دیں ، تو جانتے ہو چڑی مار اختر شمار کیا کرتے ہیں ۔
ہم نے جاننا چاہا تو ایک آنکھ دباتے ہوئے بولے:
کبھی لڑکیوں کو کرکٹ کھیلتے دیکھا ہے  تم نے !
خیر چھوڑو ! کیا کرو گے جان کر۔
بس یہ کہا اور ’’ موری دھک دھک کرتی چھتیاں  رے ۔۔۔‘‘ جیسی مخرب اخلاق ٹھمری گنگاتے نجانے کدھر کو نکل گئے۔