مسگار کی ماروی
- تحریر حفصہ سرفراز
- جمعہ 31 / مارچ / 2017
- 4976
تحریر: حفصہ سرفراز
ترجمہ: زنیرہ ثاقب
(مجھے 2011 میں اس کہانی کی مرکزی کردار ماروی اور لکھاری حفصہ دونوں کو پڑھانے کا ا عزاز حاصل ہوا.. ایک استاد کے لئے اس سے زیادہ فخر کی بات کوئی نہیں ہو سکتی کہ اس کے طالب علم دنیا کی بہتری میں اپنا خوبصورت کردار ادا کر رہے ہیں. مترجم: زنیرہ ثاقب)
(یہ مضمون 29 مارچ 2017 کو ایکسپرس ٹریبیون مین شائع ہؤا)
اپنی نوکری کسی مقصد کے لئے چھوڑ دینے کی باتیں تو بہت لوگ کرتے ہیں لیکن اس دنیا میں چند ہی لوگ ہیں جو حقیقت میں یہ فیصلہ لے پاتے ہیں. خاص کر اس وقت جب نوکری آپ کو زبردست مراعات اور تنخواہ دے رہی ہو اور آپ کو اپنا کیریئر ایک شاندادر نہج میں جاتا دکھائی دے رہا ہو. اور مقصد بھی کیا؟ وہ مقصد جس میں آپ کو اپنی نوکری، آرام دہ گھر، اور ترقی یافتہ شہر چھوڑ کر مسگار جانا ہو۔ گلگت بلتستان میں واقعی ایک چھوٹا سا خوبصورت قصبہ جس کا باہر کی دنیا سے تعلق نہ ہونے کے برابر ہو ۔ کون کر سکتا ہے یہ۔ یہی وہ کام ہے جو ماروی نے کر دکھایا۔
ماروی، 26 سال کی ایک لڑکی، جس نے اپنی سافٹ ویئر انجنیئر کی نوکری چھوڑی اور مسگار کی راہ پکڑی تاکہ وہاں اسکول کے بچوں کو پڑھا سکے. ماروی کا مقصد بہت سادہ لیکن بہت طاقتور تھا۔ سیدھے سادھے الفاظ میں وہ اسکول کے بچوں اور کمیونٹیز کو بااختیار بنانا چاہتی تھی. یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ایک لمبا اور تھکا دینے والا عمل ہے۔ اس بڑے مقصد کے لئے ماروی نے ایک مقامی اسکول کے ساتھ مل کر کام شروع کیا ۔ تعلیم میں اصلاحات لانے کا عمل بچوں اور نوعمروں میں تعلیم اور آرٹ کے فروغ کے ساتھ شروع کر دیا گیا۔
سومرو کی کہانی خوبصوت اور متاثر کن ہے اس لئے نہیں کہ یہ ایک منفرد کہانی ہے بلکہ اس لئے یہ سومرو ایک ماہر تعلیم نہیں ہے۔ یہ لڑکی کمپیوٹر سائنسز کے شعبے سے تعلق رکھتی ہے۔ 2012 میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے اوریکل کنسلٹنٹ کے طور اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ کچھ ہی عرصے میں ترقی کی منزلیں طے کرتی ماروی نے پروجیکٹس کو لیڈ کر نا شروع کر دیا۔ اپنی کمپنی کی طرف سے اس کو بیرون ملک بھی بھیجا گیا۔ 26 سال کی یہ لڑکی اپنی عمر سے کہیں زیادہ سمجھدار اور کہیں زیادہ حساس ہے۔ جس عمر میں نوجوانوں کو پیسہ اپنی طرف کھینچتا ہے، اس عمر میں اس نے اپنی نوکری اس لئے چھوڑ دی کیوں کہ یہ بھیڑ چال میں سراب کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہتی تھی۔
2016 کا سال ماروی کے لئے تبدیلی کا سال ثابت ہوا۔ ایک آرٹ پروجیکٹ کے لئے اس کو مسگار جانے کا موقع ملا۔ مسگار کی چھوٹی سی وادی 150 گھروں پر مشتمل ہے۔ یہاں لوگوں کے گھر مٹی سے بنے ہوئے ہیں اور کھانا لکڑیوں پر پکتا ہے ۔ گاؤں کی معشیت بھیڑ بکریوں پر چلتی ہے۔ لوگ سادہ اور خوبصورت ہیں۔ وادی اپنی بجلی خود پیدا کرتی ہے اور اس لحاظ سے خود کفیل ہے۔ مسگار کی خوبصورتی اور سادگی نے ماروی کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ یہاں مزید کچھ دیر رکے گی ۔ ماروی کا تجربہ خود ماروی کی زبان سنئے:
“ شاید میری فطرت حساس ہے اس لئے مجھے اپنے ارد گرد کے حالات دیکھ کر ہمیشہ مایوسی ہوتی تھی۔ میں نے چار سال کارپوریٹ سیکٹر کے لئے کام کیا۔ معاشرے کے مطابق میں بہت اچھے پیسے کما رہی تھی اور کیریئر کی سیڑھیاں بھی چڑھتی جا رہی تھی۔ لیکن سچ تو یہ ہے میں خوش نہیں تھی۔ مجھے ہمیشہ لگا یہ کافی نہیں ہے۔ ہاں میں اچھے پیسے کما رہی تھی لیکن شاید میں صرف ایک کمپنی کو مزید امیر ہونے میں مدد دے رہی تھی۔ میری وہاں غیر موجودگی سے کیا فرق پڑتا۔ میری جگہ کوئی بھی اور کام کر سکتا تھا۔ مجھے کہیں اور ہونا چاہیے جہاں میرے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق پڑے۔ میں نے اپنی نوکری ایک بہتر مقصد کے لئے چھوڑ دی۔ مسگار کے لوگ قدیم ہیں اور بہت کھلے دل و دماغ کے مالک۔ میں نے یہاں آ کر کبھی اپنے آپ کو ان لوگوں سے الگ محسوس نہیں کیا۔ میں اب بھی جینز اور سویٹر پہن کر پھرتی ہوں اور اتنا ہی آرام دہ اور پرسکون محسوس کرتی ہوں جیسے کہ اسلام آباد میں کرتی تھی۔ مجھے یہاں کسی نے مجبور نہیں کیا کہ میں اپنے آپ کو مقامی رسم و رواج کے مطابق ڈھالوں۔ جب آپ ایک چھوٹی سی برادری میں رہتے ہیں تو ان کی رسمیں اور کہانیاں آپ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ مسگار! ایک خوبصورت برادری اور اس سے بھی زیادہ خوبصورت لوگ۔ جب میں پہلی دفع یہاں آئی تو مجھے احساس ہوا کہ 7 دن کافی نہیں ہیں۔ یہی سوچ کر میں نے اپنا پروگرام شروع کیا۔“
اسلام آباد واپسی پر ماروی نے اپنے رضاکارانہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس پروگرام کا مقصد ایسا نصاب بنانا تھا جو کہ بچوں میں اختراع اور جدت پیدا کرے۔ اس پروگرام کے تحت آرٹ اور تعلیم کے دو شعبے بنے گئے۔ ان دو شعبوں کے لئے رضاکاروں کی باقاعدہ بھرتی کا آغاز ہوا۔ ان رضاکاروں کے ساتھ ماروی مسگار واپس آئی۔ یہاں واپسی پر ماروی کو رہائش کا مسلہ در پیش تھا۔ یہ تلاش اس کو صحت رحیم تک لے گئی جو کہ مسگار وائلڈ لائف سوسائٹی کے ممبر ہیں۔ صحت نے ماروی کو یقین دلایا کے وہ اس کی رہائش کا بندوبست کر دیں گے۔ ماروی اور ان کے 8 رضاکاروں کو ایک بیڈروم کا ہٹ، جو سیب اور خوبانی کے درختوں میں گھرا ہوا تھا، دے دیا گیا۔ اس ہٹ کا کرایہ 2500 روپے تھا۔ 2500 روپے! جس میں اسلام آباد میں آپ ایک لان کا سوٹ بھی مشکل سے خرید سکتے ہیں۔ یہ ہے سادگی مسگار کی۔ ماروی اور رضاکاروں نے اپنا سامان ہنزہ سے خریدا اور اس ہٹ سے اپنے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔
مسگار اور ہٹ کی خوبصورتی سے انکار ممکن نہیں لیکن شہر کی ایک لڑکی کے لئے یہ ایک بہت بڑی تبدیلی تھی۔ کہاں تو گھر میں ماں کے ہاتھوں کا ناشتہ تھا اور کہاں یہاں گھر سے میلوں دور لکڑیوں پر کھانا پکانا تھا۔ گرم پانی کی سہولت کے فقدان میں اپنے اور اپنے رضاکاروں کے لئے پانی گرم کرنا روز کا معمول بن گیا۔
مسگار آنا اور یہاں رہنا آسان نہیں تھا۔ سچ یہ ہے کہ کئی دفع میرا دل چاہا میں گھر واپس بھاگ جاؤں۔ ٹھنڈے پانی سے برتن دھونا اور منجمد ہاتھوں کو برداشت کرنا آسان نہیں تھا۔ مجھے اپنے گرم گھر اور ہیٹر کی یاد آتی تھی۔ لیکن واپس جانے کی خواہش مسگار اور اس کے بچوں کے لئے محبّت سے گہری نہیں تھی۔
ماروی کا مقصد مسگار کے بچوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ الگ نہیں بلکہ ملک کے دھارے میں شمولیت کی پوری اہلیت رکھتے ہیں۔ ماروی اور ان کے رضاکار بچوں میں یہ اعتماد پیدا کرنے کی کوسشش کر رہے ہیں کہ وہ اتنے ہی اہم اور قابل ہیں جتنے کسی بڑے اور ترقی یافتہ شہر کے بچے۔ مسگار کے بچوں کے لئے ماروی نے مواقع کی ایک دنیا کھول دی ہے۔ وہ ان بچوں کو وہ پڑھا رہی ہے جو شاید کوئی کتاب نہیں پڑھا سکتی۔ وہ بچوں کو تصور کرنا سکھا رہی ہے سوچنا سکھا رہی ہے۔ مسگار سے آگے کی دنیا دکھا رہی ہے ماروی شاید مسگار سے ایک دن چلی جائے گی لیکن ان بچوں کی دنیا ہمیشہ کے لئے بدل کر۔