دیکھا بھالا اندازِ سیاست
- تحریر
- جمعہ 31 / مارچ / 2017
- 4043
بازارِ سیاست میں گرمی کی پیشین گوئی تو کچھ عرصے سے کی جا رہی تھی لیکن اس قدرگرمی کہ دماغ پگھل جائے اور زبان خشک ہو جائے ، اس کا اندازہ کسی کو نہ تھا۔ آنے والا ہر دن اپنے حصے کی نئی اور تازہ دم شعلہ بیانیاں لے کر آتا ہے۔ پڑھنے اور سننے والوں کی خیر ہو ، لگ یہی رہا ہے کہ گرمیِ بازارِ سیاست میں یہ موسم کم از کم سال بھر تو ٹھہرے گا کہ الیکشن کا سال ہے اور اگلے پانچ سال کے اقتدار کا سوال ہے۔
اس گرما گرمی میں پانامہ کیس کے فیصلے پر قیاس آرائیوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔ کچھ احباب کو اس فیصلے کے بعد بھی راوی چین ہی چین لکھتا دکھائی دے رہا ہے لیکن کچھ ہیں کہ انہیں اس فیصلے کے بعد ایک نیا جہان پیدا ہونے کا یقین چین نہیں لینے دیتا۔ اس دوران وطن عزیز میں کئی پریشان کن خبریں سامنے آئیں لیکن سبھی گرمیِ سیاست کی حدت میں یوں پگھلے رہے کہ ان خبروں پر کم ہی کسی کا دھیان گیا۔ موسم گرما آنے کا یوں تو سورج کی تمازت سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے لیکن اب کچھ عرصے سے دو اور واقعات بھی اس کے آنے پہ باقاعدگی سے رونما ہو تے ہیں : لوڈ شیڈنگ اور پانی کی قلت۔
چند ہفتے پہلے ہی کی بات ہے کہ ہم نے ایک اشتہاری مہم سے یہ جانا کہ وزارت پانی اور بجلی کی مہارت اور دلسوزی کے نتیجے میں چند نئے پیداواری منصوبوں کی لاگت میں اربوں روپوں کی بچت ممکن بنائی گئی۔ یہ بھی مسلسل سنا کہ کئی ایک پیداواری منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔ کچھ اس سال اور کچھ اگلے سال کے اوائل میں، اور بقول وزیر مملکت عابد شیر علی اگلے سال لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ہمیں اعتراف ہے کہ عابد شیرعلی اور حکومت کے ایسے ذمہ داران کے بیانات سنتے سنتے ہم نے لوڈ شیڈنگ کو ہلکا لینا شروع کر دیا۔ ایک ہم ہی کیا ہمارے احباب میں سے اکثر ہمارے ہم خیال تھے۔ ہمارے بزرگ دوست مظہر اخلاق نے تو اپنے یو پی ایس کی ری سیل مارکیٹ ویلیو کا تخمینہ بھی لگانا شروع کر دیا۔ بھئی اگلے سال اسے کون خریدے گا جب لوڈ شیڈنگ زیرو ہو جائے گی۔ اگلے سال زیرو سے پہلے اس سال بھی لوڈ شیڈنگ اس قدر کم ہو سکتی ہے کہ اس یو پی ایس کے بغیر بھی گزارا ہو جائے گا۔ ابھی ان کے یو پی ایس بکنے کی نوبت نہیں آئی تھی کہ اب انہیں دوبارہ اسے سنبھالنے کی ضرورت پڑ گئی کہ موسم گرما شروع ہوا تو لوڈ شیڈنگ اسی آب و تاب سے پھر سے آن موجود ہوئی!
لوڈ شیڈنگ کی آمد کی شہ سرخی کچھ یوں جمی ، لوڈ شیڈنگ میں کمی کے دعوے فارغ، چھ سے بارہ گھنٹے بجلی بند، گرمی کے آغاز پر ہی شارٹ فال چار ہزار میگا واٹ ہو گیا۔ کئی علاقوں میں یہ دورانیہ سولہ سے اٹھارہ گھنٹے بتایا گیا۔ وجہ وہی جانی پہچانی بتائی گئی کہ ناقص منصوبہ بندی کے باعث دو پاور پلانٹس بند جبکہ دیگر کم بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ ہم پیش بینی کے فن میں ہرگز طاق نہیں لیکن گزشتہ چند مہینوں سے گردشی قرضوں کی تفصیلات جس انداز سے گردش کر رہی تھیں، اس سے ہمارا ماتھا ٹھنکا تھا کہ اور کچھ ہو نہ ہو اس چکر میں لوڈ شیڈنگ پھر سے چکر لگانا شروع کر دے گی۔ ان گردشی قرضوں کی سنگینی پر وزراء کے بیانات سے اندازہ ہوا کہ دشمن نے ہوائی اڑائی ہے۔ اس ہوائی میں کچھ تھوڑا بہت سچ اپنی جگہ لیکن آئی پی پی کے مالکان نے یوں سر عام حکومت پر طعن و تشنیع کی مہم چلا کر نامناسب کیا۔ بلکہ مقتدر حلقوں میں اس مہم کا سخت برا منایا گیا۔ کہاں حکومت نے بڑی مشکل یہ باور کروایا کہ اب لوڈ شیڈنگ ، لائن لاسز اور واجبات پر کنٹرول مستحکم ہو گیا ہے اور کہاں یہ جوابی دعوے کہ ہماری تہی دامنی ہی ہماری فریاد ہے۔ ہمیں نہیں معلوم اس میں کتنا سچ ہے اور کتنا مبالغہ لیکن یہ ضرور ہوا کہ دھم سے وارد ہوئی لوڈ شیڈنگ نے منظر ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
انہی دنوں ایک اور شارٹیج بھی آن وارد ہوئی ۔ گو اس کے ذکر خیر میں لوڈ شیڈنگ جیسا زور شور نہ تھا لیکن اس کے دور رس اثرات اس سے کم بھی نہیں۔ رواں ہفتے میں ارسا یعنی انڈس واٹر سسٹم اتھارٹی کا اجلاس ہوا تو عقدہ کھلا کہ اس بار خریف کی فصل کے لیے پانی کی دستیابی 35% کم ہوگی۔ ارسا کے ضوابط کے تحت صوبہ کے پی کے اور بلوچستان پانی کی راشن بندی سے مستثنیٰ ہیں۔ سندھ کے نمائندے کا اس صورتحال کے ہیش نظر اصرار تھا کہ ڈیموں میں ذخیرہ کرنے کی بجائے فوری طور پر پانی کی ممکنہ مقدار فراہم کی جائے ورنہ خریف کی فصل پر تباہ کن اثرات ہوں گے۔ حتمی فیصلہ رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔
پانی کی شارٹیج ملک کی زراعت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مزاحمت میں ناکامی کا رخ پاکستان دشمنی کی طرف موڑ دیا۔ جنگ اور امن کے باوجود سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کی روایت کو ایک طرف رکھتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے پانی کو اس دشمنی میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ مزید ڈیم بنانے اور پہلے ہی سے زیر تعمیر متنازعہ ڈیمز کی تعمیر میں تیزی لائی گئی۔ ایک مرحلے پر تو اس معاہدے سے فرار کی دھمکی بھی دے ڈالی گئی لیکن پھر خاموش سفارتکاری نے اپنا کام دکھایا۔ لیت و لعل کے بعد بالآخر رواں ماہ بھارت کا وفد اسلام آباد مذاکرات کے لیے آیا اور یوں اس معاہدے پر چھائے بے یقینی کے بادل کچھ چھٹے تو ہیں۔
وقتی طور پر یہ بے یقینی ضرور ٹلی ہے لیکن یہ امر اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پانی کی قلت آنے والے سالوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں کانٹا بنی رہے گی اور پاکستان کی زراعت کے سر پر بھی اس کے اثرات منڈلاتے رہیں گے۔ پانی کی قلت کے لیے مزید ذخیرے بنانے کی افادیت اور ضرورت اپنی جگہ مگر پانی کے استعمال میں کفایت کے لیے ایسی فصلوں اور بیجوں کے انتخاب اور تحقیق اور موزوں نئے زرعی طور طریقے اختیار کرنا وقت کی اہم ترین ترجیح ہونی چاہیے جن کے لیے پانی کی کم ضرورت ہو۔ زراعت کے علاوہ بڑے شہروں میں بھی پانی کا مسئلہ سنگین ہو رہا ہے۔ کراچی کے بعد اب اسلام آباد میں بھی پانی کی قلت کا جادو سر پڑھ کر بول رہا ہے۔
زراعت ہو یا شہر، پانی کی کفایت کو زندگی اور معمولات کا خاصہ بنانا ضروری سہی لیکن فی الحال اس کی نوبت آنے کا امکان کم ہی دکھائی دے رہا ہے۔ بازارِ سیاست کی گرمی کے سامنے کون کم بخت بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور اس کے پس پردہ محرکات پر سنجیدگی سے غور کرے اور کیوں کرے۔ سیاست پر گفتگو ریٹنگ بھی لاتی ہے اور رونق بھی۔ پانی کی کفایت پر گفتگو بھی کون سنے گا جب سیاست میں ایک سے بڑھ کر ایک پھڑکتا ہو ا موضوع موجود ہو۔ سو ہم بھی یکسو ہو کر انتظار میں بیٹھ گئے ہیں کہ ہتھکڑیا ں اترنے کے بعد اب سیاست میں کیا کیا نیا ہو گا۔ 479 ارب روپے کے مقدمات میں ضمانت کے بعد داکٹر عاصم کی رہائی سیاست کو کیا نئی راہ دکھائے گی۔ گو عمران خان کے بقول سب کیا دھرا ڈیل کا ہے۔ جبکہ پی پی پی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے اعصاب پر زرداری کا خوف سوار ہے۔
ہو سکتا ہے ہمارا وہم ہی ہو لیکن دیکھے بھالے اس اندازِ سیاست سے ہمیں خوف سا آرہا ہے جہاں الزامات کے نقار خانے میں مسائل کے طوطی کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ اسّی کے دہائی کے آخر، نوّے کی پوری دِہائی اور سال دو ہزار کے بعد سے لے کے اب تک یہی انداز سیاست دیکھا کہ سمجھ دار سیاست دان مسائل کے حل اور اپنی کارکردگی کا میدان سجانے کی بجائے الزامات کا بازار سجانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ میڈیا نے بھی اس بازار کی رونق سے اپنی رونق لگا رکھی ہے ۔ ایسے میں کون سنے سنائے کہ بجلی کی پیداوار اور ترسیل میں کیا مسائل ہیں اور کیوں کر حل ہوں گے۔ کون جی ہلکان کرے کہ پانی کی دستیابی ایک مسئلہ سہی لیکن اس کی کفایت کے اقدامات سوچنے سے کس نے منع کیا ہے۔ بازرِ سیاست کی خیر ہو، کبھی کوئی وقت بچا تو باقی معاملات کو بھی دیکھ لیں گے۔