پاکستانی سیاستدانوں کے پرانے ہتھکنڈے
- تحریر سید شاہد عباس
- جمعہ 31 / مارچ / 2017
- 5091
میلوں ٹھیلوں میں اکثر دوکاندار پرانے مال کو نیا روغن کرکے گاہکوں کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ سادہ لوح لوگ اس پرانے مال کو نیا سمجھ کر ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ بھولے سے کوئی اندھوں میں کانا راجا اگر پرانے مال پر سے روغن ہٹا کر پرانا مال دیکھ کر کچھ کہنے کی کوشش کرے تو اس کی آواز نقارخانے میں طوطی کی آواز سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ پرانے مال کو نیا بنا کر بیچنا اب میلوں ٹھیلوں سے ہماری عام زندگی میں بھی شامل ہو گیا ہے۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ پاکستان کی سیاست میں یہ رجحان تقویت پانے لگا۔ اور آج حال یہ ہے کہ پرانے گھاک کھلاڑی پاکستانی عوام کی امنگوں سے کھیلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
2013 میں عام انتخابات میں کامیابی کے بعد نواز لیگ نے وفاق میں حکومت بنائی، پنجاب میں اپنا اقتدار مضبوط کیا، بلوچستان میں قوم پرستوں کے ساتھ مل کر کرسئ اقتدار پہ قبضہ جمایا۔ گلگت بلتستان میں بھی نواز لیگ کی حکومت قائم ہو چکی ہے۔ صرف صوبہ خیبر پختونخواہ اور سندھ میں اپوزیشن جماعتیں اقتدار حاصل کر پائیں۔ سندھ میں ہمیشہ کی طرح پاکستان پیپلز پارٹی اور خیبرپختونخواہ میں پہلی مرتبہ اقتدار میں آنے والی پارٹی پاکستان تحریک انصاف نے حکومت قائم کی ۔
عام انتخابات کے بعد سے چار سال تمام پارٹیاں اسی طرح آپس میں دست و گریباں ہیں جیسے وہ ایک دوسرے کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گی۔ مگر حقیقت میں ان کی لڑائی ویسی ہی ہے کہ ‘اب کے مار کے دکھائیو‘۔ ایوان سے باہر توپوں کے دہانے ایک دوسرے کی طرف کھول دیئے جاتے اور ایوان کے اندر ایسے چپ سادھ لی جاتی رہی کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ پی ٹی سی ایل پنشنرز کے مسائل، سٹیل مل ملازمین کو تنخواہوں کی عدم فراہمی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، غیر معیاری منصوبہ جات، بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی، تعلیم کے مسائل، صحت کی دگرگوں صورتحال، صاف پانی کی فراہمی، نکاسئ آب اور اسی طرح کے دیگر بہت سے مسائل کی بجائے اپوزیشن کا سارا دھیان جمہوریت کی مضبوطی پر رہا اور چار سال بعد عقدہ کھلا کہ جمہوریت تو ابھی بھی بہت کچی ہے۔
اپوزیشن کا درجہ پارلیمان میں وفاق کی سطح پر پیپلز پارٹی کو ملا مگر پاکستان تحریک انصاف حقیقی اپوزیشن بن کر ابھری اور پاناما معاملہ سپریم کورٹ تک لے گئی۔ سب اس اقدام کی اہمیت کے قائل ہیں۔ چار سال تک پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز مفاہمتی کردار ادار کرتے رہے۔ ایوان سے باہر ایسا لگتا جیسے آج سب گریباں چاک ہوکے رہیں گے اور پارلیمان میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند۔ میثاق لندن کی رو سے اختیارات بانٹنا، باریاں لینا غیر اعلانیہ طور پر طے ہو چکا تھا جس کو مری معاہدے نے تقویت دے دی ۔ مگر اس کے باوجود بھولے عوام سمجھتے رہے کہ شاید دونوں پارٹیاں خود کو لگنے والے جھٹکوں سے عقل کے ناخن لے چکی ہیں۔ پہلے پانچ سال پیپلز پارٹی اپنی ہی راہنما کے قاتل پکڑنے میں ناکام رہی تو دوسری جانب نواز لیگ اقتدار کے پہلے چار سال ستو پی کر سوتی رہی ۔ اب جیسے ہی الیکشن قریب آرہا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب اور پاکستان مسلم لیگ نواز نے سندھ میں محاذ قائم کر لیا ہے۔ دوبارہ وہی نعرے سننے کو مل رہے ہیں۔ چار سال سڑکوں پر گھسیٹنے کے لیے شاید کم تھے، اسی لیے اب عوام سے مزید وقت مانگا جا رہا ہے۔
چار سال شاید لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لیے کم پڑ گئے کہ اب اگلی مدت کی خیرات مانگی جارہی ہے۔ دوسری جانب چار سال میں بھلا کیسے شہر قائد کا کچرا صاف ہو سکتا تھا اسی لیے تو دوبارہ سے کرسئ اقتدار کی طرف دیکھا جا رہا ہے۔ اب اقتدار ملے تو شاید شہید بے نظیر کے قاتلوں کو پکڑنے کی فرصت بھی ملے۔ اور اب تو نجوان بلاول بھی میدان میں ہیں، کچھ ہمدردی تو ان کے لئے بھی ہونی چاہئے۔ جو کرپشن چار سال میں نظر نہیں آئی اب وہ زرداری صاحب کو میاں صاحبان میں نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ اب پھر مائیک گرائے جائیں گے ۔ تاج پہلے سے ہی پہنائے جا رہے ہیں۔ آپ جناب سے بات دوبارہ سے تو تو میں میں تک پہنچ چکی ہے۔ الیکشن سے پہلے گڑھے مردے بھی نکالے جائیں گے۔
پاکستان کے عوام کو بت وقوف بنانے کی مکمل تیاری کر لی گئی ہے۔ آزمودہ نعرے دوبارہ سے مارکیٹ میں نیا روغن کرکے پھینک دیے گئے ہیں۔ کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی وہ زندہ ہی ہے۔ شیر چار سال کچھار میں آرام کرنے کے بعد دوبارہ سے واپس آ گیا ہے۔ حیرت تو عوام پر ہے کہ وہ کیسے ایک ہی بل سے باہر باہر ڈسے جاتے ہیں اس کے باوجود سبق حاصل نہیں کرتے۔ لوگ ہیں کہ پرانے نعروں پر پھر سے بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔ 2018 کے انتخابات تک یہ کھینچاتانی جاری رہے گی، پگڑیاں بھی اچھالی جاتی رہیں گی۔ اس کے بعد سب طوفان تھم جائے گا اور رسوا کئے جانے والے پھر سے قابل صد احترام ہو جائیں گے۔ کیوں کہ پاکستان میں ایسا ہوتا آیا ہے اور تبدیلی کے کوئی آثار بھی نہیں ہیں ۔