جمہوری حکمرانی کیسے مضبوط ہوگی
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 31 / مارچ / 2017
- 4699
پاکستان میں سیاسی اور جمہوری حکمرانی کا سوال ہمیشہ سے مختلف فریقین میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ اس وقت دنیا کی سیاست میں حکمرانی کے جو بھی نظام رائج ہیں ان میں جمہوری نظام کو دیگر نظاموں کے مقابلے میں فوقیت حاصل ہے ۔ اگرچہ جمہوری حکمرانی کے تضادات پر بھی بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں میں جمہوری حکمرانی کے نظام پر عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے ۔
جمہوری طرز فکر یا نظام اب کاروباری طبقات یا سرمایہ دار کے مفادات سے جڑی جمہوریت کی تصویر پیش کررہی ہے ۔ اس کارپوریٹ جمہوری نظام میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا یا متاثر عام آدمی یا کمزور طبقات ہوتے ہیں ۔ ایک مسئلہ سول ملٹری تعلقات کا بھی ہے ۔ اس نکتہ پر ہماری سیاسی اشرافیہ میں رائے عامہ تقسیم ہے ۔ ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ اس ملک میں سول حکمرانی کمزور ہونے کی بڑی وجہ فوجی مداخلت یا سیاسی حکومتوں میں فوج کا بڑھتا ہوا اثر نفوز ہے ۔ جبکہ دوسرا طبقہ اس مداخلت کو بڑا مسئلہ سمجھتا ہے۔ لیکن ساری خرابیاں محض فوج کی ہی پیدا کردہ نہیں بلکہ اس حمام میں ہماری سیاسی اور جمہوری قوتیں ، جماعتیں اور ان کی قیادت سمیت اہل دانش کا بھی کردار قابل تنقید ہے ۔ ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے دوسروں پر ناکامیوں کا بوجھ ڈال کر اپنے آپ کو بری الزمہ یا معصوم سمجھتے ہیں ۔ یہ رویہ مسئلہ کے حل میں بڑی رکاوٹ ہے ۔
پچھلے دنوں فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر سیاسی فریقین کے درمیان سیاسی تناؤ یا مسائل دیکھنے کو ملے ۔ اس میں ایک نقطہ نظر ہمیں سینٹ کے چیرمین رضا ربانی کا بھی سننے کو ملا ۔ رضا ربانی پاکستان کے سنیئر سیاست دان اور اچھی شہرت کے حامل شخص ہیں ۔ ان کی سیاست اور جمہوریت سے کمٹمنٹ پر بھی کوئی شبہ نہیں ۔ انہوں نے موجودہ سیاسی اور عسکری کشمکش کے تناظر میں چند سوالات اٹھائے ہیں۔ اول ان کے بقول سیکورٹی ریاست کے تصور نے پارلیمان کا کردار انتہائی محدود کردیا ہے ۔ دوئم تاریخی اعتبار سے دفاع، قومی سلامتی ، خارجہ اور ایٹمی شعبوں میں پالیسی سازی کے حوالے سے پارلیمان کا کردار محدود رکھا گیا ہے ۔ سوئم ان معاملات پر سو ل فوجی بیوروکریسی نے اپنی اجارہ داری برقرار رکھی ہوئی ہے جو اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ پارلیمان ایک غیر موثر ادارہ ہے ۔ چہارم سول فوجی بیوروکریسی کا مقصد زیادہ سے زیادہ اختیارات کا حصول تھا اور نوجوان نسل کو سیاسی عمل سے دور رکھا گیا ۔ پنجم نصابی کتب میں آمریت کو جمہوریت کے مقابلے میں زیادہ موثر نظام دکھایا گیا ہے ، جبکہ آئینی اور جمہوری تاریخ کے بارے میں کچھ بھی شامل نہیں ۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں اس وقت بھی جمہوری عمل اور جمہوریت اپنے ارتقائی عمل سے گزرہی ہے اور اس کی فوجی وجوہات کے علاوہ کچھ جمہوریت سے وابستہ جمہوری قوتوں کے داخلی مسائل بھی ہیں ۔ رضاربانی نے حالات کے تجزیہ کا محض ایک رخ پیش کیا ہے جو یقینی طور پر جمہوریت کے حامیوں کو تقویت دیتا ہے ۔ لیکن جمہوریت سے وابستہ افراد نے اگر واقعی ان سوالات کو سمجھنا ہے تو ان کو مزید گہرائی میں جانا ہوگا ۔ جو کچھ فوجی قوتوں نے کیا اس پر یقیناً ماتم ہونا چاہئے لیکن اس ماتم کو بنیاد بنا کر جمہوری قوتوں کے دعوے داروں کو کیسے معاف کیا جائے جو وہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے نام پر کرتے رہے ہیں ۔ اچھا ہوتا کہ رضا ربانی جیسا سنجیدہ سیاست دان تصویر کے دونوں رخ پیش کرتا لیکن سیاست میں مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں وہی سچ لگتا ہے جو ہمارے اپنے مفادات کو تقویت دیتا ہے ۔
جمہوریت کو خارجی محاذ سے یقیناً مسائل کا سامنا ہے لیکن اس کا مقابلہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب جمہوریت سے وابستہ لوگ اپنے داخلی مسائل کو بھی سمجھیں کہ ان کا طرز عمل اور فیصلے کیسے اس ملک میں جمہوری عمل کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ فوجی عدالتیں کسی بھی صورت میں جمہوری فریم روک میں درست نہیں ، لیکن اس پر تو رضا ربانی اور ان کے حامیوں کو حکومت سے احتجاج کرنا چاہئے جو گزشتہ دو برسوں میں فوجی عدالتوں کے مقابلے میں سول عدالتی نظام کو دہشت گردی سے نمٹنے کے تناظر میں مضبوط نہیں بناسکے ۔ حالانکہ نیشنل ایکشن پلان میں یہ نکتہ موجود ہے کہ حکومت دو برسوں میں عدالتی نظام کی اس انداز میں اصلاح کرے گی کہ دو برس کے بعد فوجی عدالتوں کی ضرورت باقی نہیں رہے گی ۔ اب بھی عدالتی نظام کی اصلاح میں حکومت یا جمہوری قوتیں کہاں کھڑی ہیں ایک سوالیہ نشان کے طور پر ہمارے سامنے موجود ہے ۔
جہاں تک پارلیمان کے کردار کے محدود ہونے کا سوال ہے ، یہ واقعی توجہ طلب مسئلہ ہے ۔ لیکن اس پارلیمان کے کردار کو سب سے زیادہ نقصان ہماری جمہوری قوتو ں نے پہنچایا ہے ۔ اس وقت بھی پارلیمان کو جس طرح خاندان کے انداز میں چلایا جارہا ہے، وہ خود جمہوری قوتوں اور پارلیمان کے ارکان کے لیے لحمہ فکریہ ہے ۔ لیکن کس حد تک پارلمیان کے ارکان ، پارلیمانی لیڈروں اور حکومت و حزب اختلاف نے اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیا یا کوئی ایسی حکمت عملی بنائی جو پارلیمان کے کردار کو مضبوط کرے ۔ اب بھی جو فیصلے پارلیمنٹ کی بجائے پارلیمنٹ سے باہر ہورہے ہیں اس پر ان ارکان کی خاموشی کو خود رضا ربانی کو کوئی نام دینا چاہئے ۔ پیپلز پارٹی ہویا مسلم لیگ ان دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت نے خود جان بوجھ کر پارلیمنٹ کے کردار کو محدود کرکے اپنی ذات کو طاقت میں بدلا ہے ۔ بدقسمتی سے ارکان پارلیمان نے اس مسئلہ پر مزاحمت کرنے کی بجائے ان بڑی جماعتوں کی قیادت کے سامنے شاہ سے زیاد ہ شاہ کی وفاداری نبھائی ہے ۔
رضاربانی کی قیادت میں پارلیمنٹ میں 18ویں ترمیم منظور کی لیکن اس ترمیم کے ساتھ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی یا صوبائی حکومتوں نے جو کچھ کیا ہے وہ بھی تنقید کے زمرے میں آتا ہے ۔ بنیادی طور پر جب خود جمہوری قوتیں داخلی سطح پر کمزور ہوں گی تو یقیناًاس کا فائدہ غیر جمہوری قوتوں کو ہی ہوگا ۔ یہ جو ہماری سیاسی قیادتیں اپنی جماعتوں اور سیاسی نظام کو مضبوط نہ کرنے کا اپنے اندر ایجنڈا رکھتی ہیں اس کا بھی ہمیں درست طور پر تجزیہ کرکے کسی نئی سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔ پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ ، پارلیمانی جماعتیں ، اسمبلی میں موجود اسٹینڈنگ کمیٹیاں ، کابینہ کیسے نظام کو چلارہی ہیں اس غلطی کا اعتراف کون کرے گا۔ عجیب بات ہے کہ جب ہماری سیاسی قوتوں کو اپنے اقتدارکے حصول کے لیے اسٹیبلیشمنٹ سے گٹھ جوڑ کرنا پڑے تو اس پر ہم خاموش ہوجاتے ہیں۔ یہ جو ڈیل کی سیاست اس ملک میں رائج ہے اس کے ذمہ دار اسٹیبلیشمنٹ اور سیاسی قوتیں دونوں ہیں ۔ دونوں نے ایک دوسرے کے مفادات کو تقویت دے کر یہاں حقیقی جمہوری نظام اور قانون کی حکمرانی کومذاق بنادیا ہے ۔
سیاسی فریقین یا اسٹیبلیشمنٹ دونوں طرف ایک دوسرے کو سمجھنے کا فہم کمزور نظر آتا ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنا یا شک کی نگاہ سے دیکھنے کا مزاج طاقت پکڑ چکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں دونوں طرف ایک دوسرے کے خلاف تحفظات کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔ سیاسی اورجمہوری قوتوں کی کمزوری کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ سیاسی مسائل کو سیاسی طور پر حل کرنے میں ناکام ہوئی ہیں اور بیشتر سیاسی فریقین مسئلہ کا حل بننے کی بجائے خود مسئلہ بن گئے ہیں ۔ رضا ربانی کا یہ کہنا کہ لوگوں کو جمہوریت سے متنفر کیا جارہا ہے ، ممکن ہے اس میں غیر جمہوری قوتوں کا بھی عمل دخل ہوگا لیکن جو کچھ اس ملک میں جمہوریت کے نام پر جو کھیل ہورہا ہے اس سے بھی نالاں ہیں ۔ نصابی کتب کی تبدیلی بھی حکومت سے جڑی ہوئی ہے ، جبکہ ہم اس ناکامی کی ذمہ داری بھی خود لینے کے لیے تیار نہیں ۔
اصولی بات یہ ہے کہ اگر جمہوری قوتیں خود کو مضبوط بنائیں گی اور اپنے طرز عمل کو صاف، شفاف اور جمہوریت اورقانون کی حکمرانی کے تابع کرکے خود کو عوامی مفادات کی سیاست سے جوڑیں گی ، تو نہ صرف ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی ، بلکہ غیر جمہوری قوتوں کو بھی موقع نہیں مل سکے گا کہ وہ جمہوری عمل کو کمزور کریں ۔