پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت اور شعبہ فلسفہ
- تحریر ڈاکٹر ساجد علی
- جمعہ 31 / مارچ / 2017
- 5777
یکم جنوری 1979 کوپنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں تدریس کا آغاز کیا۔ دو تین برس تو خیریت سے گزر گئے۔ لیکن اس کے بعد جمعیت کے ساتھ معاملات کچھ الجھنا شروع ہو گئے۔ 1983 کا سال تھا جب ان کے ساتھ تنازعہ شروع ہوا۔
ہر تدریسی شعبے میں نئے آنے والے طلبہ و طالبات کا خیر مقدم کرنے اور جانے والوں کے اعزاز میں پارٹیاں منعقد کرنے کا رواج ہے۔ اسی زمانے میں پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت نے یہ قانون نافذ کیا ہوا تھا کہ ایسے ہر فنکشن میں یونین کے کسی عہدے دار کو مہمان خصوصی بنایا جائے گا۔ ایک دن میں صدر شعبہ کے دفتر میں داخل ہوا تو وہاں ایک طالبہ ، جو اپنا تعلق جمعیت سے بتاتی تھی، صدر شعبہ سے کہہ رہی تھی کہ شعبے میں نئے طلبہ و طالبات کے لیے جو خیر مقدمی تقریب ہو رہی ہے ہم اس میں وائس چانسلر صاحب کو مدعو کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ وائس چانسلر صاحب کو مدعو کرنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آپ پہلے ان سے تاریخ لیتے ہیں اور پھر تقریب کا اعلان کرتے ہیں۔ کل تقریب ہو رہی ہے اور آج یہ کہا جا رہا ہے کہ وائس چانسلر صاحب کو مدعو کرنا ہے جو آداب کے منافی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کل وائس چانسلر صاحب یہاں ہوں گے بھی نہیں۔ یہ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ دراصل یونین کے صدر امیر العظیم کو مہمان خصوصی بنانا چاہتے تھے۔ جب انہوں نے شعبے میں امور طلبہ کے انچارج استاد سے یہ بات کی تو انہوں نے دوٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ اگر آپ نے انہیں مدعو کیا تو میں تقریب میں نہیں آؤں گا۔
اگلی صبح میں شعبے کی لائبریری میں ایک کونے میں بیٹھا ہوا اخبار پڑھ رہا تھا کہ یونین کے سیکریٹری صاحب چند طلبہ کے ساتھ لائبریری میں داخل ہوئے اور شعبے کے طلبہ کے سامنے میرے خلاف تقریر کرنا شروع کردی۔ اس پر ایک طالب علم نے کہا کہ شعبے میں اور اساتذہ بھی تو ہیں آپ صرف ساجد صاحب کو سارا الزام کیوں دے رہے ہیں۔ تو سیکریٹری صاحب نے جواب دیا کہ ہمیں سب پتہ ہے کہ کون یہ کر رہا ہے اور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کے بعد وہ صدر شعبہ کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ یہاں کسی بھی تقریب میں یونین کے صدر کو مہمان خصوصی بنانا لازمی ہے لیکن صدر شعبہ نے یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ہمارے شعبہ کی بہت نجی سی تقریب ہوتی ہے اور ہماری یہ روایت نہیں کہ اس میں باہر کے افراد کو مدعو کیا جائے۔ تاہم وہ دھمکی دے کر چلے گئے کہ ہم تقریب میں آئیں گے اور دیکھیں گے کہ کون ہمیں روکتا ہے۔ اس کے جانے کے بعد صدر شعبہ نے مجھے بلایا کہ اس صورت حال سے کس طرح نمٹا جائے۔ میں نے مشورہ دیا کہ ہم تقریب کینسل کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹوڈنٹس نے جو کھانے کا بندوبست کیا ہوا ہے اس کا کیا ہوگا۔ میں نے کہا کہ وہ کھا پی لیں گے لیکن تقریب کو منسوخ کر دیا جائے۔ ابھی ہم یہ بات کر ہی رہے تھے کہ وائس چانسلر صاحب کا فون آ گیا اور صدر شعبہ سے دریافت کیا کہ آپ کے شعبے میں کیا مسئلہ ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہم نے فنکشن منسوخ کر دیا ہے۔ اس پر وائس چانسلر صاحب نے کہا کہ بس دیکھ لیجیے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ صدر شعبہ نے جواب دیا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ جب یونینوں پر پابندی لگی تو اس کے بعد ہر تقریب میں جمعیت کے ناظم کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنا لازم کر دیا گیا لیکن شعبہ فلسفہ کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ اس کے کسی فنکشن میں جمعیت کے کسی فرد کو کبھی مہمان کے طور پر شریک ہونے کا موقع نہیں ملا۔
اس واقعہ کے کچھ ہفتے بعد ایک صبح جب میں شعبہ میں داخل ہوا تو دیواروں پر چار روزہ تفریحی ٹور کے پوسٹر لگے ہوئے تھے۔ میں نے صدر شعبہ سے پوچھا کہ آیا ٹور کی اجازت انہوں نے دی ہے تو انہوں نے کسی ٹور کے پروگرام سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس زمانے میں جونیر اور ینگ ہونے کے ناتے ان تفریحی دوروں پر میں ہی سٹوڈنٹس کے ساتھ جایا کرتا تھا۔ میں نے صدر شعبہ سے کہا کہ یہ پوسٹر بلا اجازت لگائے گئے ہیں اس لیے میں ساتھ نہیں جاؤں گا۔ صدر شعبہ نے جمعیت کے ناظم کو بلایا اور پوچھا کہ آپ نے یہ پوسٹر کس کی اجازت سے لگائے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ ان تاریخوں میں اساتذہ فارغ نہیں ہیں۔ اس لیے ٹرپ ایک ماہ بعد جائے گا۔ ناظم نے بلا اجازت پوسٹر لگانے پر معذرت کی اور کہا کہ ہم ابھی انہیں اتار دیتے ہیں۔ لیکن پوسٹر اتارنے کے بعد انہی تاریخوں میں ٹرپ لے جانے کی ایک درخواست لکھ کر لے آیا۔ اس پر صدر شعبہ نے اسے کہا کہ آپ کو پہلے بتا دیا گیا ہے کہ ان تاریخوں پر ٹرپ نہیں جا سکتا اس کے باوجود آپ انہی تاریخوں کی درخواست لے کر آ گئے ہیں۔
اب جمعیت والے اڑ گئے کہ ٹور انہی تاریخوں کو جائے گا۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں حکومت کی جانب سے ایک مراسلہ آیا ہوا تھا کہ کلاس روم میں تدریس کے علاوہ اور کوئی مخلوط سرگرمی نہیں ہو سکتی۔ ہم نے جان چھڑانے کی خاطراس مراسلے کو بنیاد بناتے ہوئے جمعیت والوں کو کہہ دیا کہ ٹرپ ایک مہینہ بعد جائے گا اور لڑکے اور لڑکیوں کا علیحدہ علیحدہ جائے گا۔ اب تماشا یہ ہوا کہ ایک دن پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر جناب امیر العظیم شعبہ میں امور طلبہ کے انچارج استاد کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ لڑکے اور لڑکیوں کااکٹھا ٹرپ لے جایا جائے۔ وہ استاد یہ سن کر حیران رہ گئے اور ان کی زبان سے بے ساختہ یہ جملہ ادا ہوا کہ آپ لوگوں کا کوئی دین ایمان ہے یا نہیں؟
خیر تقریباً ایک ہفتہ تک یہ کشمکش چلتی رہی۔ ایک دن مغرب کے وقت صدر شعبہ میرے پاس ہوسٹل نمبر دس، ٹیچرز ہوسٹل، میں تشریف لائے اور مجھے کہا کہ جمعیت والے کسی اور شعبے کے استاد کی معیت میں ٹرپ کل صبح لے جا رہے ہیں۔ اب کیا کیا جائے۔ میں نے مشورہ دیاکہ ہمیں یونیورسٹی کی انتظامیہ کو مطلع کر دینا چاہیے کیونکہ انہوں نے بعد میں ذمہ داری ہمارے سر ڈال دینی ہے۔ ہم نیو کیمپس کی رہائشی کالونی میں آرٹس فیکلٹی کے ڈین صاحب کے گھر گئے اور انہیں ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ ہماری بات سن کر وہ کہنے لگے کہ میں اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا لیکن میں آپ کو وائس چانسلر صاحب کے پاس لے چلتا ہوں اور آپ لوگ ساری صورت حال انہیں بتا دیجیے۔ وہ ہمیں اپنی کار میں وائس چانسلر ہاؤس لے گئے۔ وہاں دو تین اساتذہ اور بھی موجود تھے۔ صدر شعبہ نے وائس چانسلر کو تمام واقعات بیان کیے اور یہ بھی کہا کہ ہم نے طلبہ اور طالبات کے علیحدہ علیحدہ ٹرپ لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات سن کر وائس چانسلر صاحب نے ایک استہزائیہ قہقہہ لگایا۔ ان کا مطلب تھا کہ یہ تو ٹرپ نہ لے جانے والی بات ہوئی۔ وائس چانسلر صاحب کا فرمانا تھا یہ مناسب نہیں لگتا کہ کسی اور شعبے کا استاد ٹرپ کے ساتھ جائے۔ آپ اپنے شعبے کے کسی استاد کی ڈیوٹی لگائیں کہ وہ ساتھ جائے۔ صدر شعبہ کے جواب دینے سے پہلے میں بول پڑا کہ سیر و تفریح کرانا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ ایک بہت جونیئر لیکچرر کی زبان سے یہ جواب سن کر ان کا چہرہ لال سرخ ہو گیا لیکن جہاں دیدہ اور فہیم انسان ہونے کی وجہ سے وہ غصے کوپی گئے۔ وائس چانسلر صاحب کا موڈ دیکھ کر وہاں موجود اساتذہ بھی ہاں میں ہاں ملانے لگے کہ آپ لوگ ٹرپ لے جائیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔
ابھی یہ بات ہو رہی تھی اور وائس چانسلر صاحب مسلسل یہی کہہ رہے تھے کہ شعبے کے کسی استاد کو ہی ساتھ جانا چاہیے کہ اتنے میں دروازہ کھلا اور امیر العظیم صاحب اندر داخل ہوئے۔ انہیں دیکھ کر وائس چانسلر صاحب کا چہرہ کھل اٹھا اور کہنے لگے کہ لیجئے آپ کا مسئلہ حل ہو گیا۔ انہوں نے امیر العظیم سے دریافت کیا کہ فلسفے کے ٹرپ کا کیا مسئلہ ہے۔ صدر یونین نے جواب دیا کہ کوئی مسئلہ نہیں، ٹرپ صبح جا رہا ہے۔ وائس چانسلر صاحب نے پوچھا کہ ساتھ کون جا رہا ہے تو صدر کا جواب تھا کہ فلاں استاد ساتھ جا رہے ہیں۔ اس پر وائس چانسلر صاحب نے کہا کہ نہیں وہ تو بہت ینگ ہے، کسی سینیر استاد کو ساتھ جانا چاہیے۔ اس پر امیر العظیم نے ایک اور استاد کا نام لیا کہ پہلے ہم نے ان سے درخواست کی تھی۔ یہ نام سن کر وائس چانسلر صاحب بہت خوش ہوئے کہ بہت اچھی بات ہے۔ ان سے کہیں کہ وہ اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے جائیں جو طالبات کا خیال رکھے گی۔ میں نے جمعیت کے رعب اور دبدبے کے متعلق سن تو بہت کچھ رکھا تھا لیکن اس کا مظاہرہ اپنی آنکھوں سے پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ عبرت کا مقام تھا کہ وائس چانسلر صاحب ہمیں تو اصرار کر رہے تھے کہ شعبہ فلسفہ کے استاد کو ہی ساتھ جانا چاہیے مگر یہ بات انہیں صدر یونین سے کہنے کی جرآت نہیں ہوئی تھی۔ اگلے دن شعبہ فلسفہ کا ٹرپ صحافت کے ایک استاد کے ساتھ روانہ ہوا۔
1991 کا سال تھا جب شعبہ فلسفہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جن سٹوڈنٹس کے لیکچر مطلوبہ تعداد سے کم ہوں گے ان کا امتحانی داخلہ نہیں بھیجا جائے گا۔ تعلیمی سال کے آغاز پر اس فیصلے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس وقت پنجاب یونیورسٹی میں ایسی کوئی روایت نہیں تھی اس لیے کسی کو بھی یقین نہیں آیا کہ ایسا کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ ہم ہر مہینے تمام کلاس کی حاضریوں کو نوٹس بورڈ پر آویزاں کرتے رہے۔ سال کے اختتام پر جب سٹاف میٹنگ ہوئی تو میں نے تمام اساتذہ کو آئندہ پیش آنے والی صورت حال پر بریف کیا کہ اس اقدام کے نتیجے میں آپ کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے اور آپ کو کس طوفان بدتمیزی کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس لیے سب لوگ ٹھنڈے دل سے اس پر فیصلہ کریں کیونکہ قدم اٹھانے کے بعد واپسی کا میں قائل نہیں ہوں۔ شعبہ فلسفہ کا ایک امتیاز یہ بھی رہا ہے کہ سب اساتذہ مختلف خیالات و نظریات کے حامل ہونے کے باوجود شعبہ کے معاملات اتفاق رائے سے طے کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف کسی سازش میں ملوث نہیں ہوا کرتے تھے۔ یہی سبب تھا کہ ہم لوگ اپنے فیصلوں کو منوانے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ سب اساتذہ نے فیصلہ کیا کہ ہم اس فیصلے پر عمل درآمد کریں گے اور اس کے جو بھی نتائج ہوں گے ان کا سامنا کریں گے۔
اب حاضریوں کا حساب کیا گیا توکئی طلبہ و طالبات کے لیکچر مطلوبہ تعداد سے کم تھے اور ان میں جمعیت کے ناظم بھی شامل تھے۔ جن طلبہ کا داخلہ روکا جانا تھا جب ان کے نام نوٹس بورڈ پر آویزاں کیے گئے تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ تاہم ابتدا میں جمعیت نے ان سٹوڈنٹس کو یقین دلایا کہ ہمارے ہوتے کسی میں یہ جرآت نہیں ہو سکتی کہ وہ داخلہ روک سکے۔ انہی دنوں اساتذہ کے ایک گروپ کے ساتھ مجھے وائس چانسلر ڈاکٹر منیر الدین چغتائی کے ساتھ ملاقات کا موقع میسر آیا۔ چغتائی صاحب نے مجھے پوچھا کہ آپ کے شعبے میں کوئی مسئلہ ہے؟ میرا جواب تھا کہ کوئی مسئلہ نہیں۔ فرمانے لگے کہ آپ لوگوں نے سٹوڈنٹس کے داخلے روکے ہیں جس پر میرا جواب ہاں میں تھا۔ چغتائی صاحب نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ یونیورسٹی کیلنڈر میں لکھا ہوا ہے۔ کہنے لگے وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ روایت نہیں ہے۔ آپ لوگ ایکسٹرا کلاسیں لے کر ان کے لیکچر پورے کروا دیں۔ میں نے کہا کہ یہ تو اساتذہ کو سزا دینے والی بات ہے۔ اس پر انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ سٹوڈنٹس سے اسائنمنٹس لکھوا کر ان کے لیکچر پورے کر دیے جائیں۔ میں نے کہا کہ سر آپ ایک نوٹیفیکیشن نکال دیجیے کہ اسائنمٹس لیکچرز کا بدل ہو سکتی ہیں تو ہم ضرور ایسا کر لیں گے۔ اس پر وائس چانسلر صاحب خاموش ہو گئے۔
جب جمعیت والوں نے دیکھا کہ شعبے والے سچ مچ سیریس ہو گئے ہیں تو ہمارے خلاف پوسٹر لگنا شروع ہو گئے جن پر طرح طرح کے الزامات لکھے ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ گھی کا ایک خالی ٹین بھی ڈیپارٹمنٹ میں لٹکا دیا گیا۔ قصہ یہ تھا کہ اس وقت شعبے میں ایک طالب علم تھا جس کی گھی کی مل تھی اور اس نے کسی وقت دفتری سٹاف کو گھی کے ڈبے لا کر دیے تھے۔ مجھے تو خیر اس قسم کی حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ زمانہ طالب علمی میں ان تماشوں سے بہت دوچار ہو چکا تھا مگر ہمارے صدر شعبہ انتہائی خلیق، مرنجاں مرنج انسان تھے جو ساری عمر تنازعات سے دور ہی رہے تھے۔ وہ اس طوفان بدتمیزی پر بہت پریشان ہوئے اور ایک دن مجھے کہنے لگے کہ پوسٹر اور ٹین اتروا نہ دیں۔ اس پر میرا جواب تھا کہ پوسٹر اتروانے سے انہیں یہ تاثر ملے گا کہ ہم ڈر گئے ہیں یا ان حرکتوں سے پریشان ہو رہے ہیں تو ان کو اور شہہ ملے گی ۔ ایک دن کیا ہوا کہ وہ ٹین کسی وجہ سے گر گیا۔ اگلی صبح جب ہم شعبے میں پہنچے تو ایک رسی کے ساتھ سات آٹھ ٹین لٹک رہے تھے۔ تب صدر شعبہ کو میری بات کا یقین آیا۔ میرا موقف یہ تھا کہ ہمیں ان شنیع حرکات کو نظر انداز کرنا چاہیے اور اپنی بات پر قائم رہنا چاہیے۔
جمعیت کی قیادت کے افراد روزانہ ہمارے پاس آتے۔ گفتگو کا آغاز لجاجت سے کرتے اور انجام دھمکیوں پر ہوتا۔ زیادہ صدمے کی بات یہ تھی کہ یونیورسٹی انتظامیہ مکمل طور پر جمعیت کا ساتھ دے رہی تھی اور صدر شعبہ پر دباؤ ڈال رہی تھی۔ میں نے ان کو ابتدا میں بتا دیا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب وائس چانسلر صاحب آپ سے یہ کہیں گے کہ اگر آپ داخلے بھیجنے پر رضامند نہیں ہیں تو پھر آپ استعفیٰ دے دیں۔ اس صورت میں آپ نے استعفیٰ نہیں دینا بلکہ ان سے یہ کہنا ہے کہ آپ مجھے شعبے کی صدارت کے منصب سے ہٹا دیں۔
جمعیت کے رعب اور دبدبے کے پیش نظر کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ ہم اپنے اس اقدام میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ہمارا ایک بہت ذہین طالب علم تھا جو ہوسٹل میں جمعیت کے تشدد کا نشانہ بن چکا تھا، مجھے کہنے لگا کہ سر داخلہ تو جانا ہی ہے، بس اتنا ہے کہ آپ کچھ رلا کر بھیجیں گے۔ میں نے کہا کہ تم یہی سمجھتے ہو۔ اس نے کہا کہ یہاں جمعیت کے خلاف کچھ نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ اچھا بس دیکھتے جاؤ۔ ایک دن آرٹس فیکلٹی کے ڈین صاحب راستے میں مل گئے۔ مجھے کہنے لگے کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں۔ یہاں وہی ہوتا ہے جو جمعیت چاہتی ہے۔ میں نے جواب دیا کہ سر آپ بس انتظار کیجیے، اس بار کچھ مختلف ہوگا۔
جب تمام دھمکیوں اور دھونس کا کوئی نتیجہ نہ نکلاتو بالآخر ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی گئی لیکن وہ رٹ بھی پہلی ہی پیشی پر خارج ہو گئی کیونکہ ہماری کاغذی کارروائی مکمل اور قانون کے مطابق تھی۔ جب امتحان میں دو دن رہ گئے تو وائس چانسلر صاحب نے ایک حکم جاری کیا کہ ان طلبہ کے داخلہ فارم بھیج دیے جائیں لیکن صدر شعبہ نے اس حکم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے وائس چانسلر صاحب کو ایک پیغام بھیجا کہ عدالت میں جو رٹ فائل کی گئی تھی اس میں آپ کا نام جواب دہندگان میں پہلے نمبر پر تھا اور عدالت میں جو بھی بیان دیا گیا تھا وہ یونیورسٹی کی جانب سے تھا۔ اب اگر آپ اس قسم کا حکم دیں گے تو میں آپ پر توہین عدالت کا کیس دائر کر دوں گا۔ چغتائی صاحب نے بعد میں میرے ایک سینیردوست کے ساتھ بہت گلہ کیا کہ میں نے انہیں اس قسم کا غیر معقول اور نامناسب پیغام بھیجا تھا۔
اس وقت یہ جمعیت کی پہلی بڑی شکست تھی۔ وہ تمام تر حربے آزمانے کے باوجود بھی شعبہ فلسفہ کے اساتذہ کو جھکانے، ڈرانے میں کامیاب نہ ہو سکے تھے۔ اگرچہ اس کا خمیازہ مجھے اورایک اور رفیق کار کو بہت زیادہ بھگتنا پڑا تھا۔ اسے تو نوکری سے نکلوانے کا پورا بندوبست کر لیا گیا تھا لیکن انہیں اس میں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ تاہم شعبہ فلسفہ کی دھاک پوری یونیورسٹی پر بیٹھ گئی تھی۔